مسکراہٹوں میں خنجر چھپے ہیں!
2017 کے اوائل میں مجھے آزاد کشمیر کے علاقے ہجیرہ سے ایک صاحب کا فون آیا۔ وہ ہماری اکیڈمی کی فرنچائز لینا چاہتے تھے۔ میں نے انہیں اگلے ہی دن لاہور بلا لیا۔ معاملات طے ہوئے اور یوں ہجیرہ میں ایک تعلیمی ادارہ قائم ہوا، جہاں آج تقریباً بارہ سو طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔
ان 9 برسوں میں میرا اس ادارے کے مالک سے گہرا تعلق رہا۔ ہم کئی مرتبہ ان کے گھر، جو تیتری نوٹ میں واقع ہے، بھی گئے۔ بے شمار نشستیں ہوئیں، طویل گفتگوئیں ہوئیں۔ لیکن ایک بات ایسی تھی جو ہمیشہ مجھے چونکا دیتی تھی۔ وہ کسی جھجک کے بغیر کھلے عام کہتا تھا کہ اسے ریاستِ پاکستان سے نفرت ہے۔
وہ بار بار یہ مؤقف دہراتا کہ اگر 1948ء میں قبائلی عوام اور پاکستان کی فوج پیش قدمی نہ کرتے تو آج آزاد کشمیر ایک آزاد ملک ہوتا۔ اس کے مطابق پاکستان سے نفرت کوئی آج کی پیداوار نہیں بلکہ 1948ء سے چلی آ رہی ہے۔ وہ پاکستان کی فوج کو برا بھلا کہتا، پاکستان کے کسی احسان کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوتا، اور ریاستِ پاکستان کے خلاف اپنے جذبات کا برملا اظہار کرتا تھا۔
مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی تھی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے رہنما اور شہداء مثلاً محمد علی گیلانی، یاسین ملک، آسیہ اندرابی، میر واعظ عمر فاروق اور برہان وانی، ان کا نام لینے سے بھی وہ گریز کرتا تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ ان شخصیات کے ساتھ ”جیوے جیوے پاکستان“ کا نعرہ وابستہ تھا۔ اس وقت مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ شاید مقبوضہ کشمیر کے وہ ہیرو، جنہیں پاکستان اپنا سرمایہ سمجھتا ہے، ان آزاد کشمیر کے پہاڑی لوگوں کی نظر میں صرف اس لیے ناقابلِ قبول ہیں کہ وہ پاکستان کے حق میں آواز بلند کرتے تھے۔
میں تب بھی سوچتا تھا کہ یہ نفرت سطحی نہیں، بلکہ بہت گہری جڑیں پکڑ چکی ہے۔
یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جب ایسے نظریات رکھنے والے لوگ تعلیمی ادارے چلاتے ہوں، روزانہ کلاس روم میں بچوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہوں، تو وہ صرف نصاب نہیں پڑھاتے بلکہ اپنی سوچ بھی نئی نسل تک منتقل کرتے ہیں۔ آج سڑکوں پر جو بیانیے سنائی دے رہے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہوئے، بلکہ برسوں کی فکری تربیت کا نتیجہ ہیں۔
پاکستان کے لوگ ان آزاد کشمیر کے پہاڑیوں کے لیے کتنی ہی قربانیاں دیں، انہیں کم نمبروں کے باوجود کوٹہ پر اپنی جامعات میں تعلیم دیں، ملازمتوں کے مواقع فراہم کریں، کاروبار کے دروازے کھول دیں، انہیں پاکستان کے بڑے شہروں میں عزت، مقام اور معاشی مواقع میسر ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے والے، آپ کے ساتھ کھانا کھانے والے اور مسکرا کر ملنے والے یہ آزاد کشمیر کے پہاڑی دل میں آپ کے لیے، پاکستان کے لیے زہر رکھتے ہیں۔
شیکسپیئر نے کہا تھا:”There are daggers in the smile”
”مسکراہٹوں میں خنجر چھپے ہیں۔“
ایک بات پر میں خواجہ سعد رفیق سے بہت خوش ہوں
اگلے نے اتنے سال جھوٹا پراپاگینڈہ برداشت کیا
ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو والے معاملے پر اس پر تہمت لگائی اگلا این سی سی آئی اے گیا اور سارے جھوٹے رو رہے تھے دوڑ گئے
اس کے بعد کسی نے وہ بکواس نہیں کی
طریقہ ہی یہ ہے
ن لیگ کو مگر کون سمجھائے
جب میں نے خبر دی کہ سی ایم ایچ راولا کوٹ میں ایک ڈاکٹر نے زخمی کانسٹیبل کی مخبری کی اور کالعدم بلیک میل ایکشن کمیٹی کے درندوں نے اُس زندہ کانسٹیبل کی آنتڑیاں نکال کر مار دیا تو مجھے لندن سے دھمکیوں کی کالیں اور میسجز آنا شروع ھو گئے برطانیہ میں بیٹھے انڈیا اور را سے پیسے ہکڑ کر معصوم لوگوں کو تشدد پر اُکسانے والے یہ عناصر پاکستان خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں میں پاکستان سے لیکر لندن تک انکے خلاف کارروائی کروں گا انکو چھوڑوں گا نہیں .
بھکر میں سی سی ڈی مقابلے میں 7 سالہ بچی کا قتل اور اس پر خاموشی ہو یا ماڈل ٹاؤن میں 18 سالہ ملازمہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور بعد ازاں اسقاط حمل میں اسکی وفات پر مکمل چپ، اب ڈار فیملی کے چشم و چراغ کے کرتوتوں پر "سخت ایکشن" کی خیالی کہانیاں ثابت کرتی ہیں کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کے صوبے میں امیر اور غریب کے لیے قانون الگ الگ ہیں۔
ن لیگ اگر اس یوتھیے کے خلاف ایکشن نہیں لیتی تو حکومت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جب ایک جھوٹا فراڈیا مکار انسان حسنین ڈار کی تصاویر لگا کر اُنہیں رضا ڈار بنا رہا ہے اس جیسے جھوٹے اور فیک نیوز پھیلانے والے کے خلاف تگڑا ایکشن لیا ہوتا تو آج یہ جیل میں سڑ مر رہا ہوتا
اب اس کو پیکا (PECA) کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔جب یہ علی ڈار کے بھائی حسنین ڈار کو رضا ڈار بنا رہا تھا تو اس نے ایکس رے لے کر آ جانا۔ یہ بسنت کے معاملے پر جھوٹ بیچتے ہوئے بھی پکڑا گیا تھا۔
وادی کے کشمیری، ان لوگوں کو کشمیری مانتے ہی نہیں۔ امان ادریس اینڈ کمپنی کا مکو ہر حال میں ریاستی طاقت، سیاسی انتظام اور سماجی بندوبست سے ٹھپنا چاہیے۔ یہ حرامخور بدذات ثابت ہو رہے ہیں، اور آئندہ بھی ہونگے۔
حکومت نے حاتم تائی کی قبر کو لات مار دی،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت بڑی کمی۔
پیٹرول کی قیمت میں صرف 1 روپے 97 پیسے فی لیٹر کمی.
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی صرف 1 روپے 97 پیسے فی لیٹر کمی. ۔
بے شرمی ھی بے شرمی ھے۔
جو پاکستانی ترانے کے میوزک کو غیر شرعی کہہ کر احتراما کھڑے نہیں ہوئے تھے وہ اج ایرانی بینڈ کے میوزک پر با ادب پاؤں سے پاؤں ملائے تھرک رہے ہیں _
یہ پڑی امارات غیر اسلامی کی مرضی کی شریعت جو صرف دوسروں کیلئے ہے لیکن ان پر حرام ہے _
فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں موجود ہیں جبکہ آیت اللہ خامنائی کے بیٹے مجتبٰی خامنائی اسرائیل کے خوف سے جنازے میں شرکت نہیں کریں گے،
پھر بھی یہاں یوٹیوبرز ناچ ناچ کہ گھنگھرو توڑتے کہ جی بہادری ایرانیوں پر ختم ہے..!!
@mkw72@iamowaisnoorani@MaryamNSharif ان اجنبی درختوں کی وجہ سے ہمارے مقامی پرندے بھی ہم سے روٹھ گئے جو کہ مقامی flora سے مانوس تھے جیسے کیکر , شیشم , بکائن , نیم ، جامن شہتوت وغیرہ پتا نہیں کس مرکبِ جاہلیت نے ایسے مہنگے نمائشی درخت لگانے کا مشورہ دیا ہے جو ہمارے ماحول کے ہیں ہی نہیں ،ایکوسسٹم کے ساتھ کھلا کھلواڑ
سیدہ @MaryamNSharif خدا، رسول، قران کا واسطہ ہے یہ پام ٹری اور دیگر خارجی درختوں سے جان چھڑائیں۔ بیوروکریٹس یہ کام کر گزرتے ہیں۔ خزانے کا نقصان، رہتل کا نقصان، پرندوں کا نقصان۔۔۔ خارجی درخت بھی خوارج جیسا فتنہ ہی ہوتے ہیں۔ ان کا میدان ماحولیات ہوتا ہے
سر آپ ڈاکٹر ہے
مطلب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں
بھارتی پنجاب میں بجلی کی ماہانہ کھپت 5454 مکین یونٹس ہے
تو ایک 540 میگاواٹ کا پاور پلانٹ اتنی بجلی کیسے پیدا کر سکتا ہے؟
مفت دینا تو بہت بعد کی بات یے۔
بھگونت مان نے ایک سیاسی میٹنگ میں سیاسی بیان دیا
اور ہمارے لوگوں نے سچ مان لیا 😁
عوام دوست فلاحی ریاست ہوتی تو حمیدہ بی بی کے ٹیوشن سنٹر کی چھت کو درست کروایا جاتا، وہاں 400, 600 روپے دیکر پڑھنے والے غریب بچوں کو بہتر تعلیم کے مواقع فراہم کئے جاتے، ان کے والدین کے روزگار کے مسائل کے بارے میں سوچا جاتا۔۔۔ لیکن ہارڈ سٹیٹ میں ہر چیز کا علاج ڈنڈا ہوتا ہے۔۔۔
@SenatorMushtaq وطن عزیز میں فتنہ انتشار فساد پھیلانے والا ہر شخص حق پہ ہے ، متعصب قوم پرست قبلہ مشتاق انتشاری صاحب کے متعصبانہ انتشاری نظریات کی رو سے ،