@grok
آپ کا یہ پورا تھریڈ اور اس میں پیش کی گئی تمام سٹرکچرل تھیوریز اسٹیفن پی کوہن (Stephen P. Cohen) اور کرسٹوف جافریلو (Christophe Jaffrelot) کے ٹھوس تاریخی حقائق کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔
جافریلو، حمزہ علوی اور لاراں گیئر کے ادھورے اقتباسات کے پیچھے چھپ کر جس سٹرکچرل غلبے کو "انتظامی مجبوری" ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کا پول خود تاریخ نے کھول دیا ہے۔
مشہور ماہرِ سیاسیات اسٹیفن پی کوہن (Stephen P. Cohen) اپنی کتاب "دی آئیڈیا آف پاکستان" (The Idea of Pakistan) میں صاف لکھتا ہے: "The refugees thus gained control of the government, bureaucracy, and business" یعنی ہندوستان سے آنے والے پناہ گزینوں نے آتے ہی پاکستان کی حکومت، سول بیوروکریسی اور پورے تجارتی نظام پر یکطرفہ اور مکمل قبضہ قائم کر لیا تھا۔
یہ کوئی "شرحِ خواندگی کا میرٹ" نہیں تھا، بلکہ کرسٹوف جافریلو کی کتاب کے مطابق یو پی میں محض 13.4٪ آبادی کے باوجود 45٪ نوکریوں پر قابض رہنے والی اسی نوآبادیاتی مراعات یافتہ کلاس (Privileged Class) کا ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا بدترین ادارہ جاتی قبضہ (Institutional Capture) تھا۔
محض 80 سے 95 امپورٹڈ مسلم ICS افسران پر مشتمل اس مخصوص لسانی ٹولے نے پاکستان کی نوزائیدہ ریاست کے تمام کلیدی عہدوں پر قبضہ کر کے کروڑوں کی مقامی آبادی کے معاشی، سیاسی اور ثقافتی حقوق پر شب خون مارا۔
صرف ایک سندھی مسلم افسر (A.G.N. Kazi) کا نام پیش کر کے مقامی آبادی پر "کم علمی" یا "نمائندگی کی کمی" کا طعنہ دینا ایک انتہائی متکبرانہ سپیریارٹی کمپلیکس (Superiority Complex) کا مظہر ہے۔
سچ یہ ہے کہ 1947ء سے بہت پہلے، سندھی زبان کوئی عام مقامی بولی نہیں تھی بلکہ برطانوی راج میں عدالتوں، اسکولوں، ریونیو ریکارڈ اور دفتروں کی ایک مکمل فعال، ترقی یافتہ اور باقاعدہ نافذ العمل سرکاری زبان تھی۔ سندھ کے پاس اپنا ایک وسیع اور تعلیم یافتہ انتظامی طبقہ (Intelligentsia) موجود تھا، لیکن اس چند درجن افراد پر مشتمل امپورٹڈ بیوروکریٹک کلاس نے بند کمروں میں بیٹھ کر پالیسیاں اس طرح ڈیزائن کیں کہ مقامی سندھیوں کو دانستہ طور پر بیوروکریسی سے باہر نکال کر انہیں اپنے ہی وطن میں معاشی طور پر مفلوج کر دیا گیا۔
اردو کو زبردستی نافذ کر کے مقامی زبان کو صلب کرنا کوئی "نیوٹرل ایڈمنسٹریٹو کوہیشن" نہیں بلکہ ایک صریح لسانی آمریت تھی۔
1948ء کے کراچی فسادات اور ہندو پروفیشنلز کے جانے سے جو "اربن جیک پاٹ" خالی ہوا، اس پر قابض ہو کر خود کو شہروں کا بانی کہنا اور مقامی لوگوں کو احسان فراموش کہنا تاریخی بددیانتی ہے۔ کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں کی معیشت، بندرگاہ اور بنیادی ڈھانچہ یہاں کی مٹی اور مقامی لوگوں کے خون پسینے کا ثمر ہے۔ 1972ء کا سندھی زبان کا بل سندھ اسمبلی کا ایک جمہوری اور آئینی فیصلہ تھا تاکہ اس زبان کا جائز حق بحال کیا جا سکے جسے 25 سال تک جبر کے تحت دبایا گیا تھا۔ اس بل کے خلاف شہروں میں پرتشدد ہنگامے کرنا اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ شہری اشرافیہ مقامی ثقافت کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ ضم ہونے سے انکاری تھی۔
اسی طرح، رورل-اربن کوٹہ سسٹم کوئی تعصب یا ظلم نہیں تھا، بلکہ وسائل اور ترقی کے شدید ارتکاز کے خلاف ایک آئینی تحفظ (Affirmative Action) تھا۔ جب صوبے کے تمام بڑے اسکول، یونیورسٹیاں، صنعتیں اور روزگار صرف ایک یا دو شہروں میں مرکوز کر دیے جائیں، تو کوٹہ سسٹم ہی وہ واحد راستہ بچتا ہے جو پسماندہ دیہی اکثریت کو معاشی طور پر مٹ جانے سے بچا سکے۔ مسلح عسکریت پسندی، تشدد اور ٹارچر سیلز کی سیاست کو "مظلومیت اور بقا کی جنگ" کا رنگ دے کر آپ تاریخ کو مسخ نہیں کر سکتے۔ آپ ایک طرف ساختہ نوآبادیاتی امتیازات اور شہری مراعات کا پورا فائدہ بھی اٹھائیں اور دوسری طرف خود کو "بے ریاست اور مظلوم" بھی کہیں، یہ منافقانہ تضاد اب علمی اور تاریخی بحث میں نہیں چلے گا۔
Imagine losing a factual debate so horribly that you resort to screaming 'Karachi was never Sindhi!' to hide your tears. The 1941 census, the Jinnah Papers, and the very pages YOU posted completely dismantled your fairytale. Keep crying into the void while I enjoy the victory. 🤫🍿
بی بی! آپ کے فکری تکبر کا علاج تو خود تاریخ کے ان دستاویزی ثبوتوں میں موجود ہے جنہیں جھٹلانا آپ کے بس کی بات نہیں۔ ذرا ان حقائق کو غور سے پڑھیں:
قائد اعظم کا تاریخی بیان (جناح پیپرز، جلد 7): جنوری 1948 میں جب کراچی میں فسادات ہوئے، تو خود قائد اعظم محمد علی جناح نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مہاجرین کی طرف سے مقامی ہندوؤں کی املاک کو لوٹنے پر شدید دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں وارننگ دی تھی کہ 'مہمان نوازی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے'۔ یعنی جس شہر کو آپ نے 'بنایا'، وہاں آتے ہی مقامی امن کو تباہ کر کے جائیدادوں پر قبضے کیے گئے، یہ ہم نہیں خود بانیِ پاکستان فرما گئے تھے۔
پاپولیشن سوآپ نہیں، جائیدادوں پر قبضے: تاریخ گواہ ہے کہ سندھی ہندو امن پسند تھے اور یہیں رہنا چاہتے تھے، لیکن جنوری 1948 کے منظم فسادات اور لوٹ مار کے ذریعے انہیں زبردستی یہاں سے ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ اس کے بعد 'ایویکیو پراپرٹی اسکیم' کے تحت جعلی اور بوگس کلیمز بنا کر اربوں روپے کے وائٹ کالر کرائم کے ذریعے مقامی جائیدادوں، دکانوں اور مکانات پر غیر قانونی قبضے کیے گئے۔ آپ کوئی خالی میدان آباد کرنے نہیں آئی تھیں، بلکہ بنے بنائے شہر کے وسائل پر قابض ہوئی تھیں۔
اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھی سیاست: آپ جو یہ بڑے بڑے دعوے کر رہی ہیں، آج کل آپ کی پوری قیادت اسی پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے ڈنڈے اور اشاروں پر پلے کارڈ اٹھائے گھوم رہی ہے جو سندھ، بلوچستان اور کے پی کے (KPK) کے وسائل ہڑپ کر رہی ہے۔ اگر آپ کے بزرگ اتنے ہی لائق اور پیدائشی امیر تھے، تو وہ تقسیم کے بعد دیہی اضلاع یا دیہاتوں میں آ کر کیوں نہیں بسے؟ وہ سیدھے کراچی کے بنے بنائے انفراسٹرکچر، ہسپتالوں اور سرکاری نوکریوں پر اس لیے جھپٹے کیونکہ وہاں پکا پکایا حلوہ تیار تھا اور بھارت میں ان کے پاس کٹ تھروٹ مقابلے (Competition) کا سامنا کرنے کی سکت نہیں تھی۔
اگر اجداد کی مہمان نوازی اور اس مٹی کے احسان کا بدلہ حقارت اور تکبر سے دینا ہے، تو پھر تاریخ کا یہ آئینہ دیکھنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
@grok
Imagine being so desperate to gatekeep Karachi’s universities that you turn into a defense lawyer for the British Raj.
Let’s look at the actual history and throw some undeniable facts right at this colonial-worshipping narrative.
@WajihSani and his supporters are trying to minimize @Shehzad89 point by quoting basic institutional trivia, completely confusing colonial administrative rulers with the actual financial founders and owners of these lands.
Let’s fix your broken history lesson point by point:
1. The Colonial Timeline & The "Fear" Myth:
The British occupied India for 190 years (1757–1947).
They didn’t build universities based on "favoritism" or "fear" of Sindh; they built them where their major administrative presidency capitals were.
Their first three universities were established in Calcutta, Bombay, and Madras in 1857 decades before Punjab University (1882).
Because Sindh was administratively tied to the Bombay Presidency, its higher education system was legally tied there.
2. Who Actually Paid for Sindh’s Colleges?
British officers signed the administrative charters, but local Sindhi wealth and taxpayers built the brick and mortar:
NED University: Wajih notes it was built for training engineers for the Sukkur Barrage. But why is it called NED? Because a local Parsi philanthropist, Nadirshaw Edulji Dinshaw’s family, stepped up with a massive Rs. 150,000 donation.
The British gave the license; local Sindh-resident wealth built the walls.
D.J. Sindh College: Lord Dufferin laid a foundation stone, but local Sindhi Hindus Dayaram Jethmal and Bulchand Dayaram had to pay Rs. 25,000 out of their own pockets to make the institution functional.
Dow Medical College (DMC): Keyboard historians love pointing out that "Dow" is named after Sir Hugh Dow. Yes, he was a British Governor.
But did Sir Hugh Dow fund the college out of his personal British bank account? No. It was fully funded by the Government of Sindh and local taxpayers in 1945.
By this exact, brainless logic, half of London belongs to Italy today because the Roman Empire laid the foundational layout of the city.
The British were occupiers who extracted wealth from this region. They didn't "gift" us higher education out of charity. They took local tax money, combined it with massive donations from local Sindhi philanthropists, and established infrastructure on Sindhi soil, for the people of Sindh.
Trying to weaponize colonial names to justify modern, racist, and lisaniyat-driven gatekeeping against Sindhi students studying in their own province's capital isn’t just historically illiterate it's pathetic. Shehzad Ghias is 100% correct, and no amount of wiki-skimming can erase local Sindhi ownership of these institutions.
Historically Muhajirs were subject to the rule of Central Asian and Pashtun dynasties rather than establishing their own local rule and currently you people remain subordinate to the Punjabi establishment @bannedwarrior1
You selectively picked OGDCL, Mari, and a few Punjab-based textile plants to create a narrative, but you completely ignored the massive corporate elephants in the room that prove my point exactly. Let’s look at the actual receipts you chose to hide:
The Corporate Giants Generating Billions in Interior Sindh: You completely ignored Engro Fertilizers and Lucky Cement, both headquartered in Karachi. Where do they make their trillions? Engro runs the world's largest single-train urea plant in Daharki (Ghotki, Interior Sindh). Lucky Cement’s massive, primary manufacturing hub is in Nooriabad/Jamshoro (Interior Sindh). Al-Noor Sugar and the massive Omni Group mills operate entirely across the agricultural fields of interior Sindh. Their heavy industrial production, environmental footprint, and resource extractions happen on provincial soil, yet their multi-billion rupee corporate income taxes are filed and registered right under LTO Karachi. This is the literal definition of the HQ effect.
The 12,000 Factories Fallacy: You bragged about the 12,000+ factories in SITE, Korangi, and North Karachi, but you completely missed basic industrial physics: What powers them? Sindh produces roughly 50% of Pakistan’s natural gas. The gas that keeps the boilers, captive power plants, and machinery running in those 12,000 Karachi factories doesn't fall from the sky it is piped directly from massive fields in interior Sindh like Kandhkot, Khairpur, and Gambat. Without the raw energy extracted from the rest of Sindh, Karachi’s grand industrial zones would fall completely dark and silent within 24 hours.
The Export Supply Chain Blindspot: You are using a 'Top 100 Exporters List' that is completely dominated by textiles and garments (like Gul Ahmed, Soorty, and Artistic Milliners) to claim interior Sindh doesn't contribute. Where do you think the raw cotton for those Karachi finishing mills comes from? It is grown, picked, and processed by rural workers across the agricultural belts of Sindh and Punjab. Karachi doesn’t have cotton fields. You cannot brag about exporting a finished shirt while erasing the entire agricultural backbone that produced the raw material.
The FBR Port Cash Register Myth: You quoted the Rs2.54 trillion statistic as if it represents local urban productivity. Every economist knows that FBR collection figures in Karachi are heavily inflated because it includes Customs Duty, Sales Tax, and Withholding Tax collected at Karachi Port and Port Qasim. When a business in Lahore, Faisalabad, Peshawar, or Quetta imports raw materials or heavy machinery, the import tax is collected and registered in Karachi. That isn't Karachi paying tax; that is Karachi acting as a national customs cash register for goods consumed by the entire country.
No one is denying Karachi’s role as the financial capital and a massive employment hub. But trying to argue that Karachi is an isolated island independent of the resources, energy, and raw materials of the rest of the province is not just arrogant it’s economically illiterate.
May allah curse liar because even the teacher of Muhammad ibn Abd al-Wahhab was a Sindhi and many Sindhi narrators studied under Imam Ja'far al-Sadiq Both Sunnis and Shias of Sindh built a proud Islamic heritage ruling as native sovereigns unlike ims who served Mughal as slaves
It was Sindhi Hindus who first initiated educational institutions in Karachi. And if I talk about your point that Hugh Dow laid the foundation stone, which was later brought to fruition by Dr. Hemandas R. Wadhwani, don’t diminish the contributions of others who gave life to the project. It would be unfair to give all the credit to someone who merely laid the foundation stone.
The hypocrisy is staggering. You lecture others about 'creating divide' while actively welcoming replies from faceless accounts with barely any followers openly calling to partition the province ('Karachi needs to be separated').
You didn't call out that actual attempt to divide Sindh because it suits your narrative. This proves your issue isn't with fake accounts or polarization; your issue is that you completely ran away from the verified, documented history of the 1908 Muslim League and the 1943 Sindh Assembly resolution on the other thread. You ignore hard facts, deflect onto profile pictures, and tolerate actual divisive rhetoric when it aligns with your politics.
پرویز مشرف جیسے غدارِ آئین کے بعد اب موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کھلم کھلا چاپلوسی کرنا اور ان کے پیچھے چھپ کر 'انتظامی اصلاحات' کا چورن بیچنا آپ کی فکری پستی اور بوٹ چاٹنے والی ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے؛ آخر جنرل عاصم منیر کو یہ آئینی حق کس نے دیا ہے کہ وہ سندھ کے انتظامی ڈھانچے یا صوبائی معاملات کے فیصلے صادر کریں؟ آئینِ پاکستان کے تحت یہ اختیارات صرف منتخب پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے پاس ہیں، کسی وردی والے کے پاس نہیں، لیکن تم جیسے جمہوریت کے قاتلوں کے پٹھو ہمیشہ بیساکھیوں کے سہارے ہی اپنی عصبیت کی سیاست چمکاتے ہیں۔
آپ کا یہ دعویٰ کہ کراچی والے مشرف سے اس لیے محبت کرتے تھے کیونکہ اس نے وڈیرہ شاہی کا خاتمہ کیا، تاریخ کے سب سے بڑے جھوٹ اور ذہنی پسماندگی کا ثبوت ہے؛ مشرف وہی شخص تھا جس نے 12 مئی 2007 کو کراچی کی سڑکوں پر معصوم شہریوں کا خون بہانے والی دہشت گرد مافیا کی سرپرستی کی تھی۔
آپ جو دوسروں کو 'قبائلی یا جاہل' کہہ کر طنز کر رہے ہیں، آپ کی اس نسل پرستانہ عصبیت کا جنازہ خود تاریخ کے حقائق کھول رہے ہیں کہ کس طرح جنوری 1948 میں روزنامہ 'انقلاب' کی سرخیوں کے مطابق کراچی میں فسادات برپا کر کے غریب سندھی ہندوؤں کی املاک پر زبردستی قبضے کیے گئے اور بوگس کلیمز کے تحت الاٹمنٹس کی گئیں۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کا اپنا آفیشل ریکارڈ (Jinnah Papers Vol. 7) گواہ ہے کہ 9 جنوری 1948 کو انہوں نے خود کراچی کا دورہ کر کے مہاجرین کو مقامی لوگوں کی مہمان نوازی کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور لوٹ مار سے باز رہنے کی سخت وارننگ دی تھی۔ اصل قبضہ مافیا وہ ذہنیت ہے جو صدیوں پرانی دھرتی کے حق کو تسلیم کرنے کے بجائے خود کو اس کا اکیلا وارث سمجھ بیٹھتی ہے۔ قابلیت اور ترقی پسندی کسی جرنیل کی خیرات یا مخصوص شہر کے تعصب کی محتاج نہیں ہوتی۔ تعصب پھیلا کر ملک میں انتشار پیدا کرنے کا یہ گندا کھیل بند کرو، کراچی صدیوں سے سندھ کا دل تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا!
جو لوگ ہر وقت میرٹ کا رونا روتے ہیں، جب MDCAT میں 💯 میرٹ کا نتیجہ آیا تو اب اسی پر رو رہے ہیں!
ہر جگہ انہیں اپنا ناجائز حصہ چاہیے—یہ تو ان کی تاریخی عادت بن چکی ہے۔
بغض سندھی چھوڑ کر تھوڑی محنت اور غیرت کرتے تو کم از کم سی ایس ایس کے امتحانات میں کچھ کر لیتے جہاں پنجابیوں سے لڑ کے چند سندھی اور بلوچ نوجوان تو پاس ہوتے ہیں مگر کراچی کا نوجوان ٹاپ 150 میں بھی جگہ نہیں بنا پاتا۔ شرم کرو
سی ایس ایس پر تو نہیں بھونکے کیوں، وہاں پنجابی ہے اس لئے؟
ادھر ادھر کی ٹویٹس پر لیسانی مسکراہٹیں بکھیرنے اور سستے طعنے دینے کے بجائے ذرا اس اصل تھریڈ پر آ کر دستاویزی تاریخ کا جواب تو دو 😂! یا جب اپنے ہی لائے ہوئے کے ایم منشی کے اسکرین شاٹ نے سائیں جی ایم سید کی غیرتِ ایمانی ثابت کر دی اور بانیِ پاکستان قائدِ اعظم کے خلاف تمہارا کانگریسی بغض ننگا کر دیا، تو تمہاری ساری لیسانی اکڑ ہوا ہو گئی؟جب ٹھوس حقائق اور آئین کا سامنا ہو، تو تم جیسے کی بورڈ واریئرز کی بولتی ایسے ہی بند ہوتی ہے۔ ہنستے رہو اور فرضی طعنے دیتے رہو،
https://t.co/eU9zJhEmE2
کتاب کے صفحے کا آدھا حصہ کاٹ کر اور سائیں جی ایم سید کے صوفیانہ ظرف کو لیسانی نفرت کا رنگ دے کر تاریخ کو مروڑنے کی یہ بھونڈی کوشش بری طرح پٹ چکی ہے! آؤ اسی تصویر کے نیچے چھپے ہوئے سچ سے تمہاری علمی جہالت کا پورا پوسٹ مارٹم کریں.
اسماعیل شہید کا ذکر: جو تصویر تم نے خود اپلوڈ کی ہے، اس کے نیچے والے حصے پر ذرا اپنی اندھی آنکھیں کھول کر یہ سطریں پڑھو: "History bears witness that you have sent, in the past, such gentlemen as Sayed Brelvi and Ismail Shaheed for the above purposes"۔ سائیں جی ایم سید یہاں مسلمانوں کے جس مجاہدانہ جذبے اور جہادِ بالاکوٹ (1831ء) کا حوالہ دے رہے ہیں، اس کا 1947 کی لیسانی ہجرت یا یو پی کی لیسانی سیاست سے دور دور تک کوئی نسلی تعلق نہیں تھا! وہ ایک وسیع تر اسلامی، فکری اور نظریاتی بھائی چارے کے تحت قربانیوں کا اعتراف کر رہے تھے، جو ایک صوفی اور عظیم لیڈر کے ظرف کی نشانی ہے۔ اس کو اپنی لیسانی مافیا کے کھاتے میں ڈالنا علمی دیوالیہ پن ہے۔
تحریک کا اعتراف احسان نہیں ہوتا:
جی ایم سید کا یہ کہنا کہ "صرف قراردادیں پاس کرنے اور کاغذی پراپیگنڈے سے آزادی نہیں ملتی"، ان کی سیاسی بصیرت کا ثبوت تھا کہ وہ ایک حقیقی، مضبوط اور جغرافیائی طور پر آزاد ملک قائم کرنا چاہتے تھے، محض زبانی دعوے نہیں۔ اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے تحریک کو عوامی طاقت دی، لیکن اس نظریے کو ایک حقیقی ملک، جغرافیہ، معیشت، بندرگاہ اور خودمختار اسمبلی صرف اور صرف سندھ دھرتی نے 3 مارچ 1943 کی پہلی قرارداد پاس کر کے دی تھی! اگر سندھ اپنی زمین اور اسمبلی کا آئینی قانونی راستہ نہ دیتا، تو اقلیتی صوبوں کے ووٹ صرف کاغذ پر ایک مطالبہ بن کر رہ جاتے۔منافقت کا طعنہ دینے والے اپنی تاریخ دیکھیں: تم سائیں جی ایم سید کو منافق کہہ رہے ہو؟ سائیں جی ایم سید نے خود ہندوستان کے مسلمان تاجروں اور بیوروکریٹس کو سندھ آنے کی دعوت دی تھی، لیکن یہاں آنے کے بعد دھرتی پتروں کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے ایک مخصوص فاشسٹ گروہ نے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کی گود میں بیٹھ کر کلاشنکوف کلچر، بوری بند لاشیں، اور 12 مئی کے خونی سانحات متعارف کروائے اور دھرتی ماں کے وسائل پر وفاقی قبضے کے مہرے بن گئے! نظریاتی مایوسی تب پیدا ہوتی ہے جب پناہ لینے والے دھرتی کو توڑنے کی سازشیں شروع کر دیں
UndividedSindh #SindhIsOne #KarachiIsSindh #Article239 #SindhHistory
Yet this extraordinary temple was actually built on the ashes of an older temple, burnt in 480 BC by an army that included men from Punjab, Sindh and the Khyber.