𝐃𝐞𝐚𝐫 𝐅𝐞𝐥𝐥𝐨𝐰 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧𝐢𝐬!
Today, on the second anniversary of our 2024 general elections, as shutters come down across the nation in a collective call for justice, let us pause and reflect on the soul of our democracy. Two years ago, millions of you stepped forward with hope, casting votes that embodied your dreams for a stronger, fairer Pakistan. Yet, persistent questions about the process, manipulation and irregularities, rigging and theft of the people's mandate by 𝑴𝒊𝒍𝒊𝒕𝒂𝒓𝒚 𝑬𝒔𝒕𝒂𝒃𝒍𝒊𝒔𝒉𝒎𝒆𝒏𝒕 have cast a shadow over that sacred exercise, leaving feelings of 95 % public of Pakistan unheard and disenfranchised.
This strike is not just a protest, it is a reminder that our nation's strength lies in the will of its people, not in the corridors of power (𝗚𝗛𝗤). We must stand united, not divided by partisan lines, but bound by our shared love for Pakistan. Let us demand transparency, accountability, and reforms that ensure every vote counts, free from interference, whether real or perceived.
But let our voices rise peacefully. Violence has no place in our pursuit of truth. Instead, let us channel this energy into supporting independent inquiries, return of stolen mandate and working towards electoral laws that safeguard our future generations.
Dear Pakistanis, we have overcome greater trials before. Together, we can reclaim our democracy, heal our divides, and forge a path where justice prevails for all.
Stay resilient, stay united.
𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻 𝗭𝗶𝗻𝗱𝗮𝗯𝗮𝗱!
𝗧𝗲𝗵𝗿𝗲𝗲𝗸-𝗲-𝗜𝗻𝘀𝗮𝗳 𝗭𝗶𝗻𝗱𝗮𝗯𝗮𝗱 🇧🇫
#بند_مطلب_بند
#فوکس_8فروری_سب_بند
#February8thShutterDown
عمران خان بیمار، قید تنہائی میں 🚨
عمران خان بیمار، قید تنہائی میں 🚨
عمران خان بیمار، قید تنہائی میں 🚨
عمران خان بیمار، قید تنہائی میں 🚨
عمران خان بیمار، قید تنہائی میں 🚨
عمران خان بیمار، قید تنہائی میں 🚨
عمران خان بیمار، قید تنہائی میں 🚨
عمران خان بیمار، قید تنہائی میں 🚨
بریکنگ نیوز 🚨: پاکستانی عام انتخابات 2024 سے متعلق BBC کی رپورٹ جاری۔ کھل کر اسٹبلیشمنٹ کو بے نقاب کر دیا۔ فوج کے ملوث ہونے کے ثبوت دُنیا کو دیکھا دیے۔ انتخابی نشان چھین لینے اور عمران خان کو جیل میں ڈالنے کے باوجود بھی عام انتخابات میں پاکستان فوج اپنی مرضی کے نتائج حاصل نہ کرپائی ، پھر مرضی کے نتائج کیلئے بدترین دھاندلی کرنا پڑی 🔥
جب تک عمران خان صاحب کی رہائی نہیں ہو جاتی اس ویڈیو کو روز شئیر کیا جائے گا۔
حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ، سقوطِ ڈھاکہ اور ہماری تاریخ کے تلخ حقائق
حمود الرحمٰن کمیشن جولائی 1972 میں حکومتِ پاکستان نے قائم کیا، جس کی سربراہی چیف جسٹس حمود الرحمٰن نے کی۔ اس کمیشن کا مقصد پاک فوج کے مظالم اور 1971 کی جنگ کے دوران کے حالات کا مکمل جائزہ لینا تھا، بشمول وہ عوامل جن کی وجہ سے مشرقی ہائی کمان کے کمانڈر نے اپنی کمان میں موجود مشرقی دستے کی افواج کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔
کمیشن کے پہلے حصے میں پاک فوج کے مشرقی پاکستان میں تعینات جرنیلوں اور ان کے ماتحت فوجی جوانوں کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ذکر کیا گیا۔ اس میں جنرل نیازی کی پان سمگلنگ، ریپ، کوٹھے چلانے والی خواتین سے جنسی تعلقات اور انہیں بطور مخبر استعمال کرنے جیسے معاملات سامنے آئے۔ مزید برآں، مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے رشوت لے کر فیصلے کرنے اور میجر جنرل جمشید سمیت مختلف جرنیلوں اور سینئر افسران کے کروڑوں روپے مشرقی پاکستان کے بینکوں سے لوٹ کر مغربی پاکستان منتقل کرنے کا ذکر بھی شامل تھا۔
کمیشن نے ان سینئر فوجی قیادت کے ان غیر قانونی کاموں پر کھلے عام ٹرائلز اور سزاؤں کی سفارش کی، کیونکہ یہ سقوطِ ڈھاکہ سے قبل مشرقی پاکستان میں حالات کی خرابی کی بڑی وجوہات میں شامل تھے۔ دوسرے حصے میں پاک فوج کے مظالم کے کچھ واقعات بیان کیے گئے، جن میں 1971 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کی بھاری اکثریت کے باوجود جنرل یحییٰ خان کے حکم پر اسمبلی کا اجلاس مؤخر کرنا، عوامی لیگ کی مسلح بغاوت کی بنیادی وجہ بنا۔
اس بغاوت کو ختم کرنے کے لیے پاک فوج نے 25 مارچ کی شب بدنامِ زمانہ آپریشن سرچ لائٹ کا آغاز کیا۔ اس آپریشن میں قتل و غارت، آتش زنی، دانشوروں اور پیشہ ور افراد کا قتلِ عام، مشرقی پاکستان کے فوجی افسران کا قتل، کاروباری افراد کا صفایا، ہندو اقلیتوں کی نسل کشی، اور بے شمار بنگالی خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی جیسے واقعات پیش آئے۔ اس دوران، ہزاروں افراد کو اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ جنگ کے اختتام تک جاری رہا۔
25 مارچ کی رات اسلحے اور بارود کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے دو ہاسٹلز پر مارٹر گولے برسائے گئے، جس سے سینکڑوں طلبہ ہلاک ہوئے۔ پاک فوج کے جونیئر افسران نے لوٹ مار، فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے عوامی قتلِ عام، بنگالی افسران اور عام لوگوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے اغوا اور قتل کرنے جیسے سنگین جرائم انجام دیے۔
کمیشن کے تیسرے حصے میں پاک فوج کی سینئر قیادت کی بزدلی، ناقص حکمت عملی، اور غلط فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا گیا۔ جنرل نیازی کی دفاعی ناکامی، میجر جنرل م رحیم کی مکتی باہنی کے خوف سے اپنے ہی فوجیوں کو چھوڑ کر بھاگنے کی بزدلی، میجر جنرل باقر صدیقی کی بار بار ہتھیار ڈالنے کی درخواست اور غداری جیسے معاملات کمیشن کی رپورٹ میں شامل کیے گئے۔
کمیشن کے چوتھے حصے میں سقوطِ ڈھاکہ کی بنیادی وجوہات بیان کی گئیں، جن میں جنرل یحییٰ کا اسمبلی اجلاس مؤخر کرنا، فوجی آپریشن کا آغاز، شیخ مجیب الرحمٰن سے مذاکرات میں ناکامی، عوامی لیگ کے امیدواروں کا غیر شفاف انتخاب، اور سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکامی جیسے سنگین فیصلے شامل تھے۔ ان تمام عوامل کے باوجود، پاکستان کے اتحادی ممالک کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمٰن سے مذاکرات نہ کرنا اور ہندوستان کی مداخلت کو کم تر سمجھنے کی وجہ سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔
رپورٹ کے آخر میں جنرل نیازی کی بزدلی کی انتہا کو نمایاں کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ ہتھیار ڈالنے کا کوئی باضابطہ حکم نہیں تھا اور وہ مزید دو ہفتے تک لڑ سکتے تھے، لیکن اس کے باوجود ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے گئے، جو آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔
آخر میں، کمیشن نے قرار دیا کہ پاکستان کی شکست کی بنیادی وجہ پاک فوج کی سینئر قیادت کی اخلاقی گراوٹ اور جرات کی کمی تھی۔ مسلسل دو بار مارشل لا لگنے کے نتیجے میں فوجی افسران بڑے پیمانے پر غیر قانونی زمینوں پر قبضہ، جائیدادیں بنانے، اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے، جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جنگی حوصلہ ختم ہو چکا تھا۔
کمیشن نے جنرل یحییٰ خان، جنرل نیازی، اور جنرل خداداد کو اس سانحے کے سب سے بڑے مجرم قرار دیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی
@ProfessorPTI
اسلام آباد قتل عام کی ڈاکیومنٹری
#نومبر26_نہیں_بھولیں_گے نہ بھولنے دیں گے!
ساتھ لاکھ فوجیوں نے مجبوری سمجھ کر اتنے بڑے سانحے کو نظر انداز کیا- یہ کیسی اللہ کی فوج ہے جو اللہ کے بندوں کو گولیاں مار کر قتل کرتی ہے اور کوئی ادارے میں سے پوچھنے والا نہیں کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟
بریکنگ نیوز 🚨: مطیع اللّٰه جان گولیاں چلنے کے سرکاری ثبوت منظر عام پر لی آئے 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
مطیع اللّٰه جان 26 نومبر کو فائرنگ سے زخمی ہونے والے کارکنوں کا سرکاری ہسپتالوں کا ڈیٹا منظر عام پر لے آئے، جبکہ 27 نومبر کا ڈیٹا ابھی تک غائب ہے جس کو حاصل کرنے کے وقت مطیع اللّٰه جان اور ثاقب بشیر کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
“میں یہ جنگ تمام پاکستانیوں کیلئے لڑ رہا ہوں، چاہے مزدور طبقہ ہو، کسان، ریڑھی بان ہو، پروفیشنل ہو، استاد یا وکیل ہو ، سرکاری ملازم، پولیس والا ہو یا فوج میں ہو، یہ ہم سب کے حقوق کی جنگ ہے۔ کیونکہ ہمارا ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے“
کپتان عمران خان
عمران خان کو قوم کے سامنے لایا جائے 🚨
عمران خان کو قوم کے سامنے لایا جائے 🚨
عمران خان کو قوم کے سامنے لایا جائے 🚨
عمران خان کو قوم کے سامنے لایا جائے 🚨