یہ واقعہ ہے شہزاد انجم کا، جو ایک بین الاقوامی ادارے میں پروونشل لیڈ کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک آفیشل میٹنگ کے سلسلے میں کراچی گئے ہوئے تھے اور رات 9 بج کر 15 منٹ پر پرواز کے ذریعے واپس لاہور پہنچے۔ ایئرپورٹ سے اپنی رہائش گاہ جانے کے لیے انہوں نے ان ڈرائیو (InDrive) ایپ کے ذریعے ایک ٹیکسی بک کی، جس کی گاڑی ٹویوٹا یارس، کالا رنگ اور رجسٹریشن نمبر ABH-358 تھی۔
رائیڈ بک ہونے کے فوراً بعد ڈرائیور نے ان کا فون نمبر مانگا، جو ایپ کی چیٹ میں دے دیا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد ڈرائیور کی کال آئی کہ وہ پارکنگ میں کھڑا ہے اور مسافر وہیں پہنچ جائے۔ جب شہزاد انجم مقررہ جگہ پر پہنچے اور اس کی ڈیجیٹل لوکیشن ٹریک کی، تو معلوم ہوا کہ وہ ایئرپورٹ سے باہر موجود ہے۔ جب انہوں نے وجہ پوچھی تو ڈرائیور نے باہر آنے کا اصرار کیا۔
یہ رویہ مشکوک محسوس ہوا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ باہر نہیں آئیں گے اور رائیڈ کینسل کر رہے ہیں۔ لیکن ڈرائیور نے اصرار کیا کہ رائیڈ کینسل نہ کی جائے اور وہ خود اندر آ رہا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہ تیزی سے وہاں پہنچ گیا اور شہزاد انجم گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ تاہم، ڈرائیور کی باڈی لینگویج اور رویہ غیر معمولی تھا۔ اس نے گاڑی تو دوڑا دی مگر ایپ پر رائیڈ اسٹارٹ نہیں کی۔
پارکنگ سے کچھ آگے جہاں لوگوں کی آمدورفت کم تھی، اس نے گاڑی روک کر رائیڈ کینسل کرنے کا کہا۔ وجہ پوچھنے پر پہلے ایپ کی خرابی کا بہانہ بنایا اور پھر اکاؤنٹ کام نہ کرنے کا عذر پیش کیا۔ شہزاد انجم نے نقد رقم دینے کی پیشکش کی، مگر وہ مسلسل رائیڈ ختم کرنے پر بضد رہا اور انہیں ایئرپورٹ کی حدود سے باہر لے جانے کی کوشش کرتا رہا۔
جب خطرہ بڑھا تو انہوں نے فوری طور پر گاڑی روکنے کو کہا تاکہ وہ اتر کر رائیڈ کینسل کر سکیں۔ ڈرائیور کے نہ ماننے پر، آگے ایک اسپیڈ بریکر پر گاڑی کی رفتار دھیمی ہوتے ہی وہ فوراً دروازہ کھول کر باہر کودپڑے اور دوڑ کر قریب موجود ایک سکیورٹی گارڈ کی پناہ لیں۔ گارڈ کو پاس آتے دیکھ کر ڈرائیور کی ہمت ٹوٹ گئی، وہ واپس گاڑی میں بیٹھا اور فون کرکے ڈھٹائی سے کہنے لگا کہ واپس آ جائیں، وہ مفت میں چھوڑ دے گا۔
اس چالاکی کے بعد شہزاد انجم نے پارکنگ میں آ کر باقاعدہ رائیڈ کینسل کی اور مسلسل ہراسانی پر اس کا نمبر بلاک کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود اس کے واٹس ایپ سے دھمکی آمیز وائس میسجز آنے لگے کہ ان کی لوکیشن آ چکی ہے اور انہیں اٹھا لیا جائے گا۔
وہ دوسری محفوظ رائیڈ لے کر خیریت سے اپنی رہائش گاہ پہنچے اور پولیس میں موجود اپنے جاننے والوں کو تمام واقعے سے آگاہ کیا۔ صبح ایف آئی آر درج کر کے کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی، لیکن ملزم نے پولیس کے ساتھ بھی ہتک آمیز رویہ اپنایا۔ بعد ازاں رات 11 بج کر 46 منٹ پر ایک دوسرے نمبر سے بھی سنگین دھمکی آمیز کال موصول ہوئی۔
اس سنسنی خیز تجربے نے یہ واضح کر دیا کہ آن لائن ٹیکسی سروس استعمال کرتے وقت ذرا سی غفلت کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ شہزاد انجم نے اس واقعے کو محض ذاتی نوعیت تک محدود رکھنے کے بجائے ایک عوامی آگاہی مہم کے طور پر پیش کیا ہے، تاکہ ہر شہری سفر کے دوران گاڑی کی مکمل تصدیق کرے، اپنی لائیو لوکیشن اپنوں کے ساتھ شیئر کرے، رابطہ صرف ایپ کے اندر رکھے اور کسی بھی مشکوک صورتِ حال میں فوری طور پر سکیورٹی یا پولیس کی مدد لے۔
#LahoreAirport #PublicAwareness
🚨🚨برازیل میں اسرائیل کو بدترین شکست کا سامنا
برازیل کے مشہور صدر لولا ڈی سلوا ایک بار پھر الیکشن جیت کر دوبارہ صدر منتخب
یاد رہے: لولا ڈی سلوا فلسطین غزہ کے کٹر حامی ہیں
جو اسرائیل اور امریکا کے خلاف تنقید کی وجہ سے
ٹرمپ اور نیتن یاہو کا ہدف رہے ہیں
اسرائیل ارجنٹائن اور کولمبیا کی طرح برازیل میں بھی حکومت کا تختہ الٹ کر اپنی پپٹ حکومت لانا چاہتا تھا⬇️
Katil İsrail destekçisi bir kadın, İsrail’e gidiyor ve Yahudilerin gerçek yüzüyle tanışıyor.
Nasıl da sevgiyle karşılamışlar!
Yılanla çuvala giren sonucuna katlanır..
MASSIVE Protests in Tel Aviv AGAINST Netanyahu
VOTE HIM OUT and LOCK HIM UP
And yes, I know the other candidates are the same, I want to see this criminal locked up.
حیــران ہوں مدہوش ہـــــوں بیخود ہوں سراپا
جلوے کے اثر یوں میـری صورت سے عیاں ہیں
کہتـــــا ہے کوئی بـــــــرقِ تجلی کو دکھـــــا کر
اے طالبِـــــ دیدار تیـــــــــرے ہوش کہـــاں ہیں۔
Paris protest
ظلم بے حسی اور مکافات عمل آج نہیں تو کل حساب تو دینا ہو گا
لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں محض کرایہ میں تاخیر ہونے پر مالکِ مکان نے کرائے دار کی غربت اور مجبوری کا ذرہ برابر بھی لحاظ نہ کیا اور اس کا تمام+
مکہ معاہدے کے خلاف احتجاج ۔🚩🚩
ترکی کے لوگ اپنی فوج کو سعودیہ ،اسرائیل امریکہ کے لیے استعمال کرنے پر احتجاج کر رہے ہیں ۔ترکی کی عوام چاہتی ہے کہ ہماری فوج امریکہ اسرائیل کی اشارے پر نہ چلے ۔
یہی اگر پاکستان میں ہوتا تو یہاں مولیوں نے غداری کے فتوے لگا دینے تھے
Fransa’da mağazadan karton dolusu ürün yağmalayan bir kadın, “Yaptığın haram” diyen bir kişiye cevap verdi.
▪️“Müslüman olduğumu kim söyledi? Ben Yahudiyim.”
Dünyanın en ahlaksız...
2000 روپے کا چالان ہونے پر رکشہ ڈرائیور نے نہر میں چھلانگ لگا دی!
مریم نواز صاحبہ! یہ بات یاد رکھیے گا کہ اس دفعہ شاید لوگ آپ کو بھاگنے کا موقع بھی نہ دیں۔
یہ ظلم کی انتہا ہے کہ ایک غریب مزدور دن بھر میں بمشکل 1700 سے 1800 روپے کماتا ہے، مگر اس کے رکشے کا چالان 2000 روپے کر دیا جاتا ہے۔ اوپر سے 400 روپے کا پٹرول الگ!
سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں ایک شہری کے رکشے کا 2000 روپے چالان ہونے کے بعد نہر میں چھلانگ لگا دی
مریم نواز صاحبہ! کیا غریبوں کو اس لیے زندہ رہنے کا حق نہیں ۔
Massive massive protests in Paris and all over France. Stop being suicidal and dismiss the protesters as Immigrants and Islamists. Anger against political establishment is serious and universal.
پورے یورپ کی حکومتیں اپنی عوام سے کہہ رہی ہیں کہ جنگ کے لیے خوراک راشن اور ضروری ساز و سامان جمع کریں۔۔
ترکی پورے ملک میں حفاظتی بنکر بنا رہا ہے اپنی قوم کو ڈرون ٹریننگ دے رہا ہے اسلحے کی پروڈکشن بڑھا رہا ہے ڈیفنس کے بجٹ کو اس نے تقریبا دگنا کر دیا ۔
ایران میں چھوٹی چھوٹی بچیوں کو رائفل چلانے کی تربیت دی جا رہی ہے ہزاروں لاکھوں عورتوں اور مردوں کو شہری جنگیں لڑنے کی تیاری کرائی جا رہی ہے اسلحہ تقسیم کیا جا رہا ہے۔۔
پاکستان میں ریاستی سطح پر صرف کنجر خانے اور انٹرٹینمنٹ چلائی جا رہی ہے۔
اسلحے کے لائسنسوں پر پابندی لگا دی گئی۔ قوم کے نوجوانوں کو انے والے جہاد اور جنگوں کے لیے تیار کرنے کے بجائے، ان کو مکمل طور پر نہتہ اور غیر مسلح کیا جا رہا ہے۔
ملک میں خوراک کے ذخائر بد انتظامی کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں اور جو اضافی خوراک ہوتی ہے اس کو ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے۔۔ نہ ملک میں خوراک کا ذخیرہ ہے نہ ایندھن کا۔ نہ قوم کی حفاظت کے لیے بنکر اور شیلٹر بنائے جا رہے ہیں۔
ہمارے حکمران کرنا کیا چاہتے ہیں؟ یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ پوری قوم کو ہلاک کروائیں گے۔
آج ڈان میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق بورے والا کے چک 187/EB میں رہائیشیوں نے الزام لگایا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے ایک مشکوک شخص بلال کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا۔
مطلوب شخص تو نہ ملا مگر سادہ کپڑوں میں ملبوس سی سی ڈی کے اہلکار ایک سترہ سالہ لڑکی کو گھر سے اٹھا کے لے گئے
ون فائیو پہ کال کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ لوکل پولیس کو ریڈ کا کوئی علم نہیں، نہ انہیں لوپ میں لیا گیا ہے۔
بعد میں وہاڑی پولیس نے تصدیق کی بورے والا سی سی ڈی ٹیم نے بلال نامی ملزم کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ لڑکی کو لے کر نہیں گئے
مقامی رہائشیوں کے مطابق ون فائیو پہ کال کرنے اور ایشو کے سوشل میڈیا پہ ہائی لائیٹ ہو جانے کے باعث سی سی ڈی والے چند گھنٹوں بعد لڑکی کو واپس چھوڑ گئے۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیا اندھیر نگری ہے
خواتین تو مریم نواز کی ریڈ لائین ہیں، پھر یہ کیا تماشا ہو رہا ہے؟