کرنل طالبعلموں پر جھپٹاہے ، طالبعلوں نے ردعمل دیاہے ، کرنل نے فائرنگ کردی ہے ۔ ویڈیو نکلی ، فوج پر دباؤ آیا کہ وردیاں پہنے تعلیمی اداروں میں کیا کررہے ہو فورا چلوا دیا کہ جی فوج کے اندر خود احتسابی کا نظام بہت مضبوط ہے اسکے خلاف کاروائی ہوگی۔
پھر کیا ہوا، پھر یہ ہوا کہ عوام نے کالر پکڑنے والی تصویر پر ڈھول پیٹے۔ فوج کی توقع سے زیادہ خوشیاں منائی گئیں۔ ساتھ ہی ساتھ پھدو دماغوں نے سوچا کہ یہ کیا ؟ اللہ کی فوج کا کرنل غلطی کرجائے؟ یعنی اب پاک فوج غلطیوں پر کاروائی شروع کردے ؟
بیانیہ ہوا ریسورس ، کہا جی کرنل کی بیوی کو بچے چھیڑ رہے تھے ، ایچ او ڈی ہراساں کررہا تھا اسلیے اس نے غصے میں فائرنگ کردی۔ پھر ردعمل آیا ، سوچا کہ کرنل کی بیوی کو سرعام کوئی چھیڑ جائے۔ یہ بھی پاک فوج کی توہین ہے۔ پھر بیانیہ ایک اور گئیر میں ڈالا گیا۔ کہ جی ہجوم خدانخواستہ کرنل صاحب کی بیوی کو تشدد کرکے ماردیتا اس لیے کرنل صاحب نے بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ریسکیو کرلیا۔
یہ بیانیہ اب فٹ بیٹھا ہے کہ اللہ کی فوج کا کرنل ذمہ دار بھی ہے ، بہادر بھی ہے اور اس نے کچھ غلط بھی نہیں کیا ہے۔ آکھو سبحان اللہ۔
جن غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ملک و قوم کی جس تباہی کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ تمام خدشات ان چار سالوں میں سو فیصد درست ثابت ہوچکے ہیں، ۲۰۲۳ میں جنوبی اضلاع کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے اور کتاب کی صورت مرتب کیے آج آپ گلی محلوں بلکہ سرکاری دفاتر میں لوگوں کی زبانی سن رہے ہیں۔ ابھی تو مالاکنڈ ریجن کے چند واقعات میں آپ کے کردار پر پولیس جوان بولے نہیں، جس دن وہ بولے آپ کے مونہوں پر کیا رہ جائیگا؟
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں وارن کرنے والا، جنازے اٹھانے سے پہلے آواز اٹھانے والا، آگ بجھانے والا؛ غدار، دہشت گرد اور باغی بنا دیا جاتا ہے۔ بریکنگ نیوز کے چکر میں قوم بس دن کے ایونٹس پر ریکشن تک محدود ہوگئ ہے۔ آج ہر کسی کی ٹائم لائن پر بنوں لکی مروت کی ویڈیوز تو ہیں لیکن آج بھی دہشت گردوں کو لانے سے لے کر، معصوم لوگوں کی شہادتوں، امن کمیٹیز کے قیام اور لشکر کے نئے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش نا کر کے سب اس درندگی کو مزید ایندھن مہیا کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعد پختونخواہ میں جرنیلوں کی ہوس کی وجہ سے نفرت اس مقام تک آگئی ہے کہ نا ہی کسی پولیس کے تبادلے سے کام ہوگا نا ہی ایک ہفتے میں کئی بار ڈی آئی جیز، ڈی پی اوز اور دیگر کے تبادلوں سے پولیس میں آپ کی نیک نامی ہوگی۔
۲۰۲۳-۲۴ میں عوام کے بعد پولیس میں میڈ اپ دہشت گردی کے خلاف بڑھتی تشویش کے متعلق آپ کو وارن کیا، آج وہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔
ریاستی چھتری تلے امن کمیٹیز بنانے کے وقت خبردار کیا، آج وہی امن کمیٹیز بھی آپ کی حقیقت جان کر آپ سے نبردآزما ہیں۔
آج یہ بھی بتا دوں جو یہ آخری چیز رہتی ہے یہ جو امن لشکر بنانے کی آپ کی کوششیں ہیں جسے اگر آپ زبردستی بنانے میں کامیاب ہوگئے تو ہر شہری کے ہاتھ میں بندوق ہوگی تو جب کل آپ کی پالیسی بدل جائے گی تو ان بندوقوں کا رُخ کس جانب ہوگا کچھ سوچاہے؟
اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو آپ کے مزید شر سے بچائے۔
عمران خان دنیا کے عظیم کرکٹر اور سابق وزیراعظم ہیں، مانتے ہیں ہمیں قانون کا علم نہیں، صرف انسانیت کی خاطر قیدی کی بنیادی سہولیات اور علاج کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس کے علاوہ ہم کچھ اور نہیں مانگ رہے۔ کپل دیو
آج سوشل میڈیا پر حالات دیکھ کر یہ دیکھ پا رہاُہوں کہ اگرچہ آج بہت ساروں کے اندر کا کمینہ انسان خوش ہے ، لیکن ہم سب کے پاس ایک عدد دماغ ہے جو کہہ رہا ہے کہ تم نے اس ملک میں رہنا ہے۔ تمہارے بچوں نے اس ملک میں رہنا ہے۔ تمہاری شناخت اس جگہ سے منسلک ہے۔ یوں فوجی افسر کو تھپڑ پڑنے پر قہقہے پھوٹنا اس ملک کے برباد مستقبل کی نشانی ہے۔ یہ اس کی موجودہ تباہ کن فیصلوں کی عکاسی ہے۔ معلوم ہے کوئی فرق نہیں پڑنے والا لیکن کہنے میں کیا ہرج ہے؟ پاگل فیصلہ سازو ! انسان بن جاؤ۔
عزت عوام سے ملتی ہے۔ عزت احترام سے ملتی ہے۔ عزت آئین کی پاسداری سے ملتی ہے۔ عزت ، عزت دینے سے ملتی ہے۔ عزت آئی ایس پی آر ، نیوز چینلز ، یا بجٹ نہیں لیکر دیتا۔ عوام کو عزت دو۔ ڈنڈا نہیں۔ عوام سے دھوکہ کرنا بند کرو۔ آئین توڑنا۔ مینڈیٹ چوری کرنا بند کرو۔ اس ملک کے آئین کو عزت دو۔ جمہوریت اور آزاد عدالتوں کو عزت دو۔ عمران خان کو عزت دو۔ پاکستان کو عزت دو۔
ورنہ
دیا سبھی کا بجھے گا ، ہوا کسی کی نہیں۔
A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
جمائما خان کی ٹویٹ کا اردو ترجمہ
وزیراعظم @andyburnham اور وزیرِ خارجہ @Ed_Miliband
برطانیہ کب تک خاموش رہے گا
تین سالوں سے میرے دو بیٹوں کے والد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے آرمی چیف عاصم منیر کی ذاتی دشمنی کے نتیجے میں شدید بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ کے مطابق تشدد کے زمرے میں آتا ہے اور اب ان کی جسمانی و ذہنی صحت پر انتہائی مہلک اثرات مرتب کر رہا ہے۔
انہوں نے 3 سال سے قیدِ تنہائی برداشت کی ہے۔ گزشتہ تقریباً دس مہینوں سے ان کے اہل خانہ کو ان سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہیں بنیادی ترین انسانی رابطے سے محروم رکھا گیا ہے اور کتابوں، وکلاء اور ڈاکٹروں تک رسائی سے بھی روک دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہددے اور اصول بالکل واضح ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے "نیلسن منڈیلا رولز" کے تحت مسلسل 15 دن سے زیادہ قیدِ تنہائی ممنوع ہے اور یہ تشدد کے مترادف ہے۔
انہوں نے یہ سلوک 15 دنوں تک نہیں، بلکہ تین سالوں تک برداشت کیا ہے۔
پاکستان کی اپنی سپریم کورٹ نے بھی اب اس معاملے کا نوٹس لیا ہے: اور ان کے مکمل طبی علاج، ذاتی ڈاکٹر تک رسائی، اہل خانہ کی باقاعدہ ملاقاتوں اور ان کے بیٹوں سے ہفتے میں دو بار فون پر بات کروانے کا حکم دیا ہے۔
اس کے باوجود ان احکامات کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
یہ اب صرف پاکستان کا کوئی سیاسی معاملہ نہیں رہا۔ یہ انسانی حقوق کی ایک ہنگامی صورتحال ہے۔
برطانیہ کے ساتھ ان کا گہرا اور تاحیات تعلق رہا ہے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی اور انگلینڈ میں سالہا سال کاؤنٹی کرکٹ کھیلی۔ اس ملک کے ساتھ ان کا تعلق آدھی صدی سے بھی زائد عرصے پر محیط ہے۔ ان کی فلاحی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا، جن میں پاکستان میں واحد مفت کینسر ہسپتال اور ایک یونیورسٹی کی تعمیر شامل ہے۔
ان کے بیٹے 'میرے دو بچے، سلیمان اور قاسم برطانوی شہری ہیں۔ انہیں ہزاروں میل دور بیٹھ کر اپنے والد کی گرتی ہوئی صحت کو دیکھنے پر مجبور کیا گیا ہے، انہیں ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، ویزوں سے انکار کیا جا رہا ہے، سرکاری حکام کی جانب سے عوامی سطح پر انہیں خود گرفتاری کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اور عدالت کے حکم کے باوجود باقاعدہ فون کالز سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
میں نے بارہا یو کے حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ پسِ پردہ سفارتی کوششوں کی ظاہری تدابیر ناکام ہو چکی ہیں۔ سابق وزیرِ خارجہ @DavidLammy نے مجھے تحریری طور پر مطلع کیا تھا کہ اگر میرے بیٹے، جو کہ برطانوی شہری ہیں، اپنے والد سے ملنے پاکستان جائیں اور انہیں گرفتار کر لیا جائے، تو برطانیہ مداخلت نہیں کرے گا۔
@FCDOGovUK: برطانیہ کو اب علانیہ اور واضح طور پر آواز اٹھانی ہوگی۔ پاکستان سے مطالبہ کریں کہ وہ اپنی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرے؛ عمران خان کی طبی رسائی، ان کے اپنے اہل خانہ سے ملنے کے حق کو بحال کرے، ان کی طویل قیدِ تنہائی کو ختم کرے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کا پاس رکھے۔
پاکستان کامن ویلتھ کا رکن ملک ہے۔ برطانیہ کی بغیر کسی قانونی جواز کے حراست، غیر انسانی سلوک اور بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے کی ایک طویل اور قابل فخر روایت رہی ہے۔ اگر ہم ان اصولوں پر صرف اپنی مرضی سے عمل کریں اور ناگواری کی صورت میں انہیں نظر انداز کر دیں، تو ان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی۔
نئی برنہم حکومت سے ایک التجا ہے کہ خدارا اب درست قدم اٹھایا جائے۔
وسیم اکرم، انضمام الحق اور رمیز راجہ آج بھی ہرانٹرویو میں عمران بھائی عمران بھائی کر کے قصے سنا رہے ہوتے ہیں لیکن 22 سابق کپتانوں کی طرف سے حکومت پاکستان کو عمران خان کے علاج کے لیے لکھے گئے خط میں ان میں سے ایک کا نام بھی نہیں ہے۔
تین بھارتی کپتان شامل ہیں لیکن ایک بھی پاکستانی شامل نہیں۔ ہم اپنے قومی ہیروز اور محسنوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ ہماری یہی اصل حقیقت ہے۔
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
Just last month I spoke to Kapil Dev on Imran Khan and the letter all international captains wrote to Pakistan PM in February, asking for proper medical attention, treatment and human rights for their former Prime Minister who also happens to be their greatest cricketer
And today the 22 captains have written again, asking for Pak SC’s directives to be followed
مائنس عمران کے خوب دیکھنے والوں کے نام قوم نے ۲۰ اگست کو زبردست پیغام دیا۔ حکومت نے پینک میں آکر بہت بڑا بلنڈر کیا ہے توہین عدالت کر کے۔
#جعلی_حکومت_کی_توہین_عدالت
Chief Justice of Pakistan Yahya Afridi, you and most of your brother/sisters of the Pakistan SC, have violated your oath, and shamelessly surrendered before the Pakistan Establishment, out of fear.
But see what Qazi Sirajuddin, Qazi-e-Subah of Bengal did in 1490 AD ( a historical incident recorded in his book 'History of Bengal' by Charles Stewart ).
The Qazi too was afraid of the wrath of the Sultan ( just as you are afraid of the wrath of the Pakistan army ) if he summoned him to his court. But fear of God ( who would ask him on the Day of Judgment when he had to appear before Him why he did not do his duty ) prevailed over fear of the Sultan https://t.co/ZWsFAdRfdC
It seems to me you have no fear of Allah
BREAKING NEWS: 22 Former international cricket captains have once again written a letter to Pakistan PM over the treatment for Imran Khan. They first wrote a similar letter in February and this one comes after Pak allegedly didn’t completely comply with SC directions.
They have laid down 3 demands:
1. That the medical board directed by the Supreme Court — including Mr Khan's own doctors — be permitted to complete a full and independent assessment of his health, particularly the reported loss of vision in his right eye.
2. That the weekly family visits reinstated by the Court be honoured without interruption or administrative delay.
3. That whatever the outcome of that medical assessment, the treatment recommended by it be provided without delay.
Three Indians - Kapil Dev, Sunil Gavaskar and Dilip Vengsarkar are among the 22 former captains.
#ImranKhan
"عمران خان نے 4 دسمبر کو بہن ڈاکٹر عظمیٰ کو بتایا کہ ’عاصم منیر انہیں مارنا چاہتا ہے، یہ بات باہر جا کر بتا دو!‘ میری بہن نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قتل کرنے والی بات نہیں کریں گی۔ ڈاکٹر عظمیٰ نے ہمیں یہ بات بتائی، تو ہم تینوں بہنوں نے اتفاق کیا کہ ہم یہ بات نہیں کریں گی؛ لیکن کاش! ہم نے اس وقت بھائی کی بات مان لی ہوتی!" علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
فوج کا عمران خان سے ایک ہی مسئلہ ہے کہ وہ شریفوں اور زرداریوں کی طرح عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کہہ کر پکارے، لیکن عمران خان اسے بے غیرت ذہنی مریض کہہ کر پکارتا ہے، اور اس کے بغیر خان صاحب کی زبان سے عاصم مستری کے لیے کوئی نام نہیں نکلتا۔
ذوالفقار علی بھٹو ڈیڑھ سال تک جیل میں رہے۔ آخری دس ماہ تک انہیں موت کی کوٹھڑی میں رکھا گیا، جس طرح اب عمران خان کو رکھا ہوا ہے۔
بھٹو کو ذہنی اور جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ قید تنہائی میں ڈالا گیا۔ آخر میں بھٹو وہاں تعینات افسر کو کہتے تھے ضیاء کو کہو just finish it now اب برداشت نہيں ہوتا۔
بھٹو ہی نہيں کوئی بھی انسان ایسا جسمانی اور ذہنی ٹارچر برداشت نہيں کرسکتا۔ سب یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ظالموں اب ختم کرو۔
عمران خان تین سالوں سے زیادہ عرصے سے اس طرح کی صورتحال میں قید ہے۔ 9 ماہ سے بدترین ذہنی اور جسمانی ٹارچر سہہ رہا ہے۔ بہنوں کو کہا کہ انہوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ چیزیں برداشت سے باہر ہو رہی ہیں۔
عمران خان کو اللہ نے ایمان دیا ہے۔ ایک مضبوط جسم اور ذہن دیا ہے۔ ان تینوں کی وجہ سے وہ بھٹو سے دوگنا عرصہ تک سروائو کر گیا۔ لیکن انسان کا جسم اور ذہن دونوں کا ایک breaking point ہوتا ہے یہاں پر پہنچ کر وہ ٹوٹنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم جواب دے جاتا ہے۔ ذہن ساتھ چھوڑنے لگتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ظالموں کا تو حساب ہوگیا ہی کہ انہوں نے ایک بےگناہ انسان پر فرعون بن کر یہ ظلم کیوں کیا؟ کیا پاکستان کے 25 کروڑ عوام سے سوال نہيں ہوگا کہ انہوں نے اس ظلم کو روکنے کے لئے کیا کیا؟
ذرا سوچیں آپ کے نامہ اعمال میں کیا ہے جو پیش کریں گے؟
اگر اسی خاموشی اور بےحسی پر پکڑے گئے تو کیا کریں گے؟
یا آپ کو آخرت اور روز جزا اور سزا پر یقین نہيں ہے؟
اسے جیل گئے چھ سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا تھا۔ اس دوران وہ خود، اس کے اہلخانہ اور قریبی ساتھی بار بار یہ کہتے رہے کہ اسے جیل میں ماردیا جائے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان خدشات کا اظہار کیا۔
وہ جسمانی اور ذہنی تشدد سہتا ہوا ایک دن اپنے ٹرائل کے دوران عدالت میں اچانک نیچے گرا اور پھر دوبارہ کھڑا نہ ہوسکا۔ ڈاکٹروں نے اس کی موت کا سبب ہارٹ اٹیک بتایا لیکن ساری دنیا جانتی تھی کہ اس کا قاتل مصر کا ڈکٹیٹر تھا۔
یہ مصری رہنما محمد مرسی کی کہانی ہے جس کے حوالے سے کل عمران خان نے کہا تھا کہ اسے بھی مرسی کی طرح مار دیا جائے گا۔
کیا کوئی قوم اتنی بے حس، بے شرم اور بیغیرت ہوسکتی ہے کہ جس کی آنکھوں سے سامنے ایک ایسا شخص اپنے قتل کی پیشنگوئی کررہا ہے کہ جس نے اپنی ساری عمر، ساری توانائی، سارے وسائل قوم کیلئے وقف کردیئے؟
کسی بھی اے آئی سے پوچھ کر دیکھ لیں، دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک ایسی قوم نہیں ملے گی جو بے حسی کے اس مقام پر پہنچ چکی ہو!!!