Accounting is not Economy ,Control is not Governance.
پاکستان اس وقت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ بظاہر ریاست کے تمام طاقتور ستون ایک ہی صفحے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ سیاسی مزاحمت کو کمزور کر دیا گیا، میڈیا بڑی حد تک کنٹرول میں آ گیا، عدلیہ کا وہ جارحانہ جوڈیشل ایکٹیوزم تقریباً ختم ہو گیا جو کبھی حکومتوں کے لیے مستقل دباؤ ہوا کرتا تھا، احتسابی ادارے غیر مؤثر یا مکمل طور پر تابع دکھائی دیتے ہیں، الیکشن کمیشن سے بھی حکومت کو کوئی حقیقی خطرہ محسوس نہیں ہوتا، اور انتظامی مشینری مکمل طور پر حکومتی Extention بن چکی ہے۔ یعنی وہ تمام رکاوٹیں جنہیں ماضی میں حکومتی ناکامیوں کا سبب قرار دیا جاتا تھا، آج بڑی حد تک ختم ہو چکی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پھر بھی پاکستان کیوں نہیں چل رہا؟
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریاست نے “کنٹرول” کو “گورننس” سمجھ لیا ہے۔ سیاسی نظم و ضبط، میڈیا مینجمنٹ اور مخالف آوازوں کو دبانا معیشت نہیں چلاتا۔ معیشت اعتماد، پیداوار، سرمایہ کاری، صنعتی توسیع، توانائی کی سستی دستیابی، پالیسی کے تسلسل اور مستقبل کے یقین سے چلتی ہے۔ آپ کسی معاشرے کو انتظامی اور coercive طریقوں سے خاموش تو کر سکتے ہیں، لیکن ترقی پر مجبور نہیں کر سکتے
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے معیشت کو ایک زندہ، متحرک اور انسانی نظام کے بجائے صرف spreadsheets اور balance sheets کا کھیل سمجھ لیا ہے۔ ہماری موجودہ معاشی پالیسیوں کا مرکز growth, productivity, industrial expansion اور human development نہیں بلکہ صرف accounting adjustments رہ گئے ہیں۔ کبھی trade deficit کم ہونے کو تاریخی کامیابی بنا کر پیش کیا جاتا ہے، کبھی current account surplus کو معاشی استحکام کا ثبوت کہا جاتا ہے، اور کبھی imports کو دبا کر یا demand کو crush کر کے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ معیشت سنبھل گئی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک ملک میں صنعت سکڑ رہی ہو، کاروبار بند ہو رہے ہوں، نوجوان بے روزگار ہو رہے ہوں، غربت بڑھ رہی ہو، per capita income خطے میں سب سے نیچے جا رہی ہو، exports مسلسل regional competitors سے پیچھے رہ جائیں، اور عام آدمی کی قوتِ خرید تباہ ہو رہی ہو تو پھر خوبصورت balance sheets قوموں کو ترقی نہیں دے سکتیں۔
اکاؤنٹنگ صرف یہ بتاتی ہے کہ numbers اس وقت کہاں کھڑے ہیں، مگر economy یہ طے کرتی ہے کہ قوم کہاں جا رہی ہے۔ ایک accountant خسارہ چھپا سکتا ہے، imports روک سکتا ہے، taxes بڑھا سکتا ہے، electricity اور petroleum levy کے ذریعے temporary numbers بہتر کر سکتا ہے، لیکن وہ growth create نہیں کر سکتا۔ معیشت اس وقت چلتی ہے جب factories چلیں، exports بڑھیں، energy affordable ہو، سرمایہ کار کو اعتماد ہو، middle class expand کرے، innovation پیدا ہو اور ریاست لوگوں کے اوپر بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کے لیے مواقع پیدا کرے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت spreadsheet management کو economic governance سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ قومیں accounting tricks سے نہیں بلکہ production, confidence اور vision سے اٹھتی ہیں۔
میں ایک فیکٹری چلاتا ہوں تو میرے پاس اکاؤنٹنٹس، بینکرز، انجینئرز اور انتظامی عملہ سب موجود ہوتے ہیں، مگر ان میں سے ہر شخص “ویژن” نہیں رکھتا۔ اکاؤنٹنٹ صرف سپریڈ شیٹ دیکھتا ہے۔ اگر کسی منصوبے میں ابتدائی نقصان نظر آ رہا ہو تو وہ فوراً خطرہ سمجھتا ہے، کیونکہ اس کی تربیت کھاتوں کو متوازن رکھنے کی ہوتی ہے، مستقبل کے مواقع پیدا کرنے کی نہیں۔
یہی مسئلہ آج پاکستان میں ہے۔ ہماری معاشی پالیسی صرف جدولیں بہتر دکھانے تک محدود ہو چکی ہے۔ جاری کھاتوں کا خسارہ کم دکھا دیا، درآمدات دبا دیں، ٹیکس بڑھا دیے، بجلی، گیس اور تیل مہنگا کر دیا وقتی طور پر بیلنس شیٹ بہتر نظر آنے لگتی ہے، مگر مجموعی معیشت سکڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ صنعت کی لاگت بڑھتی ہے، کاروبار بند ہوتے ہیں، بے روزگاری بڑھتی ہے، عوام کی قوتِ خرید گرتی ہے اور مجموعی ترقی منفی سمت میں چلی جاتی ہے۔ پھر جب معیشت سست ہوتی ہے تو حکومتی ریونیو گرتا ہے، اور ریونیو گرتا ہے تو مزید ٹیکسز اور قیمتوں میں اضافے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یوں ملک ایک ایسے vicious cycle میں داخل ہو جاتا ہے جہاں معیشت کو سہارا دینے کے بجائے مسلسل نچوڑا جاتا ہے۔
اکاؤنٹنگ صرف یہ بتاتی ہے کہ آج کھاتوں میں کیا ہے، مگر معیشت یہ طے کرتی ہے کہ قوم کل کہاں کھڑی ہو گی۔
اور اسی بلدیاتی نظام اور dispersal of power کے نام پر تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز کے خاندان کے وہ لوگ جو کہیں ایڈجسٹ نہیں ہوسکے انہیں ٹکٹ دے دئیے جائیں گے۔ پاکستان میں جمہوریت کا مطلب موروثیت ، سیاسی خانوادوں کی ذاتی ملازمت یا طاقتور حلقوں کی آشیرواد باد ہوتا ہے۔ پاکستان کی عوام اس نظام سے لاتعلق ہوچکے ہیں اور اس کا نقصان اور ازالہ کس شکل میں ٹرانسلیٹ ہوگا اس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے۔
چودہ جولائی ۱۷۸۹ کی ایک صبح پیرس کے باسیوں نے ایک مجمعے کی صورت بیسٹایل کی جیل پہ حملہ کردیا۔بھگوڑے فوجی بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور توپیں بھی لے آئے۔ اس کے قریب ہی شاہی فوج کے دستے قیام پذیر تھے مگر انہوں نے اس مجمعے کو درخُورِ اعتناء نہ سمجھا۔
مجمعہ سہ پہر تک قلعہ کی دیواریں توڑ کر اندر گھس گیا اور گورنر کو قتل کرکے اس کا سر سنگین پر ٹانگ کر قلعہ میں گھمانے لگا۔
شام کو کنگ لوئیس XVI نے ڈک ڈی لا روشفوکو سے پوچھا ،
کیا یہ بغاوت ہے؟؟
لا روشفوکو نے جُھک کر کہا
No sire , it is a revolution.
نہیں سر یہ انقلاب ہے۔
ٹھہریے اب ذرا یہ سوچیئے ۔
کیا اس صورتحال اور کہانی نےآپ کے رگ و پہ میں سنسنی بھر دی ہے ؟
کیا آپ چاہتے ہیں کہ انقلاب ایسے ہی آنا چاہئیے؟
کیا آپ چاہتے ہیں پاکستان میں بھی ایسا انقلاب برپا ہو؟
لوگوں کا اس نظام سے بالکل ناامید نہ کریں ۔
گوجرانوالہ
ڈویژنل سیکرٹری اطلاعات پاکستان مسلم لیگ (ن) چوہدری خرم مشتاق کی زیر صدارت سیکرٹریز اطلاعات کا اہم اجلاس، کوٹلہ گجرات جلسہ کے حوالے سے مشاورت
چیئرمین میڈیا نیوز پر حامد مختار کی رپورٹ @KhurramMushtaq@MuddsarNazir@bhoonzaman@Mianakmalh
گجرات: کوٹلہ جلسہ کے حوالے سے ڈویژنل صدر پاکستان مسلم لیگ ن چوہدری عابد رضا کوٹلہ ایم این اے سے ڈویژنل سیکرٹری اطلاعات چوہدری خرم مشتاق، ضلعی سیکرٹری اطلاعات گوجرانوالہ میاں مدثر نذیر اور ضلعی سیکرٹری اطلاعات گجرات میاں اکمل حسین ملاقات اور مشاورت کررہے ہیں
رولنگ کو غلط قرار دے دیا گیا،اچھی بات ہے مگر یہ رولنگ صرف غلط نہیں ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی بد ترین توہین ہے اور انتہائی خطرناک روش ہے جس کو لگام دینا عدلیہ کا فرض ہے۔امید ہے آئین توڑنے والے کو قرار واقعی سزا ہو گی تاکہ پھر کسی کو ملک کے ساتھ ایسا گھناؤنا کھیل کھیلنے کی جرت نا ہو
ملک کو لوٹ کر کھا جانے والے عمران نیازی۔ غریب عوام کے زخموں پر مہنگائ کا نمک چھڑکنے والے لٹیرے۔ تمہارا جانا ٹھہر گیا ہے۔ استعفیٰ دو اور اپنی لوٹ مار کا حساب دینے کے لیے تیار رہو ۔
#ResignChorNiazi
@SHABAZGIL شوکت خانم کے نام پر چندہ دینے والا۔اور تم اپنی ماں کو کیا جانیں کیونکہ اس کی کہانی
نے بیان کی ہے
گل جیسے نااہل پاکستان کی تباہی کا سبب ہے
یااللہ غریب عوام کو ان نااہلوں سے بچائیں یہ حوکومت کو روزانہ 10 MB جھوٹ اور گالیوں پر چلاتے ہیں