عمران خان کے ساتھ عوام ہیں، اس حقیقت سے جتنا بھاگیں گے، مسائل کی دلدل میں اتنا ہی دھنستے جائیں گے۔عوامی حمایت کو دبانے سے حقیقت نہیں بدلے گی، سیاسی و معاشی بحران مزید بڑھتا جاۓ گا۔
4 اکتوبر کو انشاءاللہ عوام کا سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہمارے کارکن پُرامن لانگ مارچ کے لیے بیتاب ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں 24 گھنٹے کی ڈیدلائن سے ہمارے لاکھوں کارکن سڑکوں پر ہونگے۔ انشاءاللہ۔
ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے ہمیں فخر ہے کہ ہمارا لیڈر عمران خان ہے ویڈیو میں یہ صرف دو جھنڈے ہی نہیں یہ ہماری عزت ہیں ہماری شان ہیں اور اپنی عزت اور شان کو بچانے کے 27 ستمبر لانگ مارچ بہت ضروری ہے
ہم نکلیں گے تو خان نکلے گا ہم نکلیں گے تو پاکستان میں ایک امید کا سورج طلوع ہوگا
#لانگ_مارچ_ہر_صورت_ہوگا
ان شاء اللہ، 27 ستمبر کو ہم اسلام آباد پہنچ کر تمام بند راستے کھول کر ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے. “کہ اسلام آباد میں کوئی راستہ بند نہ ہو”
🔥 تمام پی ٹی آئی کارکنان کے نام اہم پیغام! 🔥
یہ سیاسی جنگ دراصل جنگِ اعصاب ہے۔ اس لیے کسی افواہ، پروپیگنڈے یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیرمصدقہ خبر سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
✊ اعصاب مضبوط رکھیں، حوصلہ بلند رکھیں، ثابت قدم رہیں!
سیاست میں گرفتاریاں اور جیلیں نئی بات نہیں۔ سیاسی کارکن اور سیاسی رہنما گرفتاریوں اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ہم کسی پارلیمنٹیرین یا سیاسی کارکن کی گرفتاری سے نہ خوفزدہ ہیں، نہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹیں گے۔
سوشل میڈیا پر بہت سی خبریں صرف ذہنی دباؤ اور کنفیوژن پیدا کرنے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں۔ ہر خبر پر فوری ردِعمل نہ دیں، پہلے تصدیق کریں۔
ان شاء اللہ نہ گھبرائیں گے، نہ پیچھے ہٹیں گے؛ آگے بڑھیں گے!
صبر، حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
🇵🇰 حوصلہ رکھیں، اعصاب نہ ہاریں!
ان شاء اللہ کامیابی عوام، جمہوری جدوجہد اور عمران خان کے نظریے کی ہوگی۔ ✊🔥
آج سے 17 روز بعد 27 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب رخ کرے گا یہ لانگ مارچ پاکستان کی تقدیر بدلنے کی بنیاد رکھے گا....!!!
اگر آپ کو پانچ سال بعد بھی بیانیہ بنانے کیلیے عمران خان کے الفاظوں آواز اور تصویر کی ضرورت ہے تو جائیں اس سے معافی مانگیں اور اسکا مینڈیٹ اسے واپس کردیں
اڈیالہ جیل سے ایک اور اہم خبر :
عمران خان کی پیچھلے ہفتے اپنی ہمشیرہ سے جیل میں گفتگو:
یہ ایک ٹریپ ہے ، مجھے ہسپتال لے کر جائے یا نا لے کر جائے ، مجھے رہا کروانے کا اعلان ہی کیوں نا کر دے ، سہیل آفریدی 27 کو لانگ مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے ۔ جب تک میرا ڈائریکٹ میسیج نہیں آجاتا کوئی واپس نہیں جائے گا نا ہی باہر کوئی بھی لانگ مارچ کو منسوخ کر سکتا ہے نا ہی کوئی رد بدل کر سکتا ہے ، اس کا فیصلہ صرف میں کرونگا ۔
عمران خان نے لفظ “ٹریپ “ کا خصوصی ذکر کیا ۔
کوئی بھی 27 سے پہلے گرفتار نا ہو ، سب نے 27 کو احتجاج کے لیے نکلنا ہے اور 27 تک کسی بھی صورت گرفتاری نہیں دینی ، جو بھی گرفتار ہوا وہ جیل جاتے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے
پنجاب سندھ اور بلوچستان بھی بھر پور مزاحمت دکھائے اور اپنے صوبے بند کرے اور جو 27 کو مزاحمت نا دکھا سکے وہ اپنے عہدے چھوڑ دے کیونکہ مجھے اس تحریک کے لیے بہادر لوگوں کی ضرورت ہے ۔