عمران خان سے ہماری آخری ملاقات 19 ستمبر 2024 کو ہوئی تھی۔
عدالتیں کل بھی اہم تھیں، آج بھی ہیں اور کل بھی اہم ہوں گی۔ گزشتہ ایک سال سے ہم کہہ رہے ہیں کہ ستمبر ستمگر ہو گا اور حالات بدلیں گے۔ 1956 سے 1958 تک تین وزیر اعظم بدلے گئے، آئی آئی چندریگر، سہروردی اور ملک فیروز خان نون۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کا بہترین آئین دیا اور اس کو پامال کرنے کی ہر دفعہ کوشش کی گئی۔ ترامیم سے بھی دل نہیں بھر رہا کہ اب اٹھائیسویں آئینی ترمیم لانا چا رہے ہیں۔ ملکی تاریخ کا سب سے قصور وار شخص میاں نواز شریف ہے۔ آئینی تباہی میں اس شخص کا سب سے بڑا کردار ہے۔ 58(2)(ب) نواز شریف کی مرضی سے ضیاء الحق نے آئین میں داخل کی تھی۔ دو حکومتیں اس کی گرائی گئیں اور اس میں ایک سپریم کورٹ نے بحال کر دی۔ اس بحالی کے باوجود اسمبلی نہیں چل سکی اور ضیاء الحق سے مشرف تک حکومتیں اوسطاً اٹھارہ سے چوبیس ماہ تک قائم رہتیں اور کوئی بھی پانچ سال پورے نہیں کر سکتا۔ پھر لندن میں بیٹھ کے میثاق جمہوریت کیا۔ اس شخص نے بھیانک ترین تین ترامیم کیں، نگران سیٹ اپ اور الیکشن کمیشن کی تعیناتی، اور چئیر مین نیب کے حوالے سے۔ آج تک کوئی وزیراعظم پانچ سال پورے نہیں کر سکا، یوسف رضا گیلانی بھی ہماری پٹیشن پر فارغ ہوئے تھے۔سسٹم نے اب انگڑائی لینی ہے اور عمران خان جانتا ہے کہ یہ تین چار سال تک زیادہ سے زیادہ نظام کو کھینچ سکتے ہیں اور اس کے بعد میں اس نظام کی ضرورت بنوں گا۔
ان کو سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا چاہیے۔ توہین عدالت کا فیصلہ تو سولہ ستمبر ہو گا۔ یوسف رضا گیلانی نے خط لکھنے کے حوالے سے توہین عدالت کی تھی اور نا اہل ہو گئے تھے۔ شہباز شریف کو ہماری جانب سے نوٹس دیا گیا ہے کہ آپ نے توہین عدالت کی ہے۔
Federal Government means PM and the cabinet.
اس طرح اب یہ بھی طے ہو گا توہین عدالت کا رخ کس جانب ہو گا؟؟ محسن نقوی کو اس لیے نامزد نہیں کیا گیا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر منسٹر کے لیے نہیں تھا؟
@_Mansoor_Ali@humnewspakistan
مکمل پروگرام لنک
https://t.co/MHTS0gYyec
راشد نصراللہ نے کہا کہ مریم نواز کرپشن کیخلاف کام کر رہی ہیں۔۔
خوشاب کے ن لیگی سپورٹر نے بتایا کہ میں نے ایک ایم ایس کیخلاف درخواست دی، اس نے کہا کہ حاجی صاحب پیسے لے لو ورنہ میں اینٹی کرپشن کو دیدوں گا، اس نے پیسے دیئے اور معاملہ ختم۔
تحریک انصاف نئے صوبوں کی بحث کو مثبت انداز میں دیکھتی ہے، لیکن موجودہ پارلیمنٹ کے پاس نئے صوبے بنانے کا مینڈیٹ نہیں ہے، یہ فیصلے نئے الیکشن کے بعد ہونے چاہئیں، شفیع جان
جنہوں نے ڈی چوک میں گولیاں چلائیں مرید کے میں تحریک لبیک کے بھائیوں کو شہید کیا کشمیریوں کو شہید کیا ان سب کا حساب لینے ہیں ہم آرہے ہیں 27 ستمبر کو اسلام اباد ان شاء اللہ
وزیر اعلی سہیل آفریدی
ہر ظالم کا ہاتھ روکیں گے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
یہ کوئی جلسہ نہیں رانی پور میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ودیگر قائدین کے استقبال کے لیئے عوام ہی عوام
یہ سندھ کی عوام اب روکنے والی نہیں انشاءاللہ سندھ سب سے آگے ہوگا کپتان کی خاطر
رانی پور میں نوجوان جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں، سہیل آفریدی کا قافلہ راستے میں ہے، رانی پور پہنچتے ہی بھرپور Street movement شروع ہوگی
9 بجے سو جانے والی عوام رات گئے تک اپنے لیڈر عمران خان کے سپاہیوں کا انتظار کررہی ہے
بلوچستان میں دہشتگردی ہو رہی ہے قوم کے بیٹے قربانیاں دے رہے ہیں وزیرداخلہ کنگ چارلس کے ساتھ ڈنر کر رہے ہیں کرکٹ کے معاملات میں پھنسے ہوئے ہیں اور یہاں پیچھے چوپٹ راج ہے آپ کی حکومت کو کوئی فکر نہیں کہ وہ کھیل تماشے کی بجائے اپنی وزارت کے معاملات کو دیکھیں ! ابصار عالم ۔۔
نقوی آج کہہ دے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایوینو کو نہیں گرایا جائے گا تو ابصار عالم کہے گا نقوی جیسا کوئی نہیں ۔۔
وہ تو پہلے ہی 17 سیٹوں پر تھے لیکن سرکاری ملازمین نے آگے زیرو لگا کر 170 پر پہنچا دیا۔ یہ بات نصر اللہ ملک بھی جانتے ہیں لیکن چونکہ ان کے مفادات اور پسند سب سے اوپر والے گروہ کے ساتھ ہے اسلیے کبھی سچ نہیں بولیں گے
📍زرداری صاحب ہمیشہ محسن نقوی کو مائی ڈیئر سن کہتے تھے مگر اس مرتبہ جب وہ ان سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ مسٹر نقوی کیوں آئے ہو اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے محسن نقوی کی بات کو اہمیت نہیں دی میں نے آصف زرداری کے قریبی دوستوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ " گیم از اوور " ! کنور دلشاد ۔۔
میری آغا سرور سے بات ہوئی ہے۔ الحمداللہ انکی طبیعت اب پہلے سے بہتر ہے۔ میں شیخ آغا سرور، زعیم لغاری، شاکر اعوان اور دیگر صحافیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور تشدد کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔
شاہد خٹک، مینا خان آفریدی اور نعیم حیدر پینجھوتہ بھی اس موقع پر موجود تھے، جنہوں نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے بیچ بچاؤ کرایا اور شیخ آغا سرور کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر بحفاظت وہاں سے لے گئے۔
صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی یا تشدد کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ چیئرمین عمران خان اور پاکستان تحریکِ انصاف نے ہمیشہ صحافی برادری کے احترام اور آزادیٔ صحافت کو اہمیت دی ہے۔ ہمارے کارکنان کو بھی ہر حال میں صحافی برادری کے احترام اور وقار کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔
آغا شیخ سرور، شاکر اعوان، زعیم لغاری پر حملہ آور ہونے والوں کو تحریک انصاف سندھ کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے
بیشک تحریک انصاف میں کسی قسم کی بدمعاشی کی گنجائش نہیں ہے
اگر نادیہ خٹک صاحبہ کے شوہر ہارون صاحب بروقت نہ پہنچتے تو تشدد کرنے والے میری جان بھی لے سکتے تھے ہارون صاحب نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر مجھے بچایا جس پر میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں
شمع جونیجو صاحبہ کے مطابق سہیل آفریدی کو سندھ میں لانچ کیا گیا ہے ، ن لیگ کو اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے فوری طور پر میاں نوازشریف کو سندھ اور مریم نواز صاحبہ کو کے پی کے میدان میں اتار دینا چاہیے ، مجھے پورا یقین ہے کہ ایسے ناقابل یقین مناظر ہوں گے کہ جن کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا