آج سے چوبیس سال پہلے میں نے اس عظیم عورت کوپہلی دفعہ بلوچستان میں دیکھا تھا ۔ وہاں تاریخ کا بد ترین قحط پڑا تھا اور یہ خاتون لاھور سے خوراک سے بھرے ستر ٹرک لے کر چاغی اور خضدار آئی تھیں اور خود بھی ایک ٹرک پر سوار تھیں
زندہ باد لاھور کے عوام جنہوں نے پولنگ سٹیشنوں پر پاکستان کو لوٹ کر بیرون ملک جائدادیں بنانے والے نواز شریف کواس غظیم خاتون کے مقابلے میں تقریبا ایک لاکھ ووٹوں سے شکست دی اوراللہ کی لعنت اور پھٹکار ان لوگوں پر جنہوں نے اس رزلٹ کو فارم 47 میں بدلنے کے لئے ریٹرنگ آفیسر کو تھپڑ مارے اور وہ دل کے عارضے میں ہسپتال جا پہنچا اور اس کی جگہ ایک دوسرے شخص سے فارم 45 پر کاٹ پیٹ کر کے رزلٹ تبدیل کروائے گئے۔
جیل میں اس خاتون کی استقامت نے پاکستان کی عوام کاسر فخر سے بلند کیا ہے اور اس پر ظلم کرنے والوں کا نام رہتی دنیا تک ذلت و رسوائی کے ساتھ تحریر کردیا ہے ۔
ہر کوئی اپنی اولاد کے لئیے ایک نام چھوڑ کر جاتا ہے ۔ کسی کی اولاد کو تحسین ملتی ہے اور کسی کی نسلیں نفرت سے بچنے کے لئیے منہ چھپاتی پھرتی ہیں
عوام کو غلام بنانے کے لیے ملّا اور ملٹری الائینس ہمیشہ ایک پیج پر رہے ہیں۔ دین کے نام پر ذہن سازی، طاقت کے ذریعے کنٹرول اور پسِ پردہ ذاتی مفادات کا کھیل!
جب دین اور طاقت عوام کی آزادی کے بجائے اپنے مفادات کے لیے استعمال ہوں، تو نقصان پورے ملک اور معاشرے کا ہوتا ہے۔
آپ کو بتایا جاتا ہے کہ وہاں فیملی سسٹم تباہ ہوچکا، وہاں باڈی کاؤنٹ درجنوں میں چلتا ہے، وہاں لڑکیاں لڑکے ہر وقت نشے کرکے دنیا و مافیا سے بے خبر پڑے رہتے ہیں، وہاں بوڑھوں کو اولڈ ہومز میں چھوڑ آتے ہیں، اولاد کو پتہ ہی نہیں وہ کس کس باپ سے ہیں، والدین کو اولاد کی پرواہ نہیں۔ آپ نے مغرب سے متعلق سب ایسا ہی سنا ہے نا؟
آپ نے جو سنا ہے وہ سب بکواس ہے۔ مڈل کلاس آدمی ہفتے میں بس پانچ دن آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے۔ سردیاں ہیں تو گھروں میں ہیٹر ہر وقت آن رہتا ہے۔ زیادہ تر مغربی ممالک میں ایک دن کی آمدن سے دس کلو آٹے کا تھیلا، تین چار کلو گوشت، چار پانچ بوتلیں دودھ، دس میں ڈائپرز، گاڑی میں دس لیٹر تیل، سبزیاں، فروٹ کچھ لکھی پھکلی گروسری سب آجاتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ایک دن کی آمدن سے پانچ چھ دن کا کھانا پینا کام پر جانا آنا سب ہوجاتا ہے۔ اور ابھی نسبتاً بہت مہنگائی ہے۔
آپ کے ہاں مزدور کی دیہاڑی میں سے آدھے کلو بکرے کا گوشت نہیں آتا۔ بلکہ یہاں سیکنڈ لیر عام فیکٹری، سٹور یا کسی چھوٹے موٹے دفتر کے ورکر سے زیادہ پیسے کماتے ہیں۔
یہاں پولیس سے ڈر نہیں لگتا، بلکہ برطانیہ وغیرہ میں تو پولیس کو دیکھ جھپٹ لوئوں سے ڈر لگتا ہے۔ امریکہ میں بہرحال پولیس طاقتور ہے۔ عدالت، پٹواری، یونین کونسل، ان کا کبھی منہ نہیں دیکھنا پڑتا آن لائن ہر چیز پیچ ہو جاتی ہے۔ آپ کا کام کاج نہیں کر سکتے خدا نخواستہ کسی بیماری یا معذوری کا شکار ہوگئے تو حکومت آپ کے سر پر آکر کھڑی ہو جاتی ہے۔ علاج معالجہ تعلیم سب مفت ہے۔ سکولوں میں سب بچوں کو کھانا ملتا ہے۔ ہر پروفیشن، ہر ورک پلیس ہر چیز کے لائبریلاز ہیں۔ جہاں کسی کی غفلت سے آپ کا نقصان ہوگا آپ کو معاوضہ ملے گا۔ یہاں پیٹ چیرا بچہ بھی نہیں ہوتا۔ خیر آگے چلیں۔۔۔
ہفتے میں دو دفعہ کچرا اٹھایا جاتا ہے، ہر اشارے پر سیکنڈز ہیں، جگہ جگہ پارکس ہیں، وہاں گھاس کٹی ہوئی ملتی ہے، درخت تراشے ہوئے ملتے ہیں۔ بڑے شہروں میں پانچ پانچ منٹ کی واک پر میٹروبس یا سب وے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں دس دس منٹ کے واک کے اندر بس سٹاپ ہیں۔ پندرہ بیس سال پرانی گاڑی دو ہفتے کی آمدن سے آجاتی ہے۔ وہی وہی چھ سات آٹھ ماڈل جاپانی گاڑیاں جو آپ تیس تیس لاکھ میں لیتے ہیں۔ جم ہیں، سپورٹس گراؤنڈز ہیں، نوکریوں کے مواقع ہیں۔ سسٹم ہے۔
آپ کا بھی قصور نہیں ہے۔ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ زندگی کیا ہے۔ آپ یہ سوچ ہی نہیں پاتے کہ آپ کو ذلیل کرنے والے حکمران ہوں آپ کو سے خوفزدہ ہونا ہے۔ آپ کے دماغ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر آپ کے لیے یہ ملک اور اسکی حکومتیں بہترین تعلیم، بہترین صحت کی سہولیات، گالف کلب، سوئمنگ پولز پیدا نہیں کر سکتے تو آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے انہیں یہ سب عائشیاں لینے کا کوئی حق نہیں۔
آپ کو صبر شکر کا سبق تو پڑھا دیا گیا ہے۔ لیکن آپ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ صبر اور شکر اللہ کی طرف سے آتی آزمائش پر یا مشکل پر کرنا ہے۔ کسی انسان یا کسی خدا بنے فرعون کی طرف سے آزمائش آئے تو اس شخص کو ادھیڑ کر رکھ دینا ہے۔ اسلام کے قلعے کا چونچ منہ میں ڈالے بیٹھے ہیں۔ آپ جیسے ستاون مزید اسلامی ممالک کے بچوں کو یہی یہی والی پڑی دی جاتی ہے۔
آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ جغرافیائی طور پر بڑا اہم ملک ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ مطالعہ پاکستان میں یہ لکھا ہوگا کہ سوڈان لٹ گیا چاچا برباد برباد ہو گیا مر گیا؟ نہیں، یہی والی پھکلی جو آپ روز کھاتے ہیں۔
ملک پہاڑوں کی اونچائیوں یا دریاؤں کی لمبائیوں سے نہیں بنتے۔ ملک رتبے کے اعتبار اور آبادی کے اعتبار پر بھی نہیں چلتے۔ ملک نظام بناتے ہیں، ملک عوام بناتے ہیں، ملکی ترقیوں کے پیمانے وہاں کے شہریوں کی حالت زار ہوتی ہے۔ انکو ملنے والی سہولیات ہوتی ہیں۔ انکا لائف سٹائل ہوتا ہے۔
آپ دنیا کے ایک برباد ہوتے ملک میں، نہایت بدتر حالات میں، بغیر کسی سسٹم کے اپنے کٹے ہوئے دھڑوں کیساتھ زندگیاں گھسیٹ رہے ہیں۔ اپنے لیے اپنی حالات پر رحم کریں ورنہ ہر گزرتا دن آپ کے لیے اذیت اور مصیبت کا باعث ہوگا۔
ہر ایک بار نئی کا بتا کے لُوٹا گیا
ہمیں پرانی کہانی سنا کے لُوٹا گیا
ہمیں تو لُٹنے کی عادت تھی لُوٹنے والو
ستم تو یہ ہے کہ اپنا بنا کے لُوٹا گیا
کبھی اڑائے گئے دن کی روشنی میں سر
کبھی چراغ حیا کے بجھا کے لُوٹا گیا
ہمارے واسطے یہ بات بھی غنیمت ہے
کہ اب کی بار تو پہلے بتا کے لُوٹا گیا
نعیم کیسے بتاؤں، خدا کی بستی میں
کلامِ ذاتِ الٰہی سنا کے لُوٹا گیا
نعیم ضرار
دو چِڑے آپس میں لڑ رہے تھے۔ لڑتے لڑتے دونوں خون و خون ہو گئے۔ ایک باگڑ بِلّا وہاں آ گیا۔ اس نے چِڑوں کو علیحدہ کیا اور انہیں اپنے پیروں کے نیچے دبا لیا۔ پھر وہ چِڑوں کو سمجھانے لگا کہ "اے نادانو! ایک دوسرے کی جان لو گے کیا؟ بری بات ہے۔ ایسے نہیں لڑتے"۔
پھر بِلّے نے پہلے ایک چِڑے کو منہ میں ڈالا اور کھا گیا اور تھوڑی دیر بعد دوسرا بھی کھا گیا۔ دونوں چِڑے کھانے کے بعد بِلّے نے ایک زوردار ڈکار مارا اور بولا "شکر ہے میں نے بروقت مداخلت کر دی ورنہ دونوں لڑ لڑ مر جاتے"!!!
ہم نو مئی کے خوف اور وحشت سے نکل کر یہاں تک آئے ہیں۔ ہم نے وہ سناٹا توڑا ہے۔ اب تو شور ہی بہت ہے۔
وہ ہماری بقاء کی جنگ تھی جو ہم جیت گئے تھے۔ اب تمہاری فناء کی جنگ ہے جو ہم جیت جائیں گے۔
عطا تاڑر کی پختونخوا کو دھمکی کہ "آپ کو انتخاب کرنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ"
سال 2006 میں امریکی آرمی آفیسر رالف پیٹر ( Ralph Peter)کی کتاب خونی سرحدیں (Blood Borders) میں مستقبل کا یہ نقشہ تجویز کیا گیا تھا ۔
اب پاکستان کے عوام سمجھ لے کہ موجودہ ریجیم Once for All پاکستان کو کس طرف دھکیل رہا ہے۔
@SohailAfridiISF 1۔ اگر انہوں نے گولی مار دینے کا حکم دے دیا ہے تو مذاکرات کا عندیہ کس خوشی میں دیا جا رہا ہے؟
اس کا مطلب ہے کہ لانگ مارچ کا شدید ڈر بھی ہے اور اسکے بےپناہ اثرات بھی۔
2۔ اگر آپ اس لانگ مارچ کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے تو عمران خان، آپ، آپکے طرفدار اور ساری عوام سب تُن دیے جائیں گے۔
جو حلف اٹھا کر کہتے ہیں کہ وہ سیاست سے دور رہیں گے، وہ روزانہ 3,3 گھنٹے لائیو سیاسی تقریریں کرتے ہیں۔ لیکن جو پیشے اور شناخت سے سیاستدان اور سابق وزیرِ اعظم ہے، اس کے سیاست پر بات کرنے پر پابندی ہے۔
#آخری_فیصلہ_آزادی_یاشہادت
🚨 اس قوم کےسیاسی اورفوجی حکمران مسلسل جھوٹ بولتےرہےکہ ہمیںIMFمجبور کرتا ہےکہ ہم تیل، بجلی اورگیس کی قیمت بڑھائیں جبکہIMFسربراہ کہہ رہی ہےکہ پاکستان کوہمیشہ کہاکہ امیروں پرٹیکس لگاؤ غریبوں کوریلیف دو
لیکن ان بےغیرتوں نےالٹا غریبوں کاہی کچومرنکال دیا💔
آسٹریلیا کے دارلحکومت سڈنی میں فلسطین کی حمایت میں نکلنے والے جلوس نے دنیا کی تاریخ ہی بدل دی ہے. یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاجی مجمع ہے
*یہ ہوتا ہے احتجاج*
*مسلمانوں تم کیا منہ دکھاو گے کل قیامت کے دن اللہ کو؟*
😡🤲🏻😡
جتنا خرچ کنٹینرز، فورسز کی تعیناتی اور احتجاج روکنے کے انتظامات پر اٹھایا جا رہا ہے۔ اس کے ایک دن کا خرچ پمز ہسپتال کی فائر سیفٹی پر کر لیا ہوتا، تو آج وہ 14 معصوم بچے زندہ ہوتے۔