Video shows the moment the minaret of India’s 600-year-old Ujjain mosque collapsed during demolition work for a road-widening project for a Hindu pilgrimage, triggering despair among Muslims onlookers.
Officials described it as an accident caused by faulty machinery.
پھر کہتے ہیں کہ پولیس آئی جی سے اختیارات کیوں لئے جارہے ہیں۔ جو خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی کے پروٹوکول پر بھی پولیس کو سزا کے طور پر تبادلہ کرے تو ایسے آئی جی کا کیا کرنا ہے
حیران ہوں، گورنر راج کا تم نے سوچا بھی کیسے تھا؟ یہی حل نکالا تھا تم نے؟ ہمیشہ بحران پیدا کر کے تم نے اپنا اقتدار بچانے کی کوشش کی ہے، اور ہمیشہ ہی ناکام ہوئے ہو۔ یہ آپ کی کند ذہنی کی عکاسی کرتی ہے۔ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں، نہیں ہے تمہاری حیثیت گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی۔
عاصم منیر، ایک راستہ ہے: تم براہِ راست مارشل لا لگا لو۔ آرٹیکل 6 اسی مہینے لگے گا۔ نہ آپ کے پلے، نہ آپ کی آگے کی ہوئی اس فارم 47 کی پیداوار حکومت کے پلے کچھ ہے۔
میری جنگ کسی فردِ واحد کی نہیں، جمہوریت کی ہے، اور ازل سے ہے۔ قوم نے جس کو ووٹ دیا ہے، جس کو وہ دیکھنا چاہتی ہے، جس کا تم نے مینڈیٹ چھینا ہے، عاصم منیر، پھر کہہ رہا ہوں: پاکستان کے مسائل کا حل اڈیالہ میں بیٹھے اسی قیدی کے پاس ہے۔
سہیل آفریدی اور اس کے ساتھ جو کھڑا رہے گا، وہی سُرخرو ہوگا!
جو پاکستان قائدِاعظم نے بنایا تھا، وہ اسٹیبلشمنٹ نے کہیں گم کر دیا۔ 80 سال میں پہلی مرتبہ ایک شخص نے تمہیں ایکسپوز کیا اور عوام کو awareness دی۔ میں اس کے ساتھ یہ جنگ اس لیے لڑ رہا ہوں کہ وہ پاکستان، جہاں قائدِاعظم نے پالیسی میکر عوام کے منتخب نمائندوں کو بنایا تھا اور تمہاری حیثیت servant of the people کی رکھی تھی، وہ پھر کہیں گم نہ ہو جائے۔ اس لیے میری باتوں کو personally نہ لیں اور ان پر غور کریں!
امید ہے اب سمجھ آگئی ہوگی کہ میں عمران خان کے ساتھ کیوں ہوں!
انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے فرزانہ جیسی بہادر اور حق گو صحافی کا یوں نوکری سے نکالا جانا، فرزانہ پاکستان کی خواتین صحافیوں کے لیئے مشعلِ راہ ہیں اور خیبر ہلتونخواہ کا فخر بھی۔
نہایت اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی جس نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ مخصوص طاقتور حلقوں میں اب یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں ڈھیٹ بنے رہو۔۔۔
جب بھی ملک کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس غدار وطن کا نام ملک قیوم ، مولوی مشتاق ، فایز عیسی کے ساتھ آئے گا جنہوں نے ایک ڈکٹیٹر کیلئے ملکی آئین کیساتھ کھلواڑ کیا۔ اس کالے چہرے کے کالے کرتوت نجانے پاکستان کو کب تک بھگتنا پڑیں گے
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“