بالکل درست۔ عوام راج ہی وہ راستہ ہے جو موروثی سیاست، شخصیت پرستی اور سیاسی ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ جب فیصلے افراد کے بجائے اصول، آئین اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے تو حقیقی جمہوریت اور عوامی اختیار قائم ہوگا۔
اقرار الحسن نے اگر کسی بات پر معذرت کی ہے تو یہ ان کے ظرف اور بڑے پن کی نشانی ہے۔ اختلافِ رائے ہر کسی کا حق ہے، لیکن افسوس کہ سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نے تنقید کی حد پار کرتے ہوئے اقرار بھائی اور ان کی فیملی کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کی۔ ایسے رویوں کی مذمت ہونی چاہیے۔
اگر غلطی پر معافی مانگنا قابلِ تعریف ہے تو پھر دوسروں کی کردار کشی اور گالم گلوچ پر بھی معذرت ہونی چاہیے۔ شعور صرف اپنے پسندیدہ شخص کے دفاع کا نام نہیں، بلکہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے اور ہر معاملے میں ایک ہی اصول اپنانے کا نام ہے۔
اقرارالحسن نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سے ڈر کر عمران خان سے معافی مانگی؟؟ سوشل میڈیا ٹرولز کے کمنٹس پر ردعمل دینا میری کمزوری تھی اور معذرت کر کے آگے بڑھنا میری طاقت ہے۔ اللہ مجھے ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔
یوٹیوبروں کے علاوہ عمران خان صاحب کے جیل میں رہنے سے کس کا فائدہ ہو رہا ہے؟ خود عمران خان صاحب کا؟ پی ٹی آئی کا؟ عوام کا؟ یا پاکستان کا؟
“ڈٹ گیا ہے” کا بیانیہ بنانے کی بجائے مصلحت اور مفاہمت سے عمران خان صاحب کے باہر آنے کی کوئی تدبیر کرنی چاہیے، خان صاحب کی صحت اور قوم کی صحت کے لیے یہی بہتر ہے۔
اللہ عمران خان اور پاکستان کے لیے آسانیوں کا معاملہ فرمائے۔
پاکستان عوام راج تحریک — ان شاء اللہ بلوچستان کے نوجوان بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے کر نئی تاریخ رقم کریں گے۔ اب فیصلے خاندانی سیاست نہیں بلکہ پڑھے لکھے، باصلاحیت اور باشعور نوجوان کریں گے۔ بلوچستان کا روشن مستقبل اس کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ✌️
@iqrarulhassan
اقرار الحسن صاحب پر بات کرنے والی فضیلہ قاضی محترمہ خود شخصیت پرستی میں مبتلا ہیں۔ آپ کو ہمارا چیلنج ہے کہ آئیں اور اقرار بھائی کے سامنے بیٹھ کر مکمل دلائل کے ساتھ بات کریں، آپ کو سب جوابات مل جائیں گے۔ #iqrqrulhassan#awamraaj#fazilqqazi#Pakistán#pakistanneedawamraj
باقی سیاستدان کہتے ہیں:
"ہمیں ووٹ دو تاکہ ہم وزیراعظم بنیں"
لیکن اقرار الحسن کہہ رہے ہیں:
"پاکستان کے عام لوگ، مڈل کلاس اور نوجوان حکمران بنیں"
یہ صرف سیاست نہیں، سوچ کی تبدیلی ہے
یہی اصل #عوام_راج ہے
@iqrarulhassan
جب تک عوام راج قائم نہیں ہوتا، اشرافیہ عوام کے حقوق پر قابض رہے گی۔
ووٹ لینے کے وقت وعدے کیے جاتے ہیں، مگر اقتدار ملتے ہی غریب اور متوسط طبقہ بھلا دیا جاتا ہے۔
عوام کو حقیقی ریلیف اسی دن ملے گا جب اقتدار میں عوام میں سے لوگ آئیں گے، نہ کہ وہ لوگ جو نسل در نسل اقتدار کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔
#عوام_راج
@iqrarulhassan
کسان کے مسائل کے حل کے لیے جب تک آپ جاگیرداروں کو منتخب کرتے رہیں گے، کسان رُلتا رہے گا۔ مزدور کی تکلیفیں دور کرنے کے لیے جب تک آپ سرمایہ داروں کو ووٹ دیتے رہیں گے، مزدور روتا رہے گا۔۔۔۔ کسان اور مزدور کی اولاد کو آگے لائیے۔ عوام کا راج لگائیے۔
عوام راج تحریک نہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف ہے اور نہ ہی کسی مخصوص طبقے یا مکتبِ فکر کے خلاف۔ ہمارا مؤقف ہمیشہ اصول، آئین، جمہوریت اور عوامی مفاد کے مطابق رہا ہے۔ ہم شخصیات کے نہیں بلکہ پالیسیوں، فیصلوں اور نظام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اور ہر دور میں ایک ہی اصول پر قائم رہے ہیں۔
صرف GDP کو دیکھ کر کسی بھی حکومت کے اہل یا ناہل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ معیشت صرف ایک عدد کا نام نہیں۔
معیشت کا جائزہ لیتے وقت مہنگائی، بے روزگاری، کرنٹ اکاؤنٹ، زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات، درآمدات، قرضوں کی صورتحال اور عوام کی قوتِ خرید سمیت کئی عوامل کو دیکھنا پڑتا ہے۔
جہاں تک 2021-22 کی بلند GDP Growth کا تعلق ہے، یہ وہ دور تھا جب دنیا بھر کی معیشتیں کووڈ کے بعد ریکوری فیز میں تھیں۔ لاک ڈاؤن کے خاتمے اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے باعث کئی ممالک میں عارضی طور پر شرح نمو غیر معمولی حد تک بڑھی، جو بعد میں معمول کی سطح پر واپس آ گئی۔
اسی لیے صرف ایک سال کی GDP اٹھا کر پوری معاشی کارکردگی کا فیصلہ سنانا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ معیشت کتنی پائیدار تھی، بیرونی کھاتوں کی کیا حالت تھی، ذخائر کتنے تھے، مہنگائی اور قرضوں کا بوجھ کیا تھا، اور عام آدمی کی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔
معیشت کو ایک عدد نہیں، مکمل تصویر کی روشنی میں جانچا جاتا ہے۔
@iqrarulhassan@ali_aimy@Ehsan39897046@iAmjadKhann@iemziishan
جب عمران خان حکومت چھوڑ کر گئے تو GDP 6.1% تھی اور اب تجربہ کار حکومت کی بدولت ملک کی GDP 3.2% ہے - یہ لوگ 2023 میں GDP 0.3% ، جبکہ 2024 میں %2.4 اور 2025 میں %3 پر لے آئے۔ لیکن پھر بھی نااہل عمران خان تھا اور ان کو اُٹھا کر لایا گیا تھا کہ ائیں ملک سنبھالیں پلیز
جب بھی ہم سیاسی آمریت، امتیازی سلوک یا جمہوری حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو فوراً الزامات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے کہ فلاں کو کسی نے لانچ کیا ہے یا فلاں کسی کا نمائندہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا مؤقف آج بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا: جمہوریت میں ہر شہری، ہر سیاسی جماعت، ہر عہدے دار اور ہر مکتبۂ فکر کو برابر کے حقوق حاصل ہونے چاہییں۔ اختلافِ رائے کسی کی مہربانی نہیں بلکہ ایک بنیادی جمہوری حق ہے، اور ہم ہر فرد کے اس حق کے ساتھ کھڑے ہیں، خواہ وہ ہمارا حامی ہو یا مخالف۔
گزشتہ 5 ماہ سے مجھ پر خیبرپختونخواہ اسمبلی میں بولنے پر پابندی عائد کی گئی ہے،میرا جرم نہیں بتاتے،ڈکٹیٹرانہ طرز سیاست تاریخ میں ریکارڈ ہورہا ہے،ایک جلال خان کی اپوزیشن سے اتنا خوفزدہ ہیں
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل،
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے۔
"مذمت پہلا قدم ہوتا ہے، آخری نہیں۔ عوام راج کا مؤقف واضح ہے کہ اگر کسی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں، جلسوں یا انتخابی مہم سے روکا جاتا ہے تو اس کے خلاف قانونی، آئینی، سیاسی اور عوامی سطح پر آواز اٹھائی جائے گی۔ ہم کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ اصول کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آج اگر پی ٹی آئی کے حقِ انتخابی مہم پر پابندی غلط ہے تو کل یہی عمل کسی اور جماعت کے خلاف بھی غلط ہوگا۔ عوام راج شخصیتوں نہیں، برابر کے سیاسی حقوق، قانون کی حکمرانی اور یکساں اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔"
بات کرنے والا کوئی بھی ہو، اصول سب کے لیے ایک جیسے ہونے چاہییں۔ اگر ایک جماعت کو انتخابی مہم چلانے کی مکمل اجازت دی جا رہی ہے جبکہ دوسری جماعت کو اس حق سے محروم رکھا جا رہا ہے تو یہ قابلِ مذمت ہے۔ عوام راج تحریک ہمیشہ اصولوں، انصاف اور برابری کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ جو اصول ایک جماعت کے لیے ہوں، وہی بلاامتیاز تمام جماعتوں پر لاگو ہونے چاہییں۔
ہر الیکشن میں عوام کو کچھ دینے کے وعدے ہوتے ہیں، عوام راج کا سوال اس سے آگے ہے: عوام کو دینے والا کون ہوتا ہے؟ اصل اختیار تو خود عوام کے پاس ہونا چاہیے، نہ کہ چند حکمرانوں کے پاس۔
@iqrarulhassan
جلسہ کوئی بھی ہو، ضلع کوئی بھی ہو، تقریر وہی: "میں آپ کو زمین کا مالک بنانا چاہتا ہوں۔
لگتا ہے پوری تقریر اسی ایک جملے کے گرد گھوم رہی ہے۔
گلگت بلتستان کے عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ کراچی کے عوام کے لیے کیا کیا گیا؟ کیونکہ وعدوں سے زیادہ اہم کارکردگی ہوتی ہے۔
#GilgitBaltistan #GBElection2026
عوام نے ن لیگ اور پی پی پی کی سیاست کو تو یکسر مسترد کر دیا، لیکن کیا نمبر ون مقبولیت والے عمران خان نے اس ملک کو کوئی حقیقی تبدیلی دی؟سچی بات یہ ہے کہ ملک آج بھی وہیں کھڑا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت صرف ایک شخصی بت بن چکی ہے، جہاں عوام اندھی تقلید میں مصروف ہے، @AwamRajmardan
یہ محض ایک عہدہ نہیں، ایک متوسط طبقے کی برسوں کی محرومیوں کا جواب ہے۔
ایک ایسا نوجوان جس نے بجلی کے بلوں کی فکر بھی دیکھی، مہنگائی کا بوجھ بھی سہا اور میرٹ کی پامالی پر خون کے آنسو بھی روئے۔ جب ایسا مڈل کلاس ذہن ملک کا وزیراعظم بنے گا، تو پالیسیاں ڈرائنگ رومز میں نہیں بلکہ غریب کی جھونپڑی اور مڈل کلاس کے کچن کو دیکھ کر بنیں گی۔ یہ اقتدار کی نہیں، عام پاکستانی کے خوابوں کی جیت ہے
اب راج کرے گی خلق خدا
@iqrarulhassan
کوئی بات نہیں۔ دنیا کی کوئی کامیاب تحریک ایسی نہیں جس کا ابتداء میں لوگوں نے مذاق نہ اُڑایا ہو، جس پر خلق ہنسی نہ ہو، جس پر الزامات نہ لگے ہوں۔
کچھ بھی ہو، عام لوگوں کو تخت پر بٹھانے کی یہ تحریک ضرور کامیاب ہو گی۔ مڈل کلاس راج کرے گی۔ عام آدمی حکمران ہو گا۔
عوام راج زندہ باد ❤️
اگر کوئی شخص مجرم ہے تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ لیکن اگر کسی اہلکار نے قانون سے ہٹ کر املاک کو نقصان پہنچایا ہے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ عوام راج میں نہ شہری قانون سے بالاتر ہے، نہ وردی۔
پولیس گھر توڑ رہے ہیں!!
دادو پولیس گھر کو کیوں توڑ رہےہیں ؟؟
اگر کسی نے جرم کیا ہو تو اسکو پکڑو قانون کے حوالے کرو, قانون تو ویسے ختم ہے لیکن پھر بھی گھر توڑنا کس قانون کے تحت ہورہا ہے؟؟؟