Leaving
for New Place...🚗
2nd Home City.🫂😢
2 Grave's Behind 💔💔😥
New People -New Thoughts-New Connections
Thanks for All those who supported me during Last 4 Hard Months Back to Back Life Loses.
Stay Blessed You All.
Mobile me Numbers are Fake
#عيد_الفطر_١٤٤٧ه#قومی_زبان
کور ممبران کی گرفتاری کے حوالے سے فیک نیوز چلائی جا رہی ہیں۔عوام سے گزارش ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔ایک ضروری بات، کسی کو گالی نہ دیں۔ یہ کشمیریوں کی روایت نہیں۔ ہمارا مؤقف، ہماری جدوجہد اور ہمارا احتجاج دلیل، اخلاق اور شعور کے ساتھ ہے۔ اختلاف ضرور کریں مگر اپنی تہذیب، روایات اور کردار کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔شوکت نواز میر
کشمیری مہاجرین کی سیٹیں
کچھ حقائق اور سوالات
بنیادی طور پہ یہ سیٹیں اس لئے مختص کی گئی تھیں کہ جب بھی کشمیر پہ اقوام متحدہ کا ریفرنڈم ہو یہ پاکستان کے حق میں ووٹ دیں ، بالکل اسی طرح جس طرح پاکستان نے گلگت و بلتستان کو بھی کشمیر کا حصہ بنانے کا رسک اس لیے لیا کہ زیادہ ووٹ مل سکیں۔ حالانکہ گلگت و بلتستان کا کشمیر سے کچھ لینا دینا ہی نہ تھا۔
سوال یہ ہے کہ آیا اقوام متحدہ بھی یہ تسلیم کر چکاہے کہ کشمیری مہاجرین کی نشستیں کشمیر کے کسی ریفرنڈم میں شمار ہونگی ؟
کیا اقوام متحدہ کے کسی ایسے فیصلہ کا حوالہ دیا جا سکتا ہے ؟
کیونکہ اقوام متحدہ کا فیصلہ تو عوامی ریفرنڈم کا ہی بتاتا ہے کسی اسمبلی کے فیصلہ کا نہیں۔
اگر کشمیر پہ ریفرینڈم ہی ہونا ہے تو ضروری یہ ہے کہ تمام کشمیری مہاجرین اقوام متحدہ کے رجسٹر برائے مہاجرین میں درج کرائیں تاکہ انکی اصل شہریت ضائع نہ ہو جس طرح فلسطینی کراتے ہیں۔ اور جب بھی عالمی قوانین کے تحت ریفرنڈم ہو تو ووٹ ڈال سکیں۔
کشمیر کے لوگوں سے یہ حق چھیننا اسی طرح ہوگا جس طرح اہل غزہ سے انکا فلسطینی ہونے کا حق چھین لیا جائے۔
ماچھی ایک بکا ہوا اسرائیلی ٹاؤٹ ہے جسکو کشمیر اور فلسطین پہ کسی فیصلہ کا حق نہیں۔ یہ پاکستان سےغداری ہے۔
عمیر فاروق
الفاظ کا استعمال بتا رہا ہے گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہو،
آزاد کشمیر کے عوام ایسے بزدل لیڈر کے مستحق نہیں جو عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے کمنٹ سیکشن آف رکھے
ہیں
لعنت ایسی امپورٹڈ حکومت اور ان کے ہینڈلرز پر
شفاف انتخابات صرف سیاسی جماعتوں کی ضرورت نہیں بلکہ ریاستی استحکام کی بھی ضرورت ہیں۔ جب انتخابی عمل پر وسیع اعتماد موجود ہو تو سیاسی کشیدگی کم اور قومی یکجہتی زیادہ ہوتی ہے
#GhostElection
پچھلی مرتبہ نشان چھین کر کیمپین سے روک کر الٹے سیدھے نشان الاٹ کرکے ، کاغذات نامزدگی چھین کر اور میڈیا بلیک آوٹ کرکے بیٹھ گئے تھے لیکن آٹھ فروری ہوگیا تھا۔ اس مرتبہ ان سارے انتظامات کیساتھ کیمپین پر بھی زور لگا رہے ہیں اور جھوٹ فیڈ کرنے پر بھی ، لیکن سات جون تو ہوگا۔
کچھ ہی عرصہ قبل کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی لگایا گیا ہے،
حالانکہ متعدد سینئر ترین افسران موجود تھے، پولیس محکمے کے اندر سے اس تعیناتی پر کافی مزاحمت بھی ہوئی۔
لیاقت علی ملک کی گزشتہ چار سال میں تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن اور عمران خان کی گرفتاری میں ناقابل فراموش خدمات ہیں
نوجوان صحافی عبید بھٹی کا ٹویٹ
تصویر کا دوسرا رخ:
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک معمر شخص کی ویڈیو کے بعد اب اس واقعے کا ایک انتہائی چونکا دینے والا دوسرا رخ سامنے آیا ہے، جس نے کہانی کا رخ بالکل بدل دیا ہے۔ چند روز سے انٹرنیٹ پر ایک بوڑھے شوہر کی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے ازدواجی تعلقات سے انکار پر اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔ تاہم، مقامی ذرائع اور زیرِ گردش نئی معلومات کے مطابق یہ معاملہ گھریلو ناچاقی اور کروڑوں روپے کی جائیداد کے تنازع کا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ خاتون گزشتہ چار سال سے شدید فالج کے عارضے میں مبتلا تھیں اور جسمانی طور پر معذور تھیں، جس کی وجہ سے وائرل ویڈیو میں کیا جانے والا دعویٰ حقیقت سے دور نظر آتا ہے۔ اصل تنازع مین مارکیٹ میں واقع ایک دکان کا ہے جو مقتولہ کے نام پر تھی اور اس کی مالیت دو سے تین کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ مبینہ طور پر مقتولہ کے بچے اس قیمتی دکان کو بیچنا چاہتے تھے جبکہ ماں اس کے حق میں نہیں تھی، اور اسی جائیداد کے لالچ میں بچوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
اس معاملے کا سب سے لرزہ خیز پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ ضعیف العمر باپ اپنے بچوں کو قانون کی گرفت اور سزا سے بچانے کے لیے اس قتل کا الزام مبینہ طور پر اپنے سر لے رہا ہے۔ واقعے کے بعد جب بوڑھے شخص نے دکان اور جائیداد کے لین دین کے حوالے سے سادہ زبان میں بات کی، تو سوشل میڈیا پر سنسنی پھیلانے والے عناصر نے اس کا غلط مطلب نکالا اور معاملے کو غلیظ رنگ دے کر وائرل کر دیا۔ اب یہ رائے مضبوطی سے سامنے آ رہی ہے کہ یہ معمر شخص خود قربانی کا بکرا بن کر اپنے بچوں کا گناہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر پولیس اور متعلقہ اداروں سے جائیداد کے تنازع کے زاویے سے گہرائی میں تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔