دشمن کو بھی سینے سے لگانا نہیں بھولے
ہم اپنے بزرگوں کازمانہ نہیں بھولے
تم آنکھوں کی برسات بچائے ہوئےرکھنا
کچھ لوگ ابھی آگ لگانا نہیں بھولے
یہ بات الگ ہاتھ قلم ہوگئے اپنے
ہم آپکی تصویر بنانا نہیں بھولے
اِک عمر ہوئی میں تو ہنسی بھول چکاہوں
تم اب بھی میرے دل کو دُکھانا نہیں بھولے