ان مولویوں کے سامنے قانون اتنا کمزور کیوں ہے؟
توبہ کا پیکج صرف "اپنے قبیلے" والوں کے لیے رعایتی نرخ پر دستیاب ہے۔ عام غریب آدمی اور بے گناہ نوجوانوں کے لیے نہ توبہ ہے، نہ رعایت سیدھا 295-C اور جیل۔ موت کی چکی۔
یہ سہولت کسے مل رہی ہے؟
ادارے ان سے ٹکرانے سے ڈرتے ہیں۔
ان کی پکڑ کون کرے گا؟
ابھی تک کوئی ادارہ ان کے خلاف حتمی کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔
یہ دوقومی نظریہ کو بند ہوگا۔۔؟
#StopBlasphemyBusiness
#JusticeFor450
سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں بلاسفیمی بزنس گینگ نےصاف الفاظ میں کہا تھا کہ اگر کوئی کمیشن بنا تو وہ ان کے خلاف کام کرے گا۔ یعنی وہ جانتے تھے کہ اگر سچی اور گہری تحقیقات ہوئی تو وہ پھنس جائیں گے۔
اسی وجہ سے وہ اس کمیشن سے بھاگ گئے۔
اب جب وزارت داخلہ نے ملزمان کی ڈیوائسز کا فرانزک کرو انے کا فیصلہ کیا ہے، تو یہ قدم قابلِ تعریف ہے۔
لیکن جب تک مدعیان کے موبائل فونز، ان کی چیٹس اور ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک نہیں ہوگا، تب تک پورا سچ سامنے نہیں آئے گا۔
کیونکہ 450 سے زائد نوجوانوں کی زندگیاں انہی مدعیان نے تباہ کی ہیں۔ اگر الزامات سچے ہیں تو مدعیان کے فون فرانزک سے ڈرنے کی کیا وجہ ہے؟
محسن نقوی صاحب سے گزارش ہے کہ مدعیان کے فون کا بھی فوری فرانزک کروایا جائے۔
انصاف کا تقاضا یہی ہے۔
#StopBlasphemyBusiness
#JusticeFor450
@MohsinnaqviC42
🔴 پاکستان کے چار شہروں (لاہور ، کراچی ، راولپنڈی اور اسلام آباد) میں بنائے گئے کیسز کا ڈیٹا انتہائی حیران کن ہے
📍جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ 450 انسانی زندگیاں مدعیان کے موبائلز کے فرانزک کروائے بغیر ہی داؤ پر لگادی گئی ہیں ۔
📍لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں 450 سے زائد متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کی زندگیاں تباہ کردی گئیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ کیسز بنانے والے مدعیان کے موبائل فونز کا آج تک فرانزک ہی نہیں کروایا گیا۔
📍آخر کیوں؟ اگر الزامات سچے ہیں تو فرانزک سے خوف کس بات کا؟
سینکڑوں کیسز میں مدعیان کا فرانزک کیوں نہ کیا گیا ؟؟؟؟؟
📍ہم وفاقی وزیر داخلہ جناب محسن نقوی صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام مدعیان کے موبائلز، چیٹس، کال ریکارڈز اور ڈیجیٹل شواہد کا فوری فرانزک کروایا جائے۔ اصل کہانی وہیں چھپی ہوئی ہے۔
📍ان کیسز میں رینڈم لوگوں کو مدعی بنایا گیا، لڑکیوں کا استعمال کیا گیا، اور جھوٹ پر مبنی ایک پوری بلڈنگ کھڑی کردی گئی۔ 450 سے زائد زندگیاں تباہ کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔
انسانی زندگیاں کوئی کھیل نہیں۔ ہمارے بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے مدعیان کے موبائلز کا فرانزک کیا جانا ضروری ہے ۔
@MohsinnaqviC42@MOIOfficialPak@OfficialDGISPR
امان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے جیل جانے کے بعد بلاسفیمی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسے نوجوانوں کے خاندان اب بے سہارا ہو گئے ہیں۔
پہلے یہ خاندان ان دونوں وکیلوں پر انحصار کرتے تھے، جو بہت سے مقدمات مفت لیتے تھے۔ اب جب وہ جیل میں ہیں تو نہ تو کوئی وکیل آسانی سے مل رہا ہے، اور نہ ہی کوئی ان کے مقدمات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
بہت سے خاندان بتاتے ہیں کہ وکلاء یا تو کیس لینے سے انکار کر دیتے ہیں، یا اتنی بھاری فیس مانگتے ہیں کہ وہ ادا نہیں کر سکتے۔
یہ صرف دو وکیلوں کی گرفتاری نہیں ہے، بلکہ بے گناہ متاثرین کے لیے انصاف کے آخری راستے کو بھی بند کیا جا رہا ہے۔
#ReleaseImaanAndHadi
#JusticeFor450
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت نے ان تمام مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا حکم دیا تو اس کمیشن کا کام ہی یہ تھا کہ وہ ہنی ٹریپنگ، جعلی مقدمات، رقم کی تقسیم، اغوا اور ٹارچر سمیت پورے نیٹ ورک کا تجزیہ کرے اور اصل مجرموں کو سزا دے۔
اسی وجہ سے یہ لوگ اس کمیشن سے بھاگ گئے۔ انہیں پتہ تھا کہ اگر کمیشن نے کام کیا تو ان کا سارا کاروبار بے نقاب ہو جائے گا۔
آج دو سال سے زیادہ گزر چکا ہے۔ اتنا کچھ سامنے آنے کے باوجود حکومت ان 20-30 لوگوں کے گینگ کی کوئی انکوائری نہیں کر رہی۔ جبکہ پورے ملک میں انہی لوگوں نے سینکڑوں نوجوان لڑکوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا ہوا ہے اور ان کی کوئی سننے والا نہیں۔
#stopblasphemybussnies
شہزاد خان، راؤ عبدالرحیم کا قریبی ساتھی اور بلاسفمی بزنس گروپ کا اہم رکن ہے ۔ راؤ اسے اپنا ڈرائیور بھی کہتا ہے
شہزاد گیارہ نوجوانوں کو بلاسفمی کے دو نمبر مقدموں میں پھنسا چکا ہے ۔ فیکٹ فوکس نے جولائ ۲۰۱۴ میں اِس کی ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں یہ بلاسفمی کے دو نمبر کیس میں ایک لڑکے کو ہنی ٹریپ کرنے کے بعد اغواہ کر رہا ہے
اغوا سمیت ٹارچر کرنے اور بلاسفیمی بزنس گروپ کے سوشل میڈیا ہینڈلز اوپریٹ کرنے میں مرکزی کردار ہے
ایک سرکاری تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ شہزاد خان کے بینک اکاؤنٹ سے بلاسفمی گروپ کے دیگر اراکین اور نئے شکایت کنندگان میں رقم تقسیم ہوتی ہے۔
ہنی ٹریپنگ کے لئے استعمال ہونی والی خواتین کے ساتھ مستقل رابطے میں رہتا ہے
اس کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک کا بھی بڑا سپورٹر ہے اور اُن کی سر تن سے جدا والی ideology کا حامی ہے
دو سال ہو چکے ہیں اس پورے معاملے کو عوام کے سامنے رکھے لیکن موجودہ حکومت بجاۓ کہ ان دہشت گردوں پر کریک ڈاؤن کرے بلکہ ان کو بچانے کے لیے پوری سہولت کاری کر ہے ۔ بچا کچا عدالتی نظام بھی تباہ کر دیا ہے
https://t.co/fQghemx79A
#StopBlasphemyBusiness
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملزمان کی ڈیوائسز نیشنل فرانزک ایجنسی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک اچھا قدم ہے، لیکن ناکافی ہے۔
بہت سے مقدمات میں مدعیان کے فون ضبط ہی نہیں کیے گئے۔ جب فون ہی ضبط نہیں ہوا تو ان کا فرانزک کیسے ممکن ہے؟
صرف ملزمان کی ڈیوائسز کا فرانزک کروانے سے معاملہ کی تہہ تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ جب تک مدعیان، ہنی ٹریپنگ لڑکیاں اور واٹس ایپ گروپ ایڈمنز کی ڈیوائسز کا بھی مکمل فرانزک نہ ہو، تب تک اصل سازش، مواد کہاں اور کس نے بنایا، اور کون لوگ جھوٹے مقدمات بنا رہے ہیں ۔ یہ سب سامنے نہیں آ سکتا۔
@MohsinnaqviC42
مُلزمان کے ساتھ ساتھ جب تک مدعیان مقدمات، ہنی ٹریپنگ خواتین اور وٹس ایپ گروپ ایڈمن کے موبائل فونز کو فرانزک میں شامل نہیں کیا جاتا،
اور
فرانزک سائنس ایجنسی اس بات کا تعین نہیں کرتی کہ ممنوعہ مواد کی تیاری کہاں اور کیسے ہوتی ہے، معاملہ کی تہہ تک نہیں پہنچا جا سکتا۔
@MohsinnaqviC42
نبی ﷺ نے فرمایا:
"منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان بھٹکتی پھرتی ہے؛ کبھی ایک ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کی طرف جاتی ہے۔"
مفتی ثمر عباس بھی اسی منافق کی مثال ہیں جس کے بارے میں نبی پاک ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا۔
پہلے وہ خود کہتے رہے کہ "گستاخی پر کوئی معافی نہیں، شریعت میں کوئی رعایت نہیں"۔
لیکن جب خود ان پر الزام لگا تو انہوں نے معافی مانگ لی اور بظاہر اس معاملے سے آزاد ہو گئے۔
یہ بالکل وہی منافقت ہے جو نبی ﷺ نے منافق کی مثال میں بیان فرمایا۔
انہی علماء کی وجہ سے گورنر کو گولی لگی۔
پہلے آگ لگاتے ہیں، پھر کہتے ہیں "میں نے تو صرف بات کی تھی۔
#StopBlasphemyBusiness
#JusticeFor450
بلاسفیمی بزنس گینگ مفتی ثمر عباس کے خلاف FIR کیوں نہیں درج کروا رہی؟
یہ گینگ غریب لڑکوں، نوجوانوں اور عام لوگوں کو جھوٹے بلاسفیمی کے الزام میں پھنسانے کا کام کرتی ہے۔ 450 سے زائد بے گناہ بچے اسی جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان پر قادیانی کا لیبل لگایا جاتا ہے، فنڈز اکٹھے کیے جاتے ہیں، اور "حقیقی اسلام کی حفاظت" کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب مفتی ثمر عباس جیسے بڑے عالم نے گستاخی کی تو یہ گینگ ان کے خلاف FIR کیوں نہیں کروا رہی؟
پہلی وجہ:
اس سے انہیں کوئی مالی فائدہ نہیں ہوگا۔
450 معصوم بچوں کو پھنسانے سے چندہ ملتا ہے، عطیات ملتے ہیں، "اسلام بچانے والوں" کا لیبل ملتا ہے۔قادیانی کارڈ کھیلا جاتا ہے۔ مفتی صاحب پر الزام لگانے سے کچھ نہیں ملے گا۔ اس لیے یہ کیس ان کے "بزنس" میں فٹ نہیں بیٹھتا۔
دوسری وجہ:
یہ وہی مفتی اور علماء ہیں جنہوں نے برسوں سے عوام کو برین واش کیا کہ "295-C میں کوئی معافی نہیں، کوئی توبہ نہیں، کوئی رعایت نہیں!" (لیکن اپنے طبقے کو ہے)
انہی کی آواز سے یہ بزنس چل رہا ہے۔
اس لیے وہ خاموش ہیں۔
تیسری وجہ
اگر کوئی کہے کہ "وہ عالمِ دین ہیں، دین کی خدمت کرتے ہیں، اس لیے معاف کر دو" — تو یہ بات بھی جھوٹی ہے۔
کیونکہ انہی کے مطابق 295-C میں کوئی رعایت نہیں۔
انجینئر محمد علی مرزا نے تو صرف یہ بتایا تھا کہ عیسائی ہمارے نبی پاک ﷺ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے خود گستاخی نہیں کی۔ پھر بھی ان پر 295-C کا مقدمہ درج ہوا اور انہیں "عالمِ دین" ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔
نتیجہ:
یہ دین کی خدمت نہیں، یہ صرف بزنس ہے۔
جب فائدہ ہو تو 450 معصوم بچوں پر 295-C کا پھندا کس کرتے ہیں۔
جب "اپنے" پھنس جائیں تو توبہ، معافی، اور خاموشی کا ڈھونگ۔
#StopBlasphemyBusiness
#JusticeFor450
جج کو حیرانی اس بات پر تھی کہ بلاسفیمی کے الزام والے لوگوں کی فیملی بھی جیل میں ان سے ملنے آتی ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ جج کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ "ایسے لوگ" اتنے گناہگار ہوتے ہیں کہ ان کی اپنی فیملی بھی ان سے تعلق ختم کر دیتی ہے۔
جب کوئی جج کسی ملزم کو پہلے ہی "انسان" کے بجائے "الزام کا موضوع" سمجھ بیٹھے، تو پھر انصاف کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی متاثر ہو جاتا ہے۔
جب نظام کے اندر یہ ذہنیت بیٹھ جائے کہ "بلاسفیمی والا کوئی بھی ہو سکتا ہے، سوائے ہمارے اپنے طبقے کے"، تو پھر جھوٹے الزام لگانے والوں کو بھی ہمت ملتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بلاسفیمی بزنس گینگ آج تک پکڑی نہیں گئی۔
جب تک یہ ذہنیت عدالتوں اور اداروں میں موجود رہے گی، تب تک بے گناہوں کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکتا۔
#JusticeFor450
#StopBlasphemyBusiness
🔵📍 لاہور کیسز اپڈیٹ: نیا جج نئے ریمارکس
📍پرانا جج مدعی کا شناختی کارڈ نہ دیکھ سکا اور ٹرانسفر ہوگیا اور نیا جج آگیا مگر 👇
📍 گزشتہ دنوں عدالت میں پیشی کے موقع پر لڑکوں نے نئے اپوائنٹ کئے گئے نصرت نام کے جج سے درخواست کی کہ سر منگل والے دن کیمپ جیل میں ہماری ملاقات آتی ہے تو منگل کے علاؤہ دنوں میں سماعت رکھ لیں
📍اس پر جج نے حیران ہوکر پوچھا کہ آپ لوگوں کی بھی ملاقات آتی ہے ؟
مطلب آپکی فیملیز بھی آپ کو ملنے آتی ہیں ؟؟
📍یہ عجیب و غریب ریمارکس عجیب ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جیسے یہ کوئی جانور ہیں جن کی کوئی ملاقات نہیں آسکتی یا ان کی فیملیز نے ان کو بے یار مددگار چھوڑ دیا ہوا ہے کہ ان سے ملنے بھی کوئی نہ آتا ہوگا کیوں کہ ان پر بلاسفیمی بزنس گروپ نے بلاسفیمی کا الزام لگا رکھا ہے ؟؟
📍اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جج کو یہ معلومات نہ ہوں کہ حوالاتیوں کی ملاقات نہیں آتی ، جج کو حیرانگی اس بات پر تھی کہ ان پر بلاسفیمی کا الزام ہے تو ان کی ملاقات بھی آتی ہے ؟؟ جیسے یہ کوئی اچھوت ہوں یا یہ شاید انسان نہیں ہیں ۔ ؟
اب اس سوچ کے ساتھ کوئی کیسے انصاف کی توقع رکھ سکتا ہے ؟
#450LivesMatter #JusticeFor450
دین فروشوں کے دو روپ!
اپنے لیے توبہ اور معافی،
دوسروں (450 بے گناہوں) کے لیے "شریعت کے مطابق" سزا؟
یہ وہی دوہرا معیار ہے جس کی وجہ سے بلاسفیمی بزنس پھل پھول رہا ہے۔
اگر مفتی صاحب کی توبہ قبول ہے تو 450 مظلوموں کی بھی ہو!
ایک عام انسان کو دین کا اتنا علم نہیں ہوتا جتنا ایک عالم دین کو ہوتا ہے۔ اس لیے عام لوگ ان علماء کی باتوں پر اعتماد کرتے ہیں۔
یہی علماء ہمیں سکھاتے ہیں کہ "گستاخی کی معافی قانون میں نہیں"
(جیسا کہ مفتی ثمر عباس خود پہلی ویڈیو میں کہہ رہے تھے)۔
لیکن جب یہی علماء خود اس میں پھنستے ہیں تو ان کے لیے معافی کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے،
اور عام لوگوں کے لیے وہی قانون "شریعت کے مطابق" سزا بن جاتا ہے۔
یہ منافقت ہے۔۔
یہ بلاسفیمی بزنس ہے۔
#StopBlasphemyBusiness
#JusticeFor450
@VictimsofB_Gang
لیکن وہی بلاسفیمی کا قانون 450 بے گناہ نوجوانوں پر کیوں پھندا بنا ہوا ہے؟ وہ ادیالہ جیل سمیت مختلف جیلوں میں ٹارچر اور اذیت کا شکار ہیں۔
اگر ایک مذہبی سکالر کی بات پر معافی اور توبہ کا راستہ کھلا ہے تو پھر ان 450 بے گناہوں کے لیے بھی انصاف کا راستہ کیوں نہیں کھولا جا رہا؟
لیکن وہی بلاسفیمی کا قانون 450 بے گناہ نوجوانوں پر کیوں پھندا بنا ہوا ہے؟ وہ ادیالہ جیل سمیت مختلف جیلوں میں ٹارچر اور اذیت کا شکار ہیں۔
اگر ایک مذہبی سکالر کی بات پر معافی اور توبہ کا راستہ کھلا ہے تو پھر ان 450 بے گناہوں کے لیے بھی انصاف کا راستہ کیوں نہیں کھولا جا رہا؟
حکومت پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام سے اپیل!
دو قومی نظریہ 2026 میں بھی زندہ ہے — بلاسفیمی بزنس میں ایک قانون 'اپنوں' کا، دوسرا 'غریبوں' کا۔
مفتی سمر عباس صاحب کی توبہ قبول ہو گئی، ان کی "غلطی" معاف کر دی گئی۔
حکومت پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام سے اپیل!
دو قومی نظریہ 2026 میں بھی زندہ ہے — بلاسفیمی بزنس میں ایک قانون 'اپنوں' کا، دوسرا 'غریبوں' کا۔
مفتی سمر عباس صاحب کی توبہ قبول ہو گئی، ان کی "غلطی" معاف کر دی گئی۔
ایف آئی آر نمبر 8/25
ملزم کا نام ۔ confidential
پکڑنے والے بلاسفیمی بزنس گینگ کے ارکان ۔ نوید اسلم ایس آئی اور مدعی و دیگر
لایور غیر قانونی طریقہ سے پکڑنے کے لیے اے ہیں
🚨🛑 دوسرے کا جرم ہو تو سر قلم، اپنا آدمی ہو تو معذرت اور توبہ؟؟
بھائی یہ کیا دوہرا معیار ہے؟؟
👈 دین بدل گیا یا بس اپنا پھنس گیا؟
👈 اب اپنے قبیلے کی بھیڑ بکری بچانے کے لیے اچانک نرم ہو گئے؟ نرم بیان، معذرت اور معافی کے ڈرامے شروع؟
#BlasphemyBusiness#JusticeFor450