سانحہ پمز پاکستان میں جوابدہی کی ایک نئی مثال
سانحے میں کھو جانے والی معصوم جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسے سانحے کے بعد ذمہ دار قیادت کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟
پمز میں آگ لگی تو ایک بہادر نرس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کی جان بچائی، 36 منٹ میں آگ پر قابو پایا گیا اور تقریباً دو گھنٹے بعد وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال خود پمز میں موجود تھے۔مگر وہ پمز پہنچنے سے پہلے ہی اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کرچکے تھے۔
میڈیا کے سامنے آئے تو دوسروں پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا اور دوٹوک کہا کہ جس کی بھی غفلت ثابت ہوئی، اسے بخشا نہیں جائے گا۔
تنقید اور سیاسی پروپیگنڈے کے باوجود نہ اشتعال، نہ الزام تراشی، نہ ذمہ داری سے فرار۔
میڈیا کا سامنا کیا، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں جواب دیا، متاثرہ خاندانوں کے پاس گئے، ان کے غم میں شریک ہوئے اور ان کی مالی و اخلاقی معاونت کی۔پھر وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے بھی تصدیق کردی کہ مصطفیٰ کمال اپنا استعفیٰ پہلے ہی وزیراعظم کو دے چکے تھے۔
72 گھنٹوں میں تحقیقاتی رپورٹ آئی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت 8 افسران کے خلاف کارروائی ہوئی، جبکہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کو بچانے والی نرس کو انعام دیا گیا۔
یہی فرق ہے عہدہ رکھنے اور ذمہ داری اٹھانے میں۔
معصوم بچوں کی زندگیاں واپس نہیں آسکتیں، لیکن ان کا سانحہ ہمیں ایسا نظام بنانے کی ذمہ داری ضرور دیتا ہے جہاں غفلت چھپائی نہ جائے، ذمہ داروں کا احتساب ہو، اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور آئندہ کسی ماں کو ایسا دکھ نہ سہنا پڑے۔
مصطفیٰ کمال نے مشکل ترین وقت میں عہدے کو نہیں، جوابدہی کو ترجیح دی۔
یہ کسی ایک سیاستدان کی تعریف کا معاملہ نہیں؛
یہ وہ معیار ہے جو پاکستان میں ہر صاحبِ اختیار کے لیے ہونا چاہیے۔
ذمہ داری قبول کرو، جواب دو، احتساب کرو، نظام درست کرو۔
سید مصطفیٰ کمال — سیاست نہیں، ذمہ داری۔
#MustafaKamal #PIMS @HamidMirPAK@shahfalki@GovtofPakistan@OfficialDGISPR
دکھائیے کوئی پیپلز پارٹی والا یا پی ٹی آئی والا، جو کسی سانحے پر استعفیٰ پیش کرتا بھی ہو۔
سانحہ گل پلازہ پر کسی کا استعفیٰ نہیں آیا، میر علی کیس میں کراچی کے نوجوان کے بہیمانہ قتل پر کسی نے استعفیٰ نہیں دیا، ناظم آباد/نپا کے قریب کھلے گٹر میں گر کر بچے کی موت پر پیپلز پارٹی کے کسی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا، جبکہ کے الیکٹرک کے کرنٹ لگنے سے ایک ہی بارش میں 12 افراد جاں بحق ہوئے، تب بھی کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔
مصطفیٰ کمال تو احتساب کے لیے سب سے پہلے خود کو پیش کر رہے ہیں۔ تم میں سے کتنے حرامیوں نے کبھی استعفیٰ دینے کا سوچا بھی ہے؟
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#ملک_بچاو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
#JusticeWillBeServed
#MKLeadingFromtheFront
سندھ کو پیرس بنانے کا دعویٰ کرنے والے، عوام کے نام پر وفاق سے 22 ہزار ارب روپے لے کر اپنی جائیدادیں بنانے والے، سندھ کے عوام کو صاف پانی تک نہیں دے سکے۔ آلودہ پانی کے باعث ہیپاٹائٹس اور دیگر خطرناک بیماریوں کا سامنا ہے، اور جب لوگ بیمار ہوں تو علاج تک میسر نہیں۔
اس کارکردگی پر استعفیٰ دو!
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
تحریک صوبہ ہزارہ کے وفد نے چیئرمین تحریک صوبہ ہزارہ اور وفاقی وزیر مذہبی امور کے کوآرڈینیٹر ماسٹر منیر احمد کی سربراہی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآباد کا دورہ کیا، جہاں وفد نے حق پرست اراکینِ صوبائی اسمبلی نجم مرزا اور فہیم پٹنی اور متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی کے انچارج شکیل عباسی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران تحریک صوبہ ہزارہ کی جانب سے 23 اگست 2026 بروز اتوار منعقد ہونے والی آل پارٹیز صوبہ ہزارہ کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے تحریک صوبہ ہزارہ کے وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات کے اختتام پر تحریک صوبہ ہزارہ کے وفد نے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے اس جدوجہد میں اپنے بھرپور تعاون اور حمایت کا یقین دلایا۔
#NajamMirza #MPA #PS94 #Korangi #MQMPakistan
#AdministrativeUnits
https://t.co/68ENjtolCb
@KamalMQM
پیپلز پارٹی کے سنہرے خوابوں کی کہانی
لیاری کے بزرگ کی زبانی۔۔۔
لیاری سے لاڑکانہ تک کے یہی حالات ہیں لیکن سندھی بھائیوں کے ذہنوں پر تالے ڈال دئیے گئے ہیں پیپلز پارٹی کی
بھنگ مافیا نے سندھی بھائیوں کو جذباتی نعروں پر لگا کر نسل در نسل اپنی دوکان چمکائی ہے
سندھ کے حکمران نسل در نسل امیر سے امیر تر۔۔۔
سندھ کی عوام نسل در نسل غریب سے غریب تر۔۔۔
#MQMPakistan #نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ #Pakistan #Karachi #کراچی @amberdanishh@AdilKhanMQMP@KamalMQM@prohibent@Qalandarmastam