اشرف غنی سے برطرف ہونے کے طالبان کے مطالبے کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کے وہ کروڑوں عوام اور اُن کا مطالبہ برطرف ہو جنہوں نے بہت مشکل حالات میں ووٹ دیکر اشرف غنی کو منتخب کیا. طالبان کا یہ مطالبہ امرانہ اور جابرانہ ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوریت کا بدترین توہین بھی ہے.
ویڈیوز موجود ہیں تو دکھاتے کیوں نہیں؟
یہ اسلام آباد میں پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے کئی نامی گرامی صحافیوں کو بھی دن دھاڑے اسلام آباد ہی سے اغوا کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ میں کوئی شرم ہوتی تو اب تک استعفی دے چکا ہوتا۔ خدارا ایک بیٹی کے اغوا کو ڈرامہ نہ بناؤ۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو جانی خیل جانے کا تب خیال آیا جب پانی سر سے گزر گیا، حکومتوں کو جس دور اندیشی کی ضرورت ہوتی ہے ہماری موجودہ حکومت کو اس کی ہوا نھی نہیں لگی ہے، اوپر سے بنوں پولیس نے مظاہرین کیساتھ جس سلوک کا مظاہرہ کیا قابلِ مذمت ہے