@MaidahMuhammad ڈرائیور کے لیے خالص اردو اور مستند الفاظ درج ��یل ہیں:
رانندہ (سب سے زیادہ مستند اور ادبی لفظ)
گاڑی چلانے والا (عام فہم اور درست جملہ)
ساربان (اونٹ چلانے والا، مگر پرانی اردو میں گاڑی بان کے معنوں میں بھی مستعمل)
چالک (یہ لفظ ہندی سے اردو میں آیا ہے)
میں دعا مانگتی ہوں کہ میرے ابو مر جائیں۔۔۔۔
وجہ پوچھی گئی تو پتا چلا کہ میں نیوڈ آرٹ سیکھنا چاہتی تھی، مجھے بہت شوق ہے نیوڈ آرٹ پینٹنگز بنانے کا، میں چاہتی تھی میں پاکستان کی سب سے بڑی نیوڈ پینٹر بنوں۔۔۔۔
لیکن ابو نے بننے نہیں دیا۔۔۔۔۔
میری امی نے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر ابو نہیں ماننے۔۔۔۔
ابو کے ہاتھ جب سے ان کی اور امی کی نیوڈ پینٹنگ لگی ہے تب سے وہ بہت بدل گئے ہیں۔۔۔۔ بات تک نہیں کرتے۔۔۔۔ بس ایک شوق کی یہ قیمت چکانی پڑ رہی ہے مجھے۔۔۔۔
والدین کی نیوڈ پینٹنگ۔۔۔۔ جس پر ماں فخر سے بیٹی کو ڈیفیند کرتی رہی کہ یہ بس ایک آرٹ کا طریقہ ہے اور کچھ نہیں آپ بلاوجہ پرسنل ہو رہے ہیں۔۔۔۔
میرے ذہن میں اس صورت حال کو لے کر چند سوالات پیدا ہوئے۔۔۔۔
1۔ آخر کب یہ بچی اس واہیات خواہش کے پیچھے چلنے لگی آخر والدین نے کہاں غفلت دیکھائی؟
2۔ اپنی بےہودہ خواہش کے پورا نہ کرنے پر والد کو مرنے کی بد دعا کیوں؟
3۔ ماں بیٹی کی اس خواہش کو سپورٹ کیوں کر رہی ہے؟
کیوں کہ عورتوں کو بار بار یہ باتیں سنائی جا رہی ہیں کہ جو تم نہ کر سکیں وہ بیٹی کو کرنے دو، اس کے لیے کسی سے بھی لڑنا پڑے لڑ جاو۔
بچی اس واہیات خواہش کے پیچھے اس لیے اندھی ہوئی کیوں کہ جب وہ چپکے چپکے نیوڈ آرٹ کرتی تھی تو ماں نے اسے تحفظ فراہم کیا، باپ کو بہت عرصے تک تو پتا ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔ اور جب پتا چلا تو ماں نے وکٹم کارڈ کھیلتے ہوئے فرمایا کہ جیسے میری خوہشات پوری نہیں کیں اب میری بیٹی کے دشمن بن گئے ہیں۔۔۔۔
جب ماں بار بار بیٹی کے سامنے تذکرہ کرے کے تمھارے باپ سے شادی کے بعد میرے ارمان ادھورے رہے گئے تو پھر باپ بچوں کی نظر میں ظالم سفاک درندہ بن جاتا یے۔۔۔۔۔
پوچھا کہ کون سے ارمان تھے والدہ کے جو پورے نہ ہوئے۔۔۔۔ اب اگر ان ارمانوں کی لسٹ بتاوں تو ایسے ہی آنکھیں پھٹ جائیں گی آپ کی جیسے nude painting پر پھٹ گئی ہوں گی۔
جناب عالی!
بہت سالوں پہلے سے فیمنزم کا یہ غلیظ کھیل شروع ہو چکا تھا، ہمیں اب پتا چلا ہے، معاشرے میں چند جاہلوں کے جاہلانہ رویے کی روک تھام کے چکر میں یہ شیطان ہمارے معاشرے میں گھسا اور بہت نامحسوس انداز میں ایک عام سادہ مزاج اور خوش رہنے والی عورت کو یہ احساس دلانے لگا کہ تم ایک قید میں ہو، باپ یا شوہر نامی مخلوق ایک درندہ ہے، اٹھو اور یہ زنجیریں توڑو۔۔۔۔
اچھی خاصی ہٹی کٹی مزے کرنے والی عورتوں کو دماغ خراب کرنا شروع کیے۔۔۔۔
اور نتائج کی کچھ جھلکیاں اب معاشرے میں نظر آرہی ہیں۔۔۔۔
وہ خواہشات جو کسی طور پر بھی مسلمان پر زیب نہیں دیتیں فیمنزم اسے عورت کا passion بنا دیا۔۔۔ کہ اگر یہ نہ کرنے دیا گیا تو تمھارے زندگی فضول ہے۔۔۔۔
شریف گھرانوں کی بیٹیاں خواہشات باطلہ کے پیچھے اپنے اصل فرائض مکمل طور پر نظر انداز کرتی جا رہی ہیں۔
میں حقیقتیں آپ کے سامنے رکھتی جا رہی ہوں۔
حق قبول کر سکتے ہیں تو کریں اور باطل کو پ��چانیں۔ باطل سے بچاو اور اس کے رد کے لیے خود کو اور اپنی اولادوں کو تیار کریں۔
ورنہ اپنی نسل کو اس نہج پر چلتا دیکھنے کے لیے تیار رہیں۔
وما علینا الاالبلاغ
فیض عالم
نوٹ: والد صاحبان کمانے میں اتنا مگن نہ ہوں کہ عزتوں کے جنازے ناک کے نیچے سے نکل جائیں اور آپ کمانے میں لگے رہیں۔
منقول
چند ماہ قبل اس مولانا کی باتوں کا موجودہ حالات کے ساتھ تقابل کر کے یہ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون سی بات درست ثابت ہوئی اور کون سی غلط ثابت ہوگی یا نہ ہوگی، کم از کم یہ بات تو سچ ثابت ہوئی کہ مسلمان ہی مسلمانوں پر حملہ آور ہیں کون غلط کون صحیح یہ فیصلہ وقت کریگا۔
برسوں کی اذیت ناک لت اور تکلیف دہ زندگی سے جدوجہد کے بعد، انہوں نے اندھیروں میں روشنی کی ایک کرن پالی تھی۔
مگر پاکستانی قاتل فوجی رجیم کی ایک بے رحم بمباری نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کی تمام امیدوں کو بھی بہا کر لے گئی۔
وقت وقت کی بات ہے انہی مولانا کے والد مولانا آزاد نے حکمران ہونے کے باعث بے نظ��ر کے اسلام سے خارج ہونے اور نکاح ٹوٹنے کا فتویٰ دیا تھا اور بے نظیر کو سپورٹ کرنے والوں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تھا۔ اب اسی مولانا کا بیٹا خاتون حکمران کے لیے دعائیں کررہا ہے۔
عجیب بات ہے
ایک جعلی ویڈیو دیکھ کر اس مفتی صاحب نے پورے افغان مسلمان قوم اور جہادی لشکر پر یہودیوں کے دوستوں کا تہمت لگا دیا اور ایک گھنٹے کا تقریر جاری کر دیا لیکن جب کل اس کے ملک کی صہیونیستی فوج نے 500 بے گناہ افغان مسلمانوں کو شب قدر کے رات میں بمباری سے شہید کروا دیا اس پر یہ چوپ بیٹھا ہوا ہے۔
اس سے اچھا تو دنیا کے غیر مسلم میڈیا، سیاستدان، خبر نگار اور دیگر با نفوذ اشخاص نے اپنے مسؤلیت ادا کی ہے اور اس ظلم کو افشا کیا ہے۔