میں چاھتا ھوں کہ میں لکھنا چھوڑ دو
کمبخت سانس چل رہی ہاتھ رکتا نہیں
کبھی کوئی دوست اچانک دکھ جائے
گزری باتوں کا خیال دل سے اترتا نہیں
میں بھی بہت بے بس سا ہوں کیا کروں
لاکھ سمجھاؤں دل ہے کہ میری سنتا نہیں
چھوٹی سی دنیا میں اک چترالی لڑکی یہ
کبھی باتیں کریں باغ و بہار کی ہم سے
کبھی گرے ہوئے پتے درختوں کی ہم سے
کبھی دوستوں کی کبھی بلی کی ہم سے
کبھی موڈبنے تو، چراتے پھیڑوں کی ہم سے
بندی معصوم سی یہ، درزن بتاتی خود کو یہ
چھوٹی سی دنیا میں اک چترالی لڑکی یہ
جب معاشرے کی کوکھ سے علم اور اخلاق اٹھ جائے، تو بستیاں ویران نہیں ہوتیں، بلکہ وہاں وحشت کا راج ہو جاتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جہاں عقل کی پیاس مر جائے، وہاں انسانیت کی قحط سالی شروع ہو جاتی ہے اور خون سستا ہو جاتا ہے۔۔