آج بابا جان کو ہم سے بچھڑے 10 سال ہو گئے💔، مگر یوں لگتا ہے جیسے وقت گزر گیا، بس دل وہیں ٹھہرا ہوا ہے جہاں آپ کو آخری بار دیکھا تھا۔ 💔
اللہ پاک آپ کی قبر کو نور سے بھر دے، آپ کی مغفرت فرمائے، آپ کے درجات بلند کرے آمین
اصلی اینکیڈو کا اکاونٹ بند ہوئے آج تین سال ہوگئے ہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے نام پر ہزاروں لاکھوں دوکانیں چلتی ہیں لیکن ہمارے اس کھوکھے کا شٹر اسکے ساتھ ساتھ حضرت اصلی اینکیڈو کی مہربانی سے بھی کھلتا ہے اور ہمارا چورن بکتا ہے تو ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے انکے شکرگزار ہیں۔
جب فوج نے اصلی اینکیڈو کا اکاونٹ بند کروایا تو اس وقت چند جرنیل برے تھے ، باقی فوج اچھی تھی۔ فوج کے اکاونٹ کے رپلائیز بھی بند نہیں تھے۔ عام شہری فوجی ٹرکوں کو روک کر تم ہمارے دشمن ہو نہیں کہتے تھے۔ لوگ شاکی تھے لیکن ننگی گالیوں کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ فوج کی پوسٹس کو دیکھ کر فیس پر ہنسی کے ٹرک نہیں الٹتے تھے۔
نو مئی کے بعد کی وحشت تھی۔ یہ بھی بک جاتا تھا کہ فوج سب ٹھیک کرلے گی۔ کٹھ پتلی جماعتیں مقبول ہوجائیں گی اور عمران خان کے کپڑے بھی اس کا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ لیکن پھر کیا ہوا ؟ کیا زبردستی اکاونٹ بند کروانے سے آوازیں بند ہوگئیں ؟ یا سختی اور دباؤ سے نفرت میں اضافہ ہوا ؟ کیا ردعمل میں اضافہ نہیں ہوا ؟ کیا فوج کی مشکلات میں بھی اضافہ نہیں ہوا ؟ ہوا ، سب ہوا۔ مزید برا ہوگا ، کیونکہ طریقہ واردات آج بھی وہی ہے اور سبق نہیں سیکھا گیا۔
اینکیڈو انکل ، آپ اس جنگ کے پائنیر ہیں ، اساطیری ہیرو ، لیونگ لیجنڈ ، مشعل راہ ، گلے شکوے شکایتیں مشکلات سب اپنی جگہ ، کبھی فرصت ملے تو آئیے نا ، آپ کو بہت سارے لوگ بہت سارا مس کرتے ہیں۔ آجائیں کسی دن ، پلیز۔
میں تو اس جنگ میں خان کے لیے کودا تھا یا تو ہم کامیاب ہوجائیں گے یا میں مارا جاؤں گا اور اگر اس جنگ سے واپس مُڑتا ہوں تو احساس ندامت سے مر جاؤں گا موت دونوں صورتوں میں ہے اس لیے میں لڑ کر مرنے کو ترجیح دونگا
Long Live Imran Khan 🙏
مزاحمت آخری سانس تک ✌️
کچھ چیزوں سے اختلاف ہے۔ پنجاب کے دیہات میں مولوی ، امام مسجد کوئی طاقتور یا اہم شخصیت نہیں ہے۔ یہ بالعموم غیر کاشتکار برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جنہوں نے مدرسہ تعلیم اس لیے حاصل کی کہ گھر میں وسائل نہیں تھے یا پھر روایتی تعلیم میں کند ذہن تھے۔ ابھی پنجاب حکومت نے ان کا کچھ وظیفہ لگایا ہے اس سے ہٹ کر انکی آمدن نہایت تضحیک آمیز طریقے سے دیے جانے والے سالانہ دانے ہوتے ہیں۔
اسکے ساتھ انکو ختم قل جنازہ نکاح غسل وغیرہ کا لاگ یا اضافی بونس ٹائپ ملتا ہے۔ان میں سے کچھ مولوی طبقات جو قدرے شاطر تھے وہ مذہب مدرسے اور اشتعال کی طاقت کو بروئے کار لاکر وقتا فوقتا اور محدود پیمانے پر کچھ اہمیت حاصل کرتے ہیں۔ بعینہہ یہی کام پختونخواہ میں ہوا۔ روایتی ملکان خوانین مشران اور بڑے لوگوں کے سامنے ٹی ٹی پی میں وہ لوگ کھڑے ہوئے جن کا سوشل سٹیٹس کمتر کا تھا۔ انہیں ٹی ٹی پی کے ڈھانچے نے طاقت اور سوشل سٹیٹس دیا۔
دوسری فوج کا ریٹائرڈ افسر تو شاید کسی نا کسی اہمیت کا حامل ہوتا ہے حوالدار صوبیدار کسی کا ہیرو نہیں۔ اب یہاں ساری وسائل اور ششکے کی گیم ہے۔ ڈالا ، پراڈو ، فارچیونر گن مین بڑے لوگوں کے ساتھ تعلقات اور سوشل میڈیا پر شوکا شاکی اب طاقت کا پاور ہاوس ہیں۔ اچھا اب انکی ذہنیت ، یہاں تحریر کا رواج بہت پرانا نہیں ہے۔ فوک داستانیں ، گلستان و بوستان سعدی و دیگر فرضی قصے بنیادی تعلیم کا ماخذ ہیں۔ میرے دادا کی جنریشن نے فارسی پڑھی ، والد نے اردو اور میری جنریشن نے انگریزی ہمارا جو ماضی سے کنکشن تھا وہ بوجہ دو دفعہ ٹوٹا۔ یعنی شعوری گراونڈز مضبوط نہیں بن پائیں کہ تسلسل نہیں رہا۔ پھر یہاں ہندوانہ عقائد اور وہی والی عقیدت بھی رچ بس گئی۔ ان دیکھے خدا اور اسکی طاقتوں پر یقین کرنا مختلف تخیل ہے اور کسی بابے لیر مزار ملنگ کو بھی الوہیت کا نمائندہ ماننے کے لیے الگ سطح کا دماغ درکار ہے۔ یہ عقیدت پھر اندھے اعتقاد پر مجبور کرتی ہے۔ ہاں یہ بات آپکی درست کہ ساتھ ساتھ پھر سعودی و ایرانی و غیر ملکی وسائل نے اس جلتی پر تیل ضرور ڈالا۔
تیسری چیز ، محض چار سال میں حالت یہ ہوچکی ہے کہ فوج کے خلاف نفرت ابل رہی ہے۔ ابوبکر کو تو آپ نےایکس پر دیکھا ہوگا۔ جٹ فرانس ، جٹ اٹلی ، جٹ پیرس ، جٹ 804 ، رانجھا 804 ، گوندل 804 ، آپ نے نہیں دیکھے ہوں ( یہ نام آپ کو عجیب لگیں گے لیکن یہ لوگ معاشرے کو جڑوں سے پکڑ کر ہلا رہے ہیں کسی دن وقت نکال کر انکو سنیے ) یہ سب پنجاب سے ہیں نوجوان ہیں اور آگ ہیں۔
چوتھی چیز پھر درست ہے کہ ایک روزہ لانگ مارچ یا کچھ ریلیاں سیاسی دباؤ تو ڈال سکتی ہیں انقلاب یا تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ اسکے لیے قوم کو شعوری جدوجہد کرنا ہے۔ لیکن اسکو ابھی وقت لگے گا۔ اگرچہ چار سال میں اس جدوجہد کا سفر تحریک انصاف نے بہت تیزی سے طے کیا ہے بالکل درست سمت میں طے کیا ہے۔ سب سے پہلے خرابی کی نشاندہی کی۔ پھر خرابی کی طرف اشارہ کرنا شروع کردیا۔ پھر خرابی درست کرنے کا ارادہ کرلیا ، ایک آخری مرحلہ اسکو عملا درست کرنے کا ہے وہ بھی آجائے گا۔ بنگالیوں پر پہلی مرتبہ گولی 1952 میں چلی۔ آزادی 71 میں ملی۔ یہاں اگر انیس سال یہ فوج ایسے ہی انہی پالیسیز کیساتھ مسلط رہ گئی توجو انقلاب آئے گا وہ دنیا کی تاریخ میں اس سے پہلے کسی نے تصور نہ کیا ہوگا۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور ہر گزرتے دن کی تباہی و بربادی ایجاد کی ضرورت پیدا کررہی ہے۔
ایک آخری پوائنٹ ہے کہ خدشہ بہرحال موجود ہے کہ شاید کہیں یہاں لوگ اسے قسمت سمجھ کر قبول کرلیں اور خاموش نہ ہوجائیں اور ہم افریقی ممالک کی طرح ہوجائیں کہ کچی آبادیاں عام ہوجائیں اور غربت کا بحر بے کراں ٹھاٹھیں مارتا پھرے۔ لیکن پچھلے چار سال کی رفتار دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ یہ سفر تھم جائے گا۔ باقی پھر اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔
چالیس ارب کی فائر وال لگا دی۔ دو سو صحافی باندر بنادیے۔ نیوز چینلز کو سرکس بنا دیا اور اخے فرق نہیں پڑتا۔ اربوں کے اشتہارات چلا دیے۔ درجنوں نئے چینل چلا دیے، ہزاروں لوگ بھرتی کرلیے ، فوج کے کپتانوں اور میجروں کو عائشہ سنبل اور پاپا کی پری بنا دیا اخے فرق نہیں پڑتا۔ پوری کور جتنی فوج آئی ایس پی آر میں بٹھا دی اور کہتے ہیں فرق نہیں پڑتا۔ رجیم چینج کے بعد پہلا چھاپا سوشل میڈیا ورکرز کے گھروں میں مارا ، آخری بندہ ابھی بھی سوشل میڈیا کے ورکر کا بھائی اٹھایا اور کہتے ہیں فرق نہیں پڑتا۔ جن جوتوں سے تمہیں اصلی والا فرق پڑتا ہے وہ بھی ہمیں معلوم ہے۔ وقت اس کا بھی آجائے گا۔ لیکن جو فرق ابھی تمہارے سروں پر پڑ رہا ہے وہ بھی اتنا پڑے گا اتنا پڑے گا کہ پاڑ کے رکھ دے گا۔ اخے فرق نہیں پڑتا۔
تمہیں پشاور، لاہور اور اسلام آباد کے لوگوں کی عادت تھی جن کو تم ایف آئی آر اور دھونس دھمکی سے ڈرا لیتے تھے لیکن یہ خیبر ہے، سنگلاخ چٹانوں اور آہنی انسانوں کی سرزمین، سواگت ہے آپ کا مسٹر گورنر اینڈ کو✊