" ہم سرکاری سکول میرٹ پر بھرتی کئے گئے اساتذہ کے ذریعے نہیں چلا سکتے، وہ سکولوں کو سنوار دیتے ہیں، لہذا ہم سجے سنورے سکول پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائیں گے"
منجانب
اہل اقتدار
محکمہ تعلیم آج مکمل طور پر دفن کرنے کا اعلان!
اگر آپ کا واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے درست اقدام اٹھائیں۔ چند آسان مراحل کے ذریعے اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔
مزید آگاہی کے لئے ویڈیو ملاحظہ کریں، خود کو محفوظ رکھیں اور دوسروں کو بھی باخبر کریں۔
#WhatsAppSafety#StaySafeOnline#CyberAwareness #PublicAdvisory #DigitalSecurity #Pakistan
عدالت کے کمرے میں اس دن ایک عجیب خاموشی تھی۔
فیصلہ سنایا جا چکا تھا۔
تیرہ سال بعد بالآخر بزرگ مقدمہ جیت چکے تھے۔
جج نے فائل بند کی، عینک اتاری اور نرم لہجے میں کہا:
“بابا جی! آپ کو مبارک ہو، آپ انصاف جیت گئے ہیں۔”
بزرگ نے کپکپاتے ہاتھ اٹھائے، آنکھیں نم ہو گئیں اور بولے:
“اللہ تجھے ترقی دے بیٹا… اور تھانیدار بنا دے۔”
کمرۂ عدالت میں ہلکی سی سرگوشیاں ہوئیں۔
جج مسکرا دیا، شاید بزرگ کی سادگی پر۔
“بابا جی!”
جج نے مسکرا کر کہا،
“جج تھانیدار سے بڑا ہوتا ہے۔”
بزرگ نے سر اٹھایا، گہری سانس لی اور بڑے سکون سے بولے:
“نہیں بیٹا… تھانیدار بڑا ہوتا ہے۔”
جج چونک گیا۔
“کیسے؟” اس نے حیرانی سے پوچھا۔
بزرگ نے خالی بینچوں کو دیکھا، عدالت کی دیواروں کو، اور پھر آہستہ آہستہ بولے:
“بیٹا…
آپ کو میرا کیس ختم کرنے میں تیرہ سال لگ گئے۔
میری جوانی، میری جمع پونجی، میرے بچے… سب اسی عدالت کے چکر کاٹتے ختم ہو گئے۔
لیکن تھانیدار تو پہلے دن ہی کہہ رہا تھا:
‘بابا جی، پانچ ہزار دے دو…
معاملہ یہیں رفع دفع کر دیتا ہوں۔’”
کمرۂ عدالت میں خاموشی چھا گئی۔
جج کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔
بزرگ نے بات مکمل کی:
“اس لیے بیٹا…
جج انصاف دیتا ہے دیر سے،
اور تھانیدار انصاف بیچتا ہے فوراً۔”
وہ لاٹھی ٹیکتے ہوئے باہر نکل گئے،
اور پیچھے رہ گیا ایک فیصلہ…
جو جیت کے باوجود ہار جیسا لگ رہا تھا۔
#Justice
#JusticeDelayed
#DelayedJustice
#JusticeSystem
#SystemFailure
23 فروری 2026 سے تمام اساتذہ کے چاہے وہ کسی بھی جنس یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، باقاعدہ ڈریس کوڈ لازمی ہوگا۔
تمام اساتذہ سیاہ گاؤن پہنیں گے۔ کوئی بھی استاد گاؤن کے بغیر کلاس میں حاضر نہیں ہوگا۔
لاہور میں ہزاروں اساتذہ اور سرکاری ملازمین اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں، مگر افسوس کہ مریم نواز حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور شاید کسی میں یہ جرات بھی نہیں کہ اس احتجاج کو کھل کر دکھا سکے۔ انس گوندل
@AnasGondal19
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
لاہور میں بسنت اختتام پذیر ہوگئی ۔ پنجاب حلومت کو شاباش کیونکہ یہ ایک بہت رسک والا فیصلہ تھا جو کہ کامیاب رہا۔ ایونٹ پرامن رہا ۔ لاہور شہر خوش تھا اور لاہور کا روایتی رنگ نظر آیا ۔ کروڑوں اربوں کا بزنس جنریٹ ہوا ۔ لاہور شہر میں ریکارڈ 9 لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں جس کا مطلب دوسرے شہروں سے ایک بڑی تعداد بھی بسنت منانے لاہور پہنچی ۔
ہاں یہ اشرافیہ کا تہوار نہیں بننا چاہیے کیونکہ اس بار یہ فیکٹر ضرور نظر آیا ، امید ہے اگلے سال ڈور وغیرہ کی قیمتوں والا ایشو نہیں ہوگا اور زیادہ سے زیادہ لوگ محظوظ ہو سکیں گے
شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد ❤️
میں نے یونیورسٹی سے ڈگری کی۔
پھر پیسے جمع کر کے ڈگری لی اور ڈگری پر کنٹرولر اور وائس چانسلر نے دستخط بھی کیے۔
اس کے بعد میں نے دوبارہ پیسے جمع کر کے ڈگری ان کو واپس بھیجی کہ اب یہ ویریفائی کر لو کہ آپ لوگوں نے مجھے جو ڈگری دی ہے وہ فیک تو نہیں ہے۔
بات یہاں پہ ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہی ڈگری HEC کو بھیجی کہ آپ کے ساتھ جو یونیورسٹی Affiliated ہے اس نے یہ ڈگری جاری کی ہے اور ویریفائی بھی کی ہے۔ اب آپ بھی ویریفائی کر لے کہ کہی یہ ڈگری جعلی تو نہیں۔
آگے کی بات سنیے۔ پھر HEC کے بعد میں نے وہ ڈگری MOFA کو بھیجی اور ان سے کہا کہ یہ جو HEC نے سٹیمپ لگایا ہے اس کو چیک کرے کہ کہی یہ فیک تو نہیں ہے۔
اس پورے کام میں آپ کے ہزاروں روپے الگ سے ضائع ہو جاتے ہیں، ساتھ میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور سب سے اہم بات وہ نمونے جو خود میٹرک فیل ہوتے ہیں ان کی باتیں بھی سننے کو ملتی ہے۔
سردی کی شدت کے پیشِ نظر والدین کے تحفظات کو مدِنظر رکھتے ہوئے سکولوں کی چھٹیوں میں ایک ہفتے کی توسیع کی گئی ہے، اب تمام تعلیمی ادارے 19 جنوری سے دوبارہ کھلیں گے۔
@muqadasfmughal@MaryamNSharif یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ صرف مڈل کلاس کے والدین اپنے بچوں کو اپنی عمر سے بڑے کپڑے نہیں خرید کر دیتے بلکہ اس طرح کا امیر ترین طبقہ بھی اپنے بچوں کو دو سائز بڑے کپڑے خرید کر دیتا ہے۔😂
پہلی بار دیکھا ھے کہ باقاعدہ بینر لگائے جائیں کہ ہم اپنے داماد کو کار دے رھے ہیں، سسر کو ہنڈا125 دے رھے ہیں، اور ساتھ عمرہ پیکج دے رھے ہیں، اتنی نمود و نمائش؟
او ظالمو جو اپنی بیٹی کو یہ سب نہیں دےسکتے کم از کم انکا سوچ لو کہ وہ والدین اور بچیاں کس قدر احساس کمتری کا شکار ہوں گی۔