عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود پاکستان میں قیمتیں برقرار۔ اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا حکومتی فیصلے پر اظہار افسوس، قیمتوں میں فوری کمی کا مطالبہ
🟪پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنا حکومتی بے حسی ہے، سینیٹر ایمل ولی خان
🟪عالمی منڈی میں کم قیمتوں کے باوجود فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا جارہا
🟪حکومت کو عوام کی پروا نہیں، اپنے سلیکٹرز کی خوشنودی زیادہ عزیز ہے
🟪سلیکٹڈ مینڈیٹ میں فیصلے سلیکٹڈ طبقوں کے مفاد کیلئے ہوتے ہیں
🟪حکومت اپنی شاہ خرچیوں کیلئے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے
#ANP | #AimalWaliKhan | #PetrolPrice
" بلیک میڈیا " اور " کالے چینلز " کا کام تو تیزی سے جاری ہے ، اب ہمیں اس صوبائی حکومت کے " وائٹ میڈیا" کا انتظار ہے جس سے ان کا " پختونخوا" ریڈیو نہیں چلایا جارہا ، جہاں کرپشن کا بازار گرم ہے ، میزبانوں کو 6 مہینوں سے معاوضہ نہیں ملتا ۔ اپر سے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا کرپشن ۔۔۔
عوامی نیشنل پارٹی نے مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں وفاق کی جانب سے ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کردیا
🟥مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ عوام دشمن، غیرمنصفانہ اور زمینی حقائق سے متصادم ہے، میاں افتخار حسین
🟥عوامی نیشنل پارٹی ان اضلاع میں ٹیکس کے نفاذ کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے
🟥جن علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع تک نہ ہوں، وہاں نئے ٹیکس عائد کرنا کسی بھی طور انصاف نہیں
🟥وفاقی حکومت مالاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع میں ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے
🟥پہلے ان علاقوں کو ترقی، سرمایہ کاری، بنیادی سہولیات اور معاشی مواقع کے اعتبار سے ملک کے دیگر حصوں کے برابر لایا جائے، اس کے بعد وہاں کے عوام بھی دیگر پاکستان کی طرح ٹیکس ادا کرینگے
🟥ایک طرف وفاق خیبر پختونخوا کے آئینی و مالی حقوق دینے سے گریزاں ہے اور دوسری طرف صوبائی حکومت ان حقوق کے حصول کے لیے مؤثر آواز اٹھانے میں مسلسل ناکام رہی ہے
🟥صوبے کے عوام مرکزی اور صوبائی حکومت کی نااہلی اور بے حسی کی قیمت چکارہے ہیں
🟥وفاقی حکومت پہلےنئے این ایف سی ایوارڈ کا اجراء کرے، خیبر پختونخوا کو پانی اور بجلی کے خالص منافع سمیت تمام آئینی و مالی واجبات ادا کرے
🟥تمباکو کی فصل پر صوبے کے قانونی حق کو تسلیم کرے اور ضم اضلاع کے ساتھ سالانہ 100 ارب روپے کے وعدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے
🟥آئین پر مکمل عملدرآمد، مالی اور انتظامی حقوق کی فراہمی تک متاثرہ علاقوں پر نئے مالی بوجھ ڈالنے کا کوئی جواز موجود نہیں
🟥عوامی نیشنل پارٹی مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کے عوام کے آئینی، معاشی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی
🟥اے این پی کسی بھی ایسے فیصلے کی بھرپور مخالفت کرے گی جو پہلے سے محروم عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کا سبب بنے
#ANP | #ANPPakhtunkhwa | #MianIftikharHussain
زمونږ ځوانان، ماشومان او د سوشل میډیا استعمال
زمونږ روایات او شرعي احکامات
د نفس تهذیب او اخلاقیات
ښکنځل، بر رد او پچموزې اخر ولې؟
لندن کښې د ماشومانو د سوشل ميډيا په استعمال بندېز ولې؟
د ټک ټاک خلاف عدالت کښې کېسونه په څه وجه؟
د ډاکټر فیاض الدین په پښتونخوا فوکس کښې ځوانانو، پېغلو او ماشومانو د پاره ګټورې خبرې
#factsarefacts #pukhtunkhwafocus
پچھلے سال این ایف سی ایوارڈ میں جب صوبے کے حق کی بات آئی تو ہم صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوئے اور وفاق سے اپنے صوبے کے حق کا مطالبہ کیا۔ لیکن جب بطور رکن صوبائی اسمبلی اپنا حق مانگتے ہیں تو یہ سنجیدگی نہیں دکھاتے، دو سال ہوچکے ہیں ہمیں اپنے حلقوں کیلئے ایک روپے کا فنڈ بھی نہیں ملا۔ یہ ہمیں فنڈز دینے سے انکاری ہیں اور غیر منتخب لوگوں کو فنڈز دے رہے ہیں۔
ارباب عثمان خان
ایم پی اے، عوامی نیشنل پارٹی
عوامی نیشنل پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا بجٹ اجلاس میں خطاب
🟥 عجیب بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص اقتدار میں ہوتا ہے تو اس کا رویہ، اس کا انداز اور اس کی باتیں کچھ اور ہوتی ہیں، لیکن جب اقتدار کی کرسی سے ہٹ جاتا ہے تو اس کے خیالات بدل جاتے ہیں۔
🟥 وفاقی سیاست میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ اقتدار اسٹیبلشمنٹ کے سہارے حاصل کیا جاتا ہے، عوام کے ووٹ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
🟥 صوبے کا 93 فیصد بجٹ وفاق پر منحصر ہے
🟥 قومی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، عوامی فلاح کے لیے بہت کم بچتا ہے
🟥 دفاعی اخراجات اور سرکاری تنخواہوں کے بعد ترقیاتی بجٹ آٹے میں نمک کے برابر رہ جاتا ہے
🟥 صوبائی بجٹ میں کوئی نئی سمت یا وژن نظر نہیں آتا، وہی پرانا بجٹ نئے الفاظ میں دہرایا گیا ہے
🟥 524 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کیا گیا، جس میں 150 ارب روپے غیر یقینی بیرونی امداد پر مشتمل ہیں
🟥 صوبے میں تقریباً 2800 ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں، جن کے لیے درکار وسائل دستیاب بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہیں
🟥 متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لیے محض چند ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ان کی تکمیل ناممکن بنا دیتے ہیں
🟥 قبائلی اضلاع کا بجٹ کم کر کے 65 ارب سے 55 ارب روپے کر دیا گیا، جو مزید محرومی کا سبب بنے گا
🟥 فاٹا انضمام کے وقت کیے گئے وعدے آج تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے
🟥 قبائلی اضلاع کے نام پر رکھا گیا بجٹ زیادہ تر تنخواہوں اور پنشنز میں خرچ ہو رہا ہے
🟥 آئی ڈی پیز کے نام پر ہر سال اربوں روپے رکھے جاتے ہیں، مگر ان کے استعمال کی کوئی شفاف تفصیل موجود نہیں۔
🟥 باجوڑ میں 46 تعلیمی اداروں کا آغاز ہوا، مگر کئی سال گزرنے کے باوجود وہ مکمل نہیں کیے جا سکے۔
🟥 تحصیل اسپتالوں میں نہ ڈاکٹر موجود ہیں اور نہ دوائیاں، جس کے باعث مریضوں کو پشاور ریفر کیا جا رہا ہے۔
🟥 بلاک ایلوکیشن کی مد میں رکھے گئے 50 ارب روپے شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
🟥 غیر منتخب افراد کے لیے کروڑوں روپے مختص کیے گئے، جبکہ منتخب نمائندوں کے سوالات حذف کر دیے گئے۔
🟥 جب تک ادارے اور محکمے اس ایوان کو جواب دہ نہیں سمجھیں گے، نظام میں بہتری ممکن نہیں
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #NisarBaazKhan
عوامی نیشنل پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی و پارلیمانی لیڈر ارباب عثمان خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب
🟥 بجٹ کو سیاسی معاملات سے مشروط کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا کے عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے
🟥 خیبرپختونخوا میں بار بار وزیراعلیٰ کی تبدیلیوں سے گورننس کا نظام متاثر ہو رہا ہے، صوبے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں
🟥 سیاست کو پوائنٹ اسکورنگ سے نکال کر عوامی خدمت، ڈیلیوری اور کارکردگی کی طرف لے جانا ہوگا
🟥 عمران خان کی سیاست کی بنیاد خیبرپختونخوا سے رکھی گئی، اب توجہ خیبرپختونخوا کے عوام کی مشکلات پر ہونی چاہیے
🟥 صحت، تعلیم، زراعت، توانائی اور امن و امان خیبرپختونخوا کے اصل مسائل ہیں، ان پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے
🟥 ایم ٹی آئیز نظام کے نفاذ سے پہلے خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں مرحلہ وار تجربہ کیا جانا چاہیے تھا
🟥 پختونخوا کے بڑے ہسپتالوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، صحت کے بجٹ کے استعمال کا جائزہ لینا ہوگا
🟥 صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے آر ایچ سیز اور بی ایچ یوز کو فعال کرنا ہوگا
🟥 عوام کو بروقت علاج کی فراہمی کے لیے اضلاع کی سطح پر سہولیات بڑھانا ہوں گی
🟥 ادویات کے معیار، نگرانی اور فراہمی کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا
🟥 لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں، صرف ماڈل سکول بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا
🟥 تعلیمی نظام میں اساتذہ کی کارکردگی اور معیار بہتر بنانے کے لیے جدید اصلاحات ضروری ہیں
🟥 امتحانی نظام کو رٹے سے نکال کر جدید اور صلاحیت پر مبنی بنانا ہوگا
🟥 پختونخوا میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مطابق تعلیم کو فروغ دینا ہوگا
🟥 پختونخوا کی زراعت کو مضبوط بنانے کے لیے گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار بڑھانا ضروری ہے
🟥 عوام کی بنیادی ضروریات روٹی، روزگار، بجلی اور پانی ہیں، منصوبہ بندی انہی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہیے
🟥 بی آر ٹی سمیت بڑے منصوبوں کے اخراجات، خسارے اور مستقبل کے اثرات کا جائزہ لینا ہوگا
🟥 پختونخوا حکومت کو سرمایہ کاری کے لیے ماحول پیدا کرنا چاہیے، ہر شعبے میں خود کاروبار نہیں کرنا چاہیے
🟥 اٹھارویں ترمیم کے بعد خیبرپختونخوا کے توانائی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا
🟥 خیبرپختونخوا میں مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ عملدرآمد اور گورننس کا ہے
🟥 ضم اضلاع میں خیبرپختونخوا حکومت کو بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینا ہوگی
🟥 پختونخوا میں امن و امان کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مؤثر پولیس نظام ضروری ہے
🟥 عوام کے تحفظ کے بغیر معاشی اور سماجی ترقی ممکن نہیں
🟥 پختونخوا اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو جمہوری کردار ادا کرنا ہوگا
🟥 پختونخوا کے منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ضروری ہے
🟥 بجٹ صرف کاغذی اعداد و شمار نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے عوامی مسائل کے حل کا عملی منصوبہ ہونا چاہیے
🟥 بجٹ کی مسلسل نگرانی، جائزہ اور شفافیت ضروری ہے
🟥 ترقیاتی پروگراموں پر مؤثر مانیٹرنگ کے بغیر عوام کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا
🟥 اداروں کو جواب دہ بنائے بغیر خیبرپختونخوا میں بہتر گورننس قائم نہیں ہو سکتی
🟥 سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی ہوگی
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #ArbabUsmanKhan
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب
🟥 باجوڑ میں 2022 میں شروع کیے گئے 64 اسکولوں کے منصوبے چار سال گزرنے کے باوجود فنڈز کی عدم فراہمی سے مکمل نہ ہو سکے۔
🟥 پرائمری، ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں پر مشتمل منصوبوں کو فوری فنڈز جاری کیے جائیں۔
🟥 تعلیم کے شعبے میں جاری منصوبوں کو ترجیح دی جائے، تعلیمی منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
🟥 نئی اسکیموں کے ساتھ پرانی جاری اسکیموں کی تکمیل بھی یقینی بنائی جائے۔
🟥 محکمہ خزانہ محکموں کو بروقت فنڈز جاری کرے تاکہ منصوبے وقت پر مکمل ہوں۔
🟥 فنڈز کی تاخیر سے فراہمی کی وجہ سے بجٹ لیپس ہوتا ہے، اس عمل کو روکا جائے۔
🟥 جون میں فنڈز جاری کرنے کے بجائے بروقت فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔
🟥 عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ شفاف طریقے سے عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔
🟥 فنڈز کے اجرا میں مبینہ کمیشن کی شکایات کا خاتمہ کیا جائے۔
🟥 64 اسکولوں کی تکمیل باجوڑ کے بچوں کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
🟥 64 اسکولوں کے لیے مختص رقم سرنڈر نہ کی جائے اور منصوبے مکمل کیے جائیں۔
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #NisarBaazKhan
ہمارا سب سے اہم متعلقہ محکمہ پی اینڈ ڈی ہے، پچاس سالوں سے ہم اس کو ایک ہی سمت میں چلا رہے ہیں مگر یہ نہیں سوچ رہے ہیں کہ اس میں بہتری کس طرح لائی جاسکتی ہے۔ پی اینڈ ڈی پورے صوبے کو چلا رہا ہے، اگر اسی ایک محکمے کی تحت سارے کام ہونے ہیں تو منصوبے کس طرح مکمل ہوں گے اور کریڈیبلٹی کہاں ہوں گی۔ اس کی نگرانی کیلئے جو فورم بنایا گیا ہے، اس میں بھی پی اینڈ ڈی ہی کے لوگ ہیں۔
ارباب محمد عثمان خان
ایم پی اے، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #ANPPakhtunkhwa
دنیا بھر میں پی اینڈ ڈی مؤثر ریسرچ اور پلاننگ کے بعد ترقیاتی کام کرواتی ہے۔ باجوڑ ناوگئی میں 6 کلومیٹر طویل ایک سڑک ہے، جو سال 2019-20 کا منصوبہ ہے۔ اس کے لیے گزشتہ سال 7 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 6 کروڑ روپے استعمال ہو چکے ہیں۔ منصوبے کا 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، مگر رواں سال کے بجٹ میں اس کے لیے ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا گیا۔
سڑک کا سٹرکچر تیار ہے، اگر اس پر فوری کام مکمل نہ کیا گیا تو اگلے سال یہ سٹرکچر بھی خراب ہو جائے گا۔ معلوم نہیں ہمارا پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کس طرح کی پلاننگ کرتا ہے؟
باجوڑ میں صرف 4 ہائیر سیکنڈری سکول ہیں۔ 2021-22 میں باجوڑ کے لیے 65 سکولوں کا اعلان کیا گیا، مگر آج تک ان سکولوں کے لیے فنڈز ریلیز نہیں کیے جا سکے تاکہ وہ مکمل ہوں اور بچے وہاں تعلیم حاصل کر سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پی اینڈ ڈی کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے۔
بجٹ میں سیاسی بنیادوں پر 1200 نئی مگر غیر ضروری سکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ جس ضلع میں عوام کو جن سکیموں کی ضرورت ہے، ان کی بجائے غیر ضروری سکیموں کو ترجیح کیوں دی جا رہی ہے؟ ہم اپنے حلقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پروپوزلز بھیجتے ہیں، مگر ہماری تجاویز ڈسٹ بن کی نظر ہو جاتی ہیں۔ عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ہم وفاق سے نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء نہ کرنے کا گلہ تو کرتے ہیں، مگر خود تین سال گزرنے کے باوجود یہاں کی حکومت نے صوبائی مالیاتی ایوارڈ کا اجراء نہیں کیا۔
نثار باز خان
ایم پی اے، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #ANPPakhtunkhwa