Mand Maheer is facing yet another siege by the Pakistani army. They've taken over several homes, and now the local residents are protesting with a sit in on the road. @BBCUrdu@HamidMirPAK@hrw
کل بلوچ یکجتی کمیٹی کی کال کے بعد آج ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے پریس کلب کراچی کو سیل کردیا گیا ہے پریس کلب تک جانے والے تمام سڑکوں کو بند کیا گیا ہے باقی بی وائی سی کے علاوہ جن جن کو احتجاج کرنا ہے انکے احتجاج بغیر روکاٹ کے جاری ہیں ہمارے احتجاج کا مقصد بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں میں شدت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا ہے
ایک طرف پیپلز پارٹی کے رہنما عالمی فورمز اور میڈیا کے سامنے انسانی حقوق پر بڑے بڑے لیکچر دیتے ہیں مگر انسانی حقوق کی پامالیوں میں بھی آگے نظر اتے ہیں
پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور یہ حق صرف بلوچوں اور پشتونوں سے چھین لیا گیا ہے۔
ایک ہی مہینے میں درجنوں بلوچ نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا شکار بنانا تشویشناک ہے۔
بلوچ وومن فورم
بلوچ وومن فورم کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہیکہ بلوچستان میں بسنے والے انسانوں کے لیے اُنہی کے وطن کو ریاست اور ریاستی رٹ قائم کرنے والے اِداروں نے جہنم بنا دیا ہے ، حالیہ دِنوں میں کئی جبری گُمشدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں
جن میں کثیر التعداد بلوچ طلبہ کی ہے
بلوچستان میں کئی دیہاؤں سے چلتے جبری گُمشدگی کا سلسلہ تاحال بند نہ ہونے کو ہے ، جبری گُمشدگی کو قانونی طورپر جُرم قرار دی جاچکی ہے لیکن ریاست ہیکہ بزد جسے دن بہ دن بڑاؤ دیے جارہا ہے ، ریاست اپنے ایک جُرم کو چُھپانے کے لیے جرائم پہ جرائم کیے جارہا ہے ، خوا جبری گُمشدگیوں کے ہوں ، معصوم و بے گناہ لوگوں کی قتلِ عام کی یا پھر فیک اِنکاؤنٹر کی صورت میں ہوں۔
مزید ترجمان نے بیان میں کہا ہیکہ حالیہ بلوچ طلبہ کی گُمشدگیاں اور پنجگور سے بیس دِن پہلے لاپتہ کی جانے والے دو بھائی عابد اور صابر کی گُمشدگی میں بلوچستان میں خوف و حراس کے ماحول نے جنم لیا، ہم سمجھتے ہیں جبری گُمشدگیاں اجتماعی سزائیں ہیں جن سے برائے راست جبری گمشدگان کے لواحقین متاثر ہوجاتی ہیں، بلوچ مائیں اور بہنیں آئے روز سڑکوں و چوراؤ پر احتجاج پر دیکھنے کو ملتی ہیں جِن سے اُنکی روز مرہ کی زندگی و صحت پر گہرے اثر پڑ رھے ہیں ،جس میں زہنی بیماریاں سرِفہرست ہیں ، ہم واضح کردیں کہ بلوچ مائیں بہنیں لاوارث نہیں جنہیں مختلف حربوں اور ٹیکنیکوں سے خوف و قحراساں اور کست حال پر چھوڑ دیا جائے ہم اپنے فلیٹ فارم سے بھرپور اُنکی نُمائندگی کریں گے اور اُنکی دبی ہوئی آواز کو دنیا کے سامنے اجاگر کریں گے۔
آخر میں مرکزی ترجمان نے کہا ہم پنجگور میں پچھلے بیس دِنوں سے بیٹھے دو بھائی لاپتہ صابر اور عابد کی لواحقین کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کی حد تک اُنکے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور ریاست سے مطالبہ کرتے ہیکہ وہ اپنے غلط پالسیوں پر نظر ثانی کرکے تمام جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کرے بشمول حالیہ دنوں میں لاپتہ کی جانے والے بلوچ طلبہ اور پنجگور میں احتجاج پر بیٹھے لواحقین کے پیاروں کو جو پچھلے بیس دنوں سے لاپتہ ہیں ۔
Today, I was scheduled to travel to New York to attend @TIME Magazine's gala, where I was invited alongside other leaders named as TIME’s Most Influential Emerging Leaders of the Year. However, I was unjustly stopped at Karachi International Airport with no legal or valid given reason, which is a clear violation of my fundamental right to freedom of movement.
This action reflects the growing fear and insecurity of the state toward Baloch voices. There was no legitimate purpose for preventing my travel, except to silence Baloch voices from being heard internationally, control the flow of information about the situation in Balochistan, and conceal the decades-long human rights abuses occurring in Balochistan.
By denying me the right to travel, the Pakistani government seeks to prevent me from exercising my freedom of expression and rights to movement. This arbitrary travel ban is part of the increasing crackdown on Baloch human rights defenders and activists. I will fight back against this unjust restriction on my rights to movement.
The biggest tragedy for Zarina is to declare herself as Shabir’s wife or widow! Shabir’s family has been going through this pain and suffering for the last eight years.
He was a student leader who endured all kinds of torture for our better future in the state penitentiaries for the last eight years. He is sacrificing his today for our national tomorrow.
#SaveShabirBaloch
ہمارا گھر ویران ہوچکا ہے،بلکل میری اماں کی آنکھوں کی جیسے۔ پاکستانی پارلیمنٹ بشمول عدالتیں بے بس ہیں اپنی فوج کے آگے۔اسی بے بسی کا اظہار ایک جج نے میرے سامنے کیا تھا اور اسی بے بسی کا ثبوت آج بھی پارلیمنٹ ہے۔
لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے،شبیر کی رہائی ہمارا حق ہے
#SaveShabirBaloch
بے سرھال
منارا ھشت سالیں زندگی ءِ در نہ دیستگ من
کجا بندات بوتگ کشک
کجا آسر نہ دیستگ من
کدی ھوراں رگامی تَر کتگ لوگ ءِ دپ ءَ تاپیں منی زال ءِ گشان ءِ لمب
کدی مات ءَ منی جَر ءُ گدانی بو شمشتگ ھچ نزاناں من
#SaveShabirBaloch