حسام ابو صفیہ ان فلسطینی ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جنہیں "اسرائیل کی طرف سے یرغمالیوں کے لیے سزائے موت" (دیگر 95 ڈاکٹروں کے ساتھ) کے تحت قتل کیا جائے گا۔انہیں قتل نہ ہونے دیں۔اسے دوبارہ پوسٹ کریں
انسانی تاریخ کے سب سے ہولناک مناظر میں سے یہ ایک منظر لیک ہو گیا۔ایک نوجوان اور اس کی والدہ کو فرار ہوتے ہوئے براہ راست میزائل کا نشانہ بنایا گیا یہ منظر اسرائیل کے بدترین اور گھناؤنے جرائم میں سے ایک کی عکاسی کرتا ہے۔ایک ایسی ویڈیو جسے انسانی تاریخ کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے
یہ ویڈیو بھیگی آنکھوں کے ساتھ بیسیوں مرتپہ دیکھ چکی ہوں مگر دل نہیں بھر رہا۔۔۔
ایک نابینا شخص کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ عشق کی انتہا دیکھیں۔ ۔
جہاں الفاظ ساتھ چھوڑ جائیں🚨شعلوں کے درمیان گجا (غزہ) میں بلند ہونے والی چیخیں انسانیت کے ضمیر کا امتحان لے رہی ہیں۔اس ظلم کے خلاف خاموش نہ رہیں __ شیئر کر کے اپنی آواز اٹھائیں!
#غزہ#فلسطین#GazaUnderAttack#Gaza
• Take my Water
• Burn my Olive Trees
• Destroy my House
• Take my Job
• Steal my Land
• Imprison my Father
• Kill my Mother
• Bomb my Country
• Starve Us All
• Humiliate Us All
BUT I AM TO BLAME FOR MY RESISTANCE
کیا آپ جانتے ہیں کہ!!!
1900ء کی دہائی کے آغاز میں انگریزوں نے درباری ملاؤں کے ذریعے پشتون علاقوں میں یہ نعرہ پھیلا دیا کہ
--" پشتو د دوزخ ژبہ دہ "-- یعنی (پشتو دوزخ کی زبان ہے)۔ مقصد یہ تھا کہ پشتون اپنی مادری زبان اور تعلیم سے دور ہو جائیں۔ یہ پشتون دھرتی اور ثقافت کو کچلنے کا ایک منظم برطانوی منصوبہ تھا۔
تاریخی ریکارڈز کے مطابق، 1901ء میں جب پشتونخوا الگ صوبہ بنا، تو پہلے چیف کمشنر سر ہیرالڈ ڈین نے وائسرائے کو خفیہ خط لکھا:
"اگر ان افغانوں کو پشتو میں تعلیم دی گئی، تو ان کا قومی فخر کبھی ختم نہیں ہوگا اور یہ ہمارے لیے خطرہ رہیں گے۔ ان پر قابو پانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پشتو کو اسکولوں اور سرکاری دفاتر سے نکال دیا جائے۔"
اس چال کے تحت پشتو کے بجائے اردو کو زبردستی اسکولوں کی زبان بنا دیا گیا، جبکہ اس وقت وہاں اردو کوئی نہیں جانتا تھا۔ انگریز نے ایک طرف عام پشتونوں کے لیے تعلیم کا راستہ روکا، اور دوسری طرف اپنے وفادار خان بہادروں کے بچوں کے لیے ایڈورڈز اور اسلامیہ کالج بنا کر انگریزی نافذ کر دی۔ یہ بالکل ویسا ہی وار تھا جیسا 1849ء میں پنجاب پر قبضے کے بعد وہاں کے مقامی تعلیمی نظام کو مٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔
جب انگریز کی اس سازش نے پشتونوں کو ان پڑھ بنانا شروع کیا، تو خان عبدالغفار خان (باچا خان) نے اس خطرے کو بھانپ لیا۔ انہوں نے 1921ء میں پورے صوبے میں "آزاد اسکول" کھولے، جہاں بچوں کو ان کی مادری زبان پشتو میں پڑھایا جانے لگا۔ بالکل اسی وقت جنوبی پشتونخوا (بلوچستان) میں خان عبدالصمد خان اچکزئی (خانِ شہید) نے بھی یہی کام شروع کیا اور پشتونوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم، املا اور بیداری سے جوڑا۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جو قوم اپنی زبان بھول جائے، وہ اپنی غیرت اور تاریخ بھی کھو دیتی ہے۔ انگریز سرکار اس بیداری سے اتنی ڈر گئی کہ اسکول بند کر دیے، اساتذہ کو جیلوں میں ڈالا اور ان رہنماؤں کو سخت قید کی سزا دی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ 1947ء میں انگریز کے جانے کے بعد بھی یہ پالیسی نہیں بدلی اور پنجابی مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) نے اسی طریقے کو جاری رکھا۔ "ایک زبان، ایک قوم" کے زبردستی نفاذ کے لیے پشتو، سندھی اور بلوچی کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج کا پشتون بچہ گھر میں پشتو بولتا ہے، اسکول میں اردو پڑھتا ہے اور نوکری کے لیے انگریزی کا محتاج ہے۔ اسی لسانی ظلم نے پشتونوں کو اپنی ہی دھرتی پر اجنبی اور مقتدرہ کا دستِ نگر بنا دیا ہے۔
آج اگر پشتو زبان زندہ سلامت ہم تک پہنچی ہے، تو یہ ان عظیم پشتون رہنماؤں، شاعروں اور ادیبوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے تمام خطروں، ریاستی سختیوں اور جیلوں کے باوجود اس کا وجود برقرار رکھا۔
ہم دل سے شکرگزار ہیں باچا خان، خان شہید عبدالصمد خان اور قاضی عطا اللہ کی تعلیمی محنتوں کے، حمزہ بابا کی لافانی غزلوں کے، غنی خان کے انقلابی فلسفے کے، قلندر مومند کی علمی تحقیق کے، اجمل خٹک کی لرزہ خیز نظموں کے، اور جنوبی پشتونخوا میں سائیں کمال خان شیرانی کی انتھک فکری جدوجہد کے۔ ان سب محسنوں نے انگریز اور (پنجابی) مقتدرہ کے لسانی ظلم کے خلاف اپنے قلم کو مورچہ بنائے رکھا۔ سلامِ عقیدت ان تمام اساتذہ اور ادیبوں کو جنہوں نے پشتو زبان کو مٹنے نہیں دیا۔
Allah Almighty doesn't expect perfection. He expects and rewards effort. He knows your struggles. As long as you’re trying, that’s good enough. Strive to do better each time. He will reward you and elevate your status.
#RememberGaza is trending. Let’s keep it going.
For every orphaned child, raped Palestinian, and innocent person shot and killed by the IDF as they ran to collect food amidst starvation.
The wife of Dr. Hossam Abu Safieh is pleading with the world to intervene urgently to save his life, asserting that "his only crime was saving the lives of the wounded," and demanding immediate action before he dies in prison.
Don't let this become just another news item; talk about it.
🚨Three people were killed including two children and 10 others were wounded in Israeli artillery shelling in a displacement camp west of Al Nuseirat refugee camp of the Gaza Strip..