سٹوڈنٹس نے ویڈیوز آہستہ آہستہ ریلیز کی ہیں جب کہ غیرت عزت بہادری کا بیانیہ پیٹنے والوں کا مکمل جنازہ نکل سکے
محترمہ تو میاں کے پہنچنے سے پہلے ہی کافی وائلنٹ ہوئی پڑی تھی پھر وردی کی تو تڑ ہی اور ہوتی ہے
پولیس پہلے آ چکی تھی فائرنگ پولیس کی موجودگی میں کی گئی
ہیروں کی جیولری بنانے والے بھارتی جیولر دھرومیت کا ثبوت دکھا کر انکشاف!
" پاکستانی پنجاب کی ایک پسماندہ اور غریب ترین علاقے سے منتخب خاتون ممبر پنجاب اسمبلی نے مجھے اپنی بیٹی کی شادی کیلئے ہیرے کی جیولری بنانے کیلئے انسٹاگرام پہ رابطہ کیا اور کہا کہ انہیں بڑے بڑے ہیروں والی سب سے مہنگی جیولری چاہئیے جب پیمنٹ کے حوالے سے بات ہوئی تو اس ایم پی اے نے کہا کہ پیمنٹ کا کوئی ریکارڈ نہ رکھا جائے اسلئے پیسے آپکو نقد کیش کی صورت دبئی میں دے دئیے جائیں گے جس پر میں نے انکو منع کر دیا جس پنجاب کے عوام گٹروں کے ڈھکن بیچنے پر مجبور ہے اسی پنجاب کی وزیراعلیٰ اتنے بڑے بڑے اور مہنگے ترین ہیرے پہنتی کہ ایک ایک ہیرا بیچ کر تمام قرض اتارا جا سکتا ۔۔۔۔۔ کچھ تو شرم کرو آپ لوگ"
بولو ماشااللہ
#PunjabGovernment #punjabeducation
آرمی کیپٹن پر داکٹر شازیہ کا ریپ الزام تھا۔ اور اس کیپٹن کو بچانے کیلئے مشرف نے بگٹی قبیلے کے خلاف آپریشن کیا اور اکبر بکٹی کو شہید کیا گیا تھا۔
اپنے ایک کرپٹ کیپٹن کو تحفظ دینے کیلئے بلوچستان کو آگ اور خون میں جھونک دیا تھا۔
میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا
میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی
اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے
شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو
بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی
اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے
جب پمز کے ڈاکٹروں سے آپ سیاسی جلوسوں میں حکومتی تشدد سے مارے جانے والے پاکستانیوں کی لاشیں چھپانے کا کام لیں گے ، سیاسی طور پر غلط رپورٹیںُ بنوائیںُ گے تو یہ ڈاکٹر بے خوف ہو جاتے ہیں کہ اب ہمیں کون پوچھ سکتا ہے ، ہم تو لاڈلے ہیں
تینتیس عدد ریٹائرڈ جن کی ٹانگیں قبر میں ہیں اور جو بیرون مُلک شفٹ ہو چکے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان اُن کی پینشن انہیں بارلے مُلک کی کرنسی میں بھجواتی ہے
33 ریٹائرڈ افسران کی پینشن 34 کروڑ
یہ وہ مُلک ہے جو IMF کے قرض پر چلتا ہے اور 200 یونٹ ہونے پر عوام سولی پر لٹکی ہوتی ہے
مالاکنڈ سوات کی اس لڑکی نے دو ہفتے پہلے اپنے بوڑھے باپ کے ہمراہ پریس کلب پشاور میں پریس کانفرنس کر کے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سے قبضہ گروپس کے خلاف انصاف اور تحفظ کی اپیل کی تھی
پھر دیکھیں ہمارے ملک کا سسٹم اور خاص کر کے پی کے کا انصاف !!!!
اس کو انصاف اور تحفظ ملنے کے بجائے اج اس لڑکی کو باپ سمیت گولیوں سے چ ھن ل ی کر کے انصاف دیا گیا
اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مافیا گروپ ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں۔
👈اس آواز کو حکومتی ارباب اختیار تک پہنچائیں۔
@syed_bacha@FarhanKVirk@GFarooqi
🔸 میرے یونیورسٹی کے پُرانے کولیگز بتا رہے ہیں کہ ،
سرحد یونیورسٹی کے 35 سے زیادہ سٹوڈنٹس کو ہاسٹلز سے گرفتار کرکے ان پر تشدد ہو رہا ہے اور ان کے خلاف ایف آئ آرز کروا رہے ۔۔ احتجاج میں شامل لڑکیوں کو بھی یونیورسٹی سے نکالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہے اور ان کے والدین سے رابطہ کرکے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔
🔸 کیا یونیورسٹی میں کوئ ذمہ دار ایڈمنسٹریشن نہیں ہے جو سٹوڈنٹس کے حقوق کا تحفظ کرے ؟
🔸 سرحد یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے لئے آواز اُٹھائیں پلیز
پمز اسپتال کا داخلی دروازہ اور ایمرجنسی خارجی دروازے دونوں کو انتظامیہ نے بند کیا ہوا تھا۔۔۔۔
ہم نے دیوار توڑ کر کچھ والدین اور بچوں کو ریسکیو کیا باقی آگ میں جل گئے۔۔۔ریسکیو اہلکار کا موقف
اللٰ٘ہ اسکی نوکری اب محفوظ رکھے۔۔۔
کرنل کی بیوی کے بارے میں معلومات جو فوجی حلقوں سے مل رہی ہیں سرحد یونیورسٹی کے ڈاکٹر جدون ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹس افئیر کے انچارج ہیں وہ سٹوڈنٹس کو فیس میں انسٹالمنٹ کی سہولت اور انٹرنشپ کے لئے ہسپتال جانے والے سٹوڈنٹس کو فری ٹرانسپورٹ سروس دیتے ہیں
کرنل کی بیوی ڈاکٹر اعینہ نے آتے ہی فیس انسٹالمنٹ اور ہسپتال کے لئے فری ٹرانسپورٹ سروس کی سہولت ختم کردی اس پر ڈاکٹر جدون نے اعتراض کیا کروڑوں روپے کمانے والے ادارے کو ساڑھے سات لاکھ روپے سے خسارہ نہیں ہوگا لیکن سٹوڈنٹس کو بہت ریلیف ملے گا اس پر خاتون غصہ ہوئی یہ خیراتی ادارہ نہیں ہے نہ آپ کے باپ کا ہے جو اپنی مرضی سے چلاؤ ڈاکٹر جدون نے کہا تمھارے باپ کا بھی نہیں ہے اس پر خاتون نے مزید برا بھلا کہا ڈاکٹر جدون خاموش رہا پہلے اپنے بھائی کو فون کیا پھر پولیس کو فون کیا پولیس نے دونوں کو تھانے بلایا خاتون نے ہراسگی کا الزام لگایا دوستوں نے ڈاکٹر جدون کو سمجھایا کے شکایت کنندہ کی زیادہ سنی جاتی ہے تو ڈاکٹر جدون نے معافی مانگ لی اگلے دن ڈاکٹر اعینہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر پریشر ڈالا اس ڈاکٹر کو نوکری سے نکالو اگلے دن خبر پھیل گئی ڈاکٹر جدون کو طلبہ سے بھلائی کرنے پر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے سٹوڈنٹس نے کیمپس کا گیٹ اندر سے بند کردیا اور ڈاکٹر صاحب کی بحالی کا مطالبہ کرنے لگے اس دوران محترمہ تشریف لائیں اور غصہ کرنے لگی لیکن طلبہ نہ مانے پھر خاتون نے کرنل صاحب کو بلایا اور یہ واقعہ رونما ہوا
عادل راجہ
انتظامیہ بھاگ گئی تھی ، ہم نے تالے توڑے ، اندر جانے کی کوشش کی تو آگ نے اٹھا کر باہر پھینکا ، میں باپ ہوں، زبردستی اندر گیا ، چار پانچ بچوں کو باہر نکالا لیکن وہ جھلس چکے تھے ، ایک باپ کی دکھ بھری گفتگو 💔