Addressing the KP Assembly’s budget session, chaired by Speaker Babar Saleem Swati, the chief minister @SohailAfridiISF said any decision on providing additional funds to the federal government would be made by #PTI founder @ImranKhanPTI. https://t.co/WDFRGCG62Z
My name is Malik Nazar Khan Zadran and I am asking the State of Pakistan: Where is Imran Khan? The people of Pakistan have the right to know about the condition, safety,and well-being of their former Prime Minister. Transparency and accountability
#خان_کو_قوم_کے_سامنے_لاؤ
چار مہینے پہلے کلور کوٹ بھکر میں سی سی ڈی کے روایتی مقابلے میں ایک 7 سالہ کم سن بچی فائرنگ سے ماری گئی۔ اس پر کسی صوبائی وزیر، آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی وغیرہ نے پریس کانفرنس نہیں کی کیونکہ اس معصوم کا قصور یہ تھا کہ اس کے پاس غیر ملکی پاسپورٹ نہیں تھا، اس لیے اسکا خون معاف!
پشاور کا تاجر کراچی اور لاہور کی مارکیٹ کا کیسے مقابلہ کر سکتا ہے۔ ہمارے پاس اگر ایک گنجائش ہے تو وہ افغانستان اور سینٹرل ایشیا ہے۔ آپ نے افغانستان کے ساتھ ہمارا بارڈر بند کیا، کاروبار بند کیا جس کی وجہ سے پشاور میں جو انڈسٹری ہے وہ بیٹھ رہی ہے۔ خدارا ہمارے ساتھ یہ ظلم نہ کریں، ہم سے سیاسی انتقام نہ لیں۔ آپ بھارت کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں یا نہیں کرتے، واہگہ بارڈر کھولا ہے یا نہیں کھولا، آپ ایران کے ساتھ جنگ میں بھی کاروبار کر رہے ہیں۔ اگر امریکا اور ایران آپس میں بیٹھ کر اتنے بڑے تنازعات حل کر سکتے ہیں تو آپ ڈپلومیٹک چینل کے ذریعے اس کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کریں۔ آپ سفارتی چینل استعمال کریں، اگر وہ نہیں کر سکتے تو ہم تیار ہیں، جرگوں کے ذریعے اپنے معاملات کو حل کرتے ہیں، لیکن خدارا ہمیں کاروبار کرنے دیں، ہمیں روزگار کرنے دیں۔
اس گاڑی میں ساٹھ سے زائد گولیوں کے سوراخ ہیں، ان میں سے ایک گولی اُس دس سالہ بچی کو موت کی وادی میں لے گئی جسکے چکوال سے آئے خاندان کو پہلے ڈاکوؤں نے لوٹا اور پھر محافظوں نے گولیاں مار دیں۔ بتایا جاتا ھیکہ یہ فائرنگ پنجاب کی بدنامِ زمانہ اور بھٹو دور کی فیڈرل سیکیورٹی فورس (ایف ایس ایف) کی ہم پلہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے اہلکاروں نے کی ہے۔
اس سے پہلے ۲۰۱۹ میں ساہیوال کے قریب پنجاب کی انسدادِ دھشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے ایک سبزی فروش، اسکی اہلیہ، بچی اور ایک جاننے والے کو قتل کر دیا تھا, لاہور کی ہی ایک انسدادِ دھشت گردی کی عدالت نے شک کا فائدہ دیکر پولیس ملزمان کو بری کر دیا تھا۔
سی ٹی ڈی کے سربراہ کو اس گاڑی اور قتل ہونے والی بچی کی تصویر اپنے دفتر میں ایک یاددھانی کے طور پر آویزاں کر دینی چاہئیے تاکہ اپنے زیر حراست اصلی ملزمان کیخلاف بھی جعلی پُلس مقابلے کی منصوبہ کرتے وقت یاد رہے کہ غلطی کے اسی امکان کے باعث ہی مہذب ملکوں میں عدالتیں بنائی جاتی ہیں۔
بلاول بھٹو کے اس بیان کے بعد مریم نواز کو وزیراعلی پنجاب کے عہدے سے استعفٰی دے دینا چاہیے۔ اور اپنی نشست ہار جانے کے باوجود فوج اورآرمی چیف کی مدد سے پنجاب میں جعلی حکومت بنانے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس پہ چند گزارشات۔
نمبر ۱۔ یہ معاملہ سیاسی تھا اور موجودہ سیاستدانوں کی نا اہلی ہے کے وہ یہ مسئلہ گفتگو سے حل نہ کر سکے۔ اُس کی وجہ بھی یہی ہے کے موجودہ سیاستدان لوگوں کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔ جس دن الیکشن میں حقیقی نمائندے کامیاب ہوئے، سب مسلے حل ہو جائیں گے۔
نمبر ۲۔ نااہل سیاسی جماعتیں ہر مسئلے میں سیکورٹی فورسز کو آگے کر دیتی ہیں، یہاں سمجھنے کی ضرورت ہے کے سیکورٹی فورسز کے پاس ہر مسئلے کا حل گولی ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی ٹریننگ میں مزاکرات کرنا نہیں بلکہ لڑنا سیکھتے ہیں۔
نمبر ۳۔ عین مُمکن ہے کہ احتجاج کرنے والوں میں چند بکے ہوئے لوگ بھی ہوں گے مگر اس بنا پہ باقی شہریوں کی پاکستان سے محبت پہ سوال اٹھانا زیادتی ہے۔ مت بھولیے کہ پاک فوج سے لے کر ہر پاکستانی ادارے میں کشمیریوں کی لازوال خدمات و قربانیاں ہیں۔ یہ لوگ جو آج سیاسی احتجاج کر رہے ہیں، انہی کے رشتداروں نے پاکستان کے لئے جانیں نچھاور کی ہیں۔ اس سال کاکول میں اعزازی شمشیر لینے والا بھی ایک کشمیری پاکستانی ہے۔
نمبر ۴۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اور اگر اس کہ ساتھ زورآزمائی ہوئی تو ہم سب معذور ہوں گے۔ دلیل کو سُنیں اور اُس کا حل حکمت سے نکالیں۔
نمبر ۵۔ لوگوں کے حقیقی نمائندے سامنے لائیں، جن کی بات کو عوام اہمیت دیں۔ جمہوریت عوام کی مرضی کو کہتے ہیں، نااہل سیاستدانوں کی حکومت کو نہیں۔ نااہل سیاستدان اپنی نااہلی چھپانے کے لئے فقط سیکورٹی فورسز کو آگے کرے گا جس سے معاملہ مزید بگڑے گا۔
نمبر ۶۔ یہ لوگ جو سیاسی احتجاج کر رہے ہیں ان کے لاکھوں رشتہ دار برطانیہ میں موجود ہیں جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں، خدارا ان کے دلوں میں اس محبت کو قائم رکھ کے اُس کی آبیاری کریں۔
بیلٹ پیپرز کی پوری کتابیں استعمال کر کے جعلی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ لوگ شکایات درج کرانے کے لیے ریٹرننگ آفیسر کو تلاش کر رہے ہیں مگر وہ منظر سے غائب ہیں۔
پولنگ اسٹیشنز سے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب پریذائیڈنگ آفیسر دھاندلی کی شکایت کرنے پہنچے تو دفتر ویران پڑا ہوا ہے۔ ریٹرننگ آفیسر غائب، ریکارڈ غائب، رجسٹر غائب اور حتیٰ کہ ووٹڈ بھی غائب۔
گلگت بلتستان میں تاریخ کی بدترین دھاندلی۔ یہ سب انہی تاحیات لرزتی طاقتوں کی سرپرستی میں ہو رہا ہے جو عوام کو جمہوری حق استعمال کرنے کے جرم میں ان پر سیدھی گولیاں برساتے ہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
آج جس عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنٹ کہا جا رہا ہے صرف آٹھ ماہ قبل ان بھارتی ایجنٹوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنیوالوں کے بارے میں ہم کیا کہیں ؟کل کو آپ اسی ایکشن کمیٹی کیساتھ پھر مذاکرات کرینگے جسے دہشت گرد قرار دیا گیا۔یہ صرف کشمیر کا نہیں پاکستان کے اہل سیاست کا بھی المیہ ہے جو مختلف اوقات میں ایک دوسرے کو ملک دشمن قرار دیتے رہے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے اتحادی بن جاتے ہیں۔
عمران خان کو یہ لوگ توڑ نہیں سکتے سب یہ بات اپنے ذہن سے نکال دیں اگر 6 ماہ مزید بھی عمران خان کی ملاقاتیں نہ کرواو
تو وہ نہیں ٹوٹے گا حکومت تو ایسی چیزیں سوچنا ہی چھوڑ دے کہ وہ ڈر جاۓ گا
مصطفی نواز کھوکھر
حکومتی افلاطون آزاد کشمیر کے معاملے میں بھی اپنی نااہلی، غفلت اور نالائقی پر توجہ دینے کی بجائے ایک بار پھر غیر ملکی فنڈنگ اور سازش کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ 20 سال میں 11 وزیراعظم تبدیل کئے گئے ہیں، کیا یہ بھارتی سازش تھی؟
آج بازئی قبیلہ اپنے صدیوں کےمسکن 'منگلہ'کوچھوڑنے پرمجبورکیاگیا۔ 'مانگی' کے علاقےمیں پچھلے دس سال سےیا قتال ہےیا اغواء۔ شاہرگ لہولہان ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جہاں جہاں معدنیات ہیں وہاں ہمارے لوگوں کی زندگی، جان و مال غیر محفوظ ہوگئے ہیں؟ کون زمہ دار ہے عوام کی حفاظت کا؟
#Balochistan
لاہور کی ترقی کا راز
لاہور میں بننے والی 300 ارب روپے کی اورینج ٹرین سی پیک کے پیسوں سے بنائی گئی سی پیک گلگت سے لے کر گوادر تک ہےنہ گلگت میں بجلی ہے نہ گوادر میں ، سی پیک جہاں سے شروع ہوتا ہے نہ وہاں بجلی اور پانی ہے اور جہاں ختم ہوتا ہے نہ وہاں بجلی اور پانی ہے !چوہدری منظور
نواز شریف گلگت بلتستان والوں سے شکوہ کر رہے ہیں جب مجھے زبردستی دیس سے نکالا گیا تو آپ خاموش کیوں رہے؟ یہ شکوہ انہیں اپنے شہر لاہور سے کرنا چاہئیے وہ بھول گئے کہ آج بھی انکا بھائی وزیراعظم اور بیٹی وزیراعلیٰ ہے جس جنرل باجوہ نے انہیں 2017 میں نکالا اسے 2019 میں ایکسٹنشن کس نے دی؟
"ایک چھری اپنی غیر سنجیدگی پر بھی پھیر " (کیوں کہ یہ نبیوں کی سنت ہے ؛ کوئی ٹک ٹاک نہی )
ہمارا معاشرہ اپنی زندگیوں میں کس قدر غیر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پوری بڑی عید پر سوشل میڈیا اس طرح کی وڈیوز سے بھرا رہا جس میں کہی کوئی بیل قصائی کو ٹکر مار کر بھاگ رہا ہے تو کہیں کوئی ویڑآ کسی دکان میں گھس کر وہاں شیشے توڑ رہا ہے - کہیں کوئی بیل چھت سے گر رہا ہے اور کہیں کوئی قصائی دوڑ رہا ہے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے ہے - ایک وڈیو میں قصائی کے پاؤں میں رسی پھنسی ہے اور بیل بھاگ رہا ہے اور قصائی پیچھے پیچھے گھسیٹتا جارہا ہے اور بیک گراونڈ میں ٹک ٹاک والا سستا گانا چل رہا ہے - ان سب وڈیوز کو اکثر ازراہ مذاق اور طفنن پیش کیا گیا ہے (جیسا کہ اس وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جو میں نے یہاں لگائی ہے جس کے شروع میں ہی بنانے والے نے لکھا ہے کہ یہ میں نے "تفریح کیلئے " بنائی ہے ) جہاں کومنٹس اور پیچھے لگا میوزیک یہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہمارے ہاں کسی انسان کے اوپر بیل کا چڑھ جانا اب ایک عام بات ہے - کسی انسان کا نیچے گر جانا اب بس دیکھنے والوں کیلئے ایک مذاق رہ گیا ہے - ہے یہ مذاق ہے بس تب تک جب تک وہ انسان آپ کا اپنا باپ یا بھائی نہ ہو یا اپ خود نہ ہوں - کسی جگہ میں نے ایسے واقعات کی مذمت اور ان کی روک تھام کیلئے کوئی تحریر نہی دیکھی نہ کوئی ایسی وڈیو نظر سے گزری -
چلیں امریکا چلتے ہیں - یہاں امریکا میں اس سال قربانی کی - ایک فارم ہاؤس پر بکرا خریدا - اس کو پسند کیا - اس کا نام رکھا - لیکن اس کو گھر لانے کی اجازت نہی تھی - عید کے دن نماز پڑھ کر فارم پر گیے - اپنے سامنے وہی اس کو چھری پھروائی' پروفیشنل قصائی نے اس کی کھال اتاری ' اس کا گوشت کاٹا' لیکن کسی سڑک پر نہیں ' بلکہ ایک خاص جگہ پر جو چار دیواری تھی' آبادی سے دور تھی تاکہ جانور بھاگے بھی تو کسی کو نقصان نہ پہنچاسکے - پہلے مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا تھا - یہ کیا بات ہوئی کہ سڑک پر نہ کوئی جانور نہ کوئی خون- یہ کیسی عید ہوئی - یہ کیا بات ہوئی - پر پھر مجھے اعداد و شمار نظر آیے جو میں نے سوشل میڈیا پر بہت کم دیکھے - محض اس سال 2026 میں عید کے صرف پہلے دن پاکستان میں چودہ ہزار لوگ جانوروں کو ذبح کرتے ہویے زخمی ہویے - یہ ڈیٹا ابھی ان حادثات کا ہے کہ جن واقعات میں لوگوں کو ہسپتال لیجانا پڑا یا 1122 کو بلانا پڑا - جن وڈیوز کی میں بات کر رہا ہوں وہ ان کے علاوہ ہیں - ان جانوروں کو جس اناڑی طریقے سے ذبح کیا جاتا ہے اور پھر جب وہ رسی تڑوا کر بھاگتے ہیں ان سے ہونے والے گاڑیوں کے نقصانات کا تخمینہ ایک ہزار سالانہ سے زیادہ ہے -
یہ ہر سال ہوتا ہے - اس کے باوجود نہ میں کسی اتھارٹی کی طرف سے کوئی خاص اقدامات دیکھتا ہوں نہ عوام کی طرف سے کوئی خاص احتیاط - کسی بیل کو جب بس تین چار اناڑی لوگ ذبح کر رہے ہوتے ہیں تو بچوں سمیت عوام کا جم غفیر پاس کھڑا ہوتا ہے اس بات سے بے نیاز کے جب یہ بیل بھاگے گا تو کسی بچے پر چڑھ جائیگا - اس کے برعکس جب ایسا ہوتا ہے تو بچے کو بچانے والے کی ٹک ٹاک تو بہت وائرل ہوتی ہیں پر ایسا کوئی پلان واضح نہیں ہوتا کہ آئندہ ایسا نہ ہو - نہ ماں باپ پر کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ آپ وہاں کیوں کھڑے تھے نہ بیل کے مالک سے سوال ہوتا ہے کہ آپ نے ذبح کرنے سے پہلے ایسی جگہ کا انتخاب کیوں نہی کیا جہاں اگر بیل بھاگے بھی تو باقی لوگوں یا املاک کا نقصان نہ ہو - نہ اس قصائی کا کوئی لائسنس ہوتا ہے کہ بھائی آپ واقعی پیشہ ور قصائی ہیں یا دو دن کیلئے مزدور اور حجام سے قصائی بنے ہیں اور اپنے سے پچاس گنا وزنی بیل کو گرانے کی کوشش میں معصوم بچوں اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں تو اس کا کوئی تو لائسنس ہوگا ' وہ دکھا دیں -
الغرض میں ہر سال ایسی وڈیوز پر بس عوام کے قہقہے اور اقوال زریں کہ "جسے الله رکھے اسے کون چکھے " دیکھتا رہتا ہوں پر ان واقعات کے سدباب سے متعلق نہ کوئی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے نہ کوئی انتظام یا قانون دیکھنے کو نظر آتا ہے - نہ کسی عالم کی طرف سے کوئی رہنمائی سامنے آتی ہے نہ میڈیا پر ایسی کوئی کیمپین دیکھنے کو ملتی ہے -
اس تحریر کو پڑھ کر مذھب کے ایک فریضے پر اعتراض کرنے یا میرے مذھب بیزار ہونے کا فتوی لگانے سے پہلے اس کو دوبارہ پڑھیں اور پھر ہسپتال میں کسی قصائی یا بچے سے مل کر آئیں جس کا کولہا فریکچر ہوگیا ہو یا جس کا سر پھٹ گیا ہو - یا کسی ایسے دکان والے سے ملکر آئیں جس کی کل جمع پونجی کسی کے جانور کی سرعام قربانی کی نذر ہوگئی اور جس نے وہ دکان بنانے کیلئے قرضہ لیا تھا جو اب ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور یہی دکان اس کے خاندان کا واحد روزگار تھی -
آپ قربانی ضرور کریں ' ہر سال کریں ' لیکن بس اپنے جانور کی قربانی کریں ' کسی کی کمر کی نہی ' کسی کی ہڈی کی نہیں ' کسی کی دکان کی نہی ' کسی کی گاڑی کی نہیں - اگر ہر سال ان احتیاطوں کو کرلیا جائے تو ممکن ہے کہ ہمیں ٹک ٹاک پر لطیفے اور سستی وڈیوز تو نہ ملیں پر عوام محفوظ ضرور ہوجائیں گے :
1. کسی بھی بیل یا ویڑے کو سڑک پر باندھنے کی پابندی ہونی چاہیے- اس کیلئے ایسی جگہ ہو جو چار دیواری والی ہو اور اگر کسی کے پاس ایسا انتظام نہیں تو اس کو بکرا لینا چاہیے ' بیل نہی -
2. جانور منڈیاں شہری آبادی سے دورہوں ' اور وہاں سے جانور لانے کیلئے کسی چنگچی کسی کھلی گاڑی کسی رکشے پر پابندی ہونی چاہیے - ایسی خاص گاڑیاں حکومت کی طرف سے چلائی جائیں جن میں جالی لگی ہو تاکہ جانور کو بغیر کسی حادثے کے دوسری جگہ پہنچایا جاسکے -
3. بیل اور ویڑوں کو گھروں میں لانے پر پابندی ہو - ان کو وہی رکھا جائے جہاں سے خریدا گیا ہو یا ایسے کھلے پلاٹ یا ایک خاص جگہ ہو جہاں ان کو باندھا جائے اور وہی قربان کیا جائے اور اس چیز کو حکومت خود ریگولیٹ کرے -
4. سڑک پر کسی بھی بیل کی قربانی قابل سزا جرم ہو - اس کیلئے لازمی ہو کہ چار دیواری والی جگہ ہو جہاں کسی بھی بچے کو لیجانا جرم ہو - بچوں نے دیکھنا ہو تو اوپر چھت سے دیکھیں یا وڈیوز میں دیکھیں لیکن تیس فٹ تک وہاں کوئی بچہ یا ایسا بندہ نہ کھڑا ہو جس کا اس قربانی سے کوئی تعلق نہی ہے -
5. جانور کی قربانی کرنے والا کوئی پروفیشنل قصائی ہو جس کا باقاعدہ لائسنس ہونا چاہیے - وہ عام دنوں میں بھی قصائی ہی ہو اور اس کے ساتھ کم سے کم پانچ چھے ایسے افراد ضرور ہوں جو جانور کو گرانے اور اس کو سنبھالنے میں مہارت رکھتے ہوں -
6. عید سے پہلے قصائی حضرات کی ٹریننگ کا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے اور حکومت کی طرف سے یا محلوں کی سطح پر ایسی ورکشاپس ہونی چاہیے جن میں ان لوگوں کی ٹریننگ ہو اور اس کے بعد ہی ان کا اس سال کا قربانی کا لائسینس رینیو کیا جائے -
7 . جانور کو گرانے کا ایک آفیشل طریقہ حکومت کی طرف سے لاگو ہونا چاہیے اور اسی طریقے سے جانور کو گرایا جانا چاہیے - اور ان پابندیوں کو لوکل کمشنر اور بیوروکریسی کے افراد خود دیکھیں -
8 . کسی بھی بیل کو کرین سے اوپر یا نیچے لیجانے پر سخت پابندی ہونی چاہیے - یہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس قربانی کے جانور کی بھی توہین ہے جو کبھی چھت سے نیچے گر رہا ہے اور کبھی چھت پر لیجاتے ہویے پھسل رہا ہے -
9 . اگر کسی کے پاس ان جانوروں کو محفوظ طریقے سے رکھنے اور قربان کرنے کا انتظام نہی ہے تو ان کو پھر قربانی میں حصہ ڈالنا چاہیے اور ایسے فارمز اور کھلی جگہیں ہونے چاہیے جہاں ان جانوروں کو رکھا جائے جن میں لوگوں نے حصہ ڈالا ہو -
10 . جس کے جانور سے کسی کی گاڑی یا دکان کا نقصان ہو وہ شخص اس نقصان کو پورا کرنے کا پابند ہو اور اس کو حکومت کی طرف سے بھی اتنے سخت جرمانے کیے جائیں کہ لوگ ان قربانیوں کو نمائش اور تفریح کی بجاے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر تمیز اور احتیاط سے انجام دیں -
11 . ایسے ماں باپ کی پولیس سے بازپرس ہونی چاہیے جو بچوں کو لے کر ذبح ہوتے بیل کے سر پر کھڑے ہوتے ہیں - امریکا میں بچے کو گود میں لے کر گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھانا ہی اتنا بڑاجرم سمجھا جاتا ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس کینسل ہوسکتا ہے کیوں کہ ان کے ڈیٹا کے مطابق حادثے کی صورت میں اگلی سیٹوں والوں کا زیادہ نقصان ہوتا ہے - اگر ہم فیشن میں مغرب کی نقل کرسکتے ہیں ' کھانوں میں ان کے پیزے اور پاستے کھاسکتے ہیں تو روز مراه کی زندگیوں میں بھی ان سے تھوڑی احتیاط تھوڑی تمیز سیکھ سکتے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچ سکیں -
12. عید پر ایسی مزاحیہ وڈیوز اور ٹک ٹاک کو پروموٹ کرنے کی بجاے ایسی تحریروں کو لکھنے کا رجحان بنائیں اور ان کو وائرل کریں جن میں سنجدیگی ہو اور مثبت بات ہو ' کسی کی جان بچانے کی بات ' کسی کی دکان بچانے کی بات -
میں جانتا ہوں کہ یہ تدابیر پڑھ کر بہت لوگ ہنس رہے ہونگے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں ڈرائیورز کے پاس لائسنس نہی تو قصائی کے پاس کہاں سے ہوگا - لیکن یہ آگاہی دینے میں مجھے کوئی حرج نہی - میرے نزدیک اگر کوئی ایک بھی ان ہدایات پر عمل کرلیتا ہے اور کوئی ایک بھی حادثہ بچ جاتا ہے تو میرا وقت حلال ہوا - یاد رکھیں - عید قربان ایک بہت مقدس فریضہ ہے کوئی ٹکٹاک کا گانا نہی - یہ نبیوں کی سنت ہے - پر پوری سیرت نبوی (صلی اللہ علیھ وسلم ) میں ایسے کوئی واقعہ نہی ملتا جہاں کسی جانور کی قربانی کے وقت کسی دوسرے کو نقصان پہنچا ہو - قربانی ضرور کریں لیکن اپنا جانور قربان کرنے سے پہلے اپنے اندر نمود و نمائش کے حیوان کے گلے پر چھری پھریں ' اپنی بے احتیاط اور لاابالی طبیعت اور غیر سنجیدہ مزاج کی گردن کاٹیں ' تاکہ بس آپ کے جانور کا خون بہے ' کسی ایسے انسان کا نہیں جس کا اس قربانی سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے - شکریہ
قلم کی جسارت وقاص نواز
--------------------------------------------------------
@noshigilani@MoeedNj@ImranRaizKhan
ہمیں چیف الیکشن کمشنر کہتے ہیں:
مجھے تو ایجنسیاں لائی ہیں، آپ اُن سے بات کریں۔ میں تو مجبور ہوں، میری ایکسٹینشن بھی اُنہوں نے کروائی۔ ایجنسیوں کو عمران خان سے مسئلہ ہے۔
اگر اُن کو پی ٹی آئی یا عمران خان سے مسئلہ ہے، تو وہ ہزار سال بھی رہیں، ہم ہزار سال بھی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے-
آج کل جو حالات ہیں تو عدالتیں کہاں ہیں؟ اس وقت چیف جسٹس یحی آفریدی کے لئے بہت بڑا سوال ہے کہ آپ کس قسم کے چیف جسٹس ہیں جہاں کھلے عام قانون کا قتل عام ہو رہا ہے شہریوں پر پابندی لگائی جارہی انکے حقوق سلب کئے جارہے ہیں سپریم کورٹ خاموش ہے، مصطفی نواز کھوکھر
@mustafa_nawazk