عمران خان کے خلاف پنڈی جی ایچ کیو کیس میں پراسیکیوشن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اوپن کورٹ میں پراسیکوشن سے پوچھا تھا ہم نے چھپا کے تھوڑا ہی فیصلہ کیا تھا ، سابق جج جسٹس انوار الحق پنوں کا ایک انٹرویو میں اہم انکشاف
وہ تمام ڈپٹی کمشنرز جو بغیر قانونی اختیار، بغیر application of mind اور محض سیاسی مصلحتوں کے تحت غیر قانونی ایم پی او نظر بندی کے احکامات جاری کرتے ہیں، انہیں ایک قطار میں کھڑا کرکے ذلیل کرنا چاہیے اور آئینِ پاکستان کا بابِ بنیادی حقوق پڑھانا چاہیے۔ CSS کے انٹرویوز میں یہی افسران Rule of Law، آئین کی بالادستی اور عوامی خدمت کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، مگر عملی طور پر قانون کی حکمرانی کے بجائے اپنے سیاسی آقاؤں کی خواہشات کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں
اہم ترین 🚨
پشتو میں کہہ رہا ہے اٹک پل پر کنٹینرز کے ساتھ ساتھ کیل بھی لگائے جا رہے ہیں وہ بھی ایک دوسرے کے اوپر ویلڈ کرکے لگا رہے ہیں۔
کہتے ہیں ریاست ماں ہوتی ہے تو یہ کیسی ماں ہے جہاں پختونوں کے لئے ایک قانون جبکہ باقی لوگوں کے کے لئے دوسرا قانون ہے
جعلی وزیر اعلی مریم صفدر 11 ارب کا جہاز لیتی ہے تو دوسری طرف باپ اپنی بیوی اور 3 بچیوں سمیت بھوک اور افلاس سے تنگ آ کر خود کشی کر لیتا ہے
میرے حلقہ NA 163 ہارون آباد ضلع بہاول نگر کے رہائشی ڈاکٹر عمر جو گذشتہ 15 سال سے روزگار کے سلسلے میں کراچی میں تھے،لیکن مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آ کر اپنی 3 بییٹوں اور بیوی سمیت خود کشی کرلی
ڈاکٹر عمر انکی فیملی اور بیٹیوں کی المناک اموات
فریج میں صرف ایک انڈا اور 5 جنازے
کراچی... احسن آباد کا ایک چھوٹا سا گھر۔
دروازہ ٹوٹا تو اندر قیامت کا منظر تھا ڈاکٹر عمر اس کی جوان بیوی اور 3 کمسن کلیاں. 5 لاشیں۔ پورا خاندان ختم۔
لیکن اس گھر کی تلاشی میں جو چیز ملی اس نے پورے پاکستان کو ننگا کر دیا۔
رپورٹ کہتی ہے گھر میں ایک روپیہ نہیں تھا ایک روٹی کا آٹا تک نہیں تھا فریج کھولا تو اندر صرف ایک انڈا رکھا تھا
بس ایک انڈا اور 5 انسانوں کی بھوک بیماری اور بے بسی کی پوری داستان
یہ کوئی عام گھر نہیں تھا یہ ایک ڈاکٹر کا گھر تھا وہ ڈاکٹر جو دوسروں کو زندگی دیتا تھا آج خود جگر کے کینسر سے لڑ رہا تھا۔ ایک ماہ پہلے نوکری سے نکال دیا گیا ایک طرف کینسر کی تکلیف دوسری طرف بے روزگاری تیسری طرف 3 چھوٹی بچیوں کی بھوک اور آخری تنخواہ ڈکیتوں نے چھین لی-
محلے والوں نے بتایا کہ چند دن پہلے اس کی بیوی نے شرم و حیا کو ایک طرف رکھ کر گھر کا اوون بیچنے کی کوشش کی ( دس ہزار کا اوون ) کوئی خریدار نہ ملا تو ایک پڑوسی نے ترس کھا کر 2 ہزار دے دیے سوچو وہ 2 ہزار کتنے دن چلے ہوں گے؟
میں پوچھتا ہوں وہ ماں اپنی بچیوں کو کیا دلاسہ دیتی ہوگی؟
بیٹا آج پانی پی کر سو جاؤ کل ابو دوا بھی لائیں گے اور کھانا بھی؟
وہ باپ اپنی بیٹیوں کی آنکھوں میں کیسے دیکھتا ہوگا جب فریج میں صرف ایک انڈا ہو اور 3 بچیاں ہوں؟
یہاں کینسر نے نہیں مارا یہاں غربت نے مارا ہے یہاں حالات وہ کینسر بن گئے تھے جس کا کوئی علاج نہیں تھا۔
کہاں ہے ریاست ؟ کہاں ہیں اربوں کے فنڈ؟ کہاں ہیں لنگر خانے اور احساس پروگرام کے دعوے؟
*ہمیں بڑے فخر سے حضرت عمرؓ کا واقعہ یاد آتا ہے کہ رات کو گشت کرتے ہوئے ایک ماں کو دیکھا جو بھوکے بچوں کو بہلانے کے لیے ہانڈی میں پتھر ابال رہی تھی۔ عمرؓ نے آٹا اپنی پیٹھ پر لادا خادم نے کہا حضور میں اٹھا لیتا ہوں تو عمرؓ رو پڑے اور کہا کیا قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے*
*آج احسن آباد کے اس گھر میں بھی بچے بھوک سے بلک رہے تھ مگر کوئی عمرؓ نہیں آیا۔ ریاست سو رہی تھی حکمران سو رہے تھے ہم سب سو رہے تھے*
یہ 5 لاشیں نہیں یہ اس نظام کے منہ پر 5 تماچے ہیں یہ ایک انڈا گواہی دے گا کہ اس ملک میں غریب ہونا جرم بن گیا ہے؟؟
یہاں جتنی لڑکیاں ہیں وہ مریم نواز سے کم ٹیلنٹڈ نہیں ہیں۔۔لیکن وہ CM نہیں بن سکتیں کیونکہ وہ نواز شریف کی بیٹیاں نہیں۔۔اسی طرح تمام لڑکے بلاول بھٹو سے زیادہ ٹیلنٹڈ ہیں لیکن وہ زرداری کے بیٹے نہیں ہیں۔۔اس ملک میں مواقع صرف بڑے خاندان والوں کو ہی ملتے ہیں،
ارشاد بھٹی🔥
سختی سے کہہ رہا ہوں، عظمی بخاری صاحبہ کبھی بھی داؤد صاحب کو نہیں چھوڑیں گی۔ داؤد صاحب نے ان کی ریڈ لائن کراس کر دی ہے۔
کل ان کے کپڑے استری نہیں ہوئے تھے، مگر آج ان شاء اللہ وہ ہر صورت پریس کانفرنس کریں گی اور اپنی ریڈ لائن کراس ہونے کا بھرپور جواب دیں گی۔
آخر مریم نواز میڈم، چیف منسٹر کی توہین وہ کیسے برداشت کر سکتی ہیں
اہم خبر ، کیس کی پیروی کے لیے پشاور ہائی کورٹ پہنچنے سے اٹک پل پر رستہ بند کرکے کیوں روکا ؟ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ میاں شفقت جان نے پی ٹی آئی احتجاج کے باعث پشاور موٹروے بند کرنے کے اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ، میاں شفقت جان اپنی درخواست میں کہتے ہیں " 24 ستمبر کو پشاور میں میرا کیس مقرر تھا جس میں پیش ہونا تھا صبح 7 بجے مشکل سے اسلام آباد ٹال پلازہ سے موٹروے پر داخل ہوا ، ایم ون موٹروے اٹک پل کے قریب پہنچنے پر پتہ چلا وہ بند ہے میں نے وہاں موجود اتھارٹیز اور دیگر حکام سے تحریری آرڈر پتہ کیا تو کہیں سے تصدیق نا ہو سکی اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے فیصلے میں کہہ چکی رستوں کی بندش شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے "
اب وکیل نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ " بغیر کسی نوٹیفکیشن آرڈر وجوہات کے اس طرح رستوں کی بندش غیر قانونی قرار دی جائے پھر سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری مواصلات اور چیف کمشنر کو ایسے رستوں سے ایمرجنسی ٹریفک کھولنے کا حکم دیا جائے جن میں وکلا ، سائلین ، گواہوں ، بیماروں ، جنازوں اور دیگر ایمر جنسی سروسز کے لئے رستے کھولنے کا حکم دیا جائے "