سابق وزیراعظم عمران خان کے اڈیالہ جیل میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات:
"ہمارا احتجاج بالکل مؤخر یا معطل نہیں ہو گا۔
اگر مذاکرات میں ہمارے تین مطالبات کے حوالے سے بات ٹھوس انداز میں آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد میں ہمارا احتجاج celebrations میں بدل جائے گا۔ جمعے سے ہمارے قافلے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے نکلنا شروع ہو جائیں گے!
تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ہم نے احتجاج اور مذاکرات کے لیے اپنا تین نکاتی ایجنڈا دیا ہوا ہے۔ جب دوسری پارٹی اپنے نکات سامنے رکھے گی تو بات کریں گے۔ مذاکرات ان کے ساتھ ہوں گے جن کے پاس طاقت ہے۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ طاقت کس کے پاس ہے؟
فروری کے بعد میں نے دو کالز دی ہیں۔ چار اکتوبر کو صرف اپنی پارٹی کو نکلنے کی کال دی اور چوبیس نومبر کو پوری قوم کو نکلنے کی کال دی ہے۔ کیونکہ یہ پاکستان کی بقا اور حقیقی آزادی کی تحریک ہے-
ملک آئین کے تحت نہیں چلایا جا رہا۔ اگر ملک آئین کے مطابق چلتا تو ملک کی سب سے بڑی جماعت کو نشانہ نہ بنایا جاتا۔
تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ ہمارا نشان تک چھین لیا گیا اس کے باوجود ہم 8 فروری کو ہونے والا الیکشن دو تہائی اکثریت سے جیتے۔ الیکشن فراڈ کو ہوئے ہوئے دس مہینے گزر گئے ہیں اتنا عرصہ گرنے کے باوجود الیکشن ٹربیونلز نے اور خصوصاً پنجاب میں کتنے کیسیز کا فیصلہ کیا ہے؟
ہمارے ورکرز اور رہنماء ڈیڑھ سال سے جھوٹے مقدمات میں بغیر کسی ثبوت کے جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ انکی ضمانتیں کیوں نہیں لی جاتیں؟
کہا جاتا ہے کہ میں نے فوج پہ حملہ کرنے کی بات کی۔ میری ویڈیوز موجود ہیں میں نے کبھی کسی پہ حملہ کی ترغیب نہیں دی۔ جب نو مئی کو رینجرز کی طرف سے مجھے غیر قانونی طور پہ اغوا کیا گیا تو اس کے مناظر عوام کے سامنے آئے جس پہ ردعمل آیا۔ میں تو ان کی تحویل میں تھا، مجھے کیسے علم ہوتا کہ باہر کیا کیا ہوا؟
نہتی عورتیں، بچے فوج پہ کیسے حملہ آور ہو سکتے ہیں؟ کیا یاسمین راشد ٹینک پہ سوار تھیں جو انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کر دیا؟ ان کی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں مسلسل پرامن رہنے کی تلقین کر رہی ہیں-
صرف ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ Political Engagement ہونا لازم ہوتا ہے- ملک میں صرف تحریک انصاف ہی واحد وفاقی پارٹی ہے جو کہ دہشت گردی کے مسئلے سے سیاسی طور پہ نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ملک کو صرف عوامی مینڈیٹ رکھنے والی سیاسی قوتیں ہی اکٹھا رکھ سکتی ہیں۔"
قیام پاکستان میں پختونوں کا اہم کردار تھا
آزاد کشمیر کو آزاد کروانے میں بھی انکا اہم کردار تھا
اب عمران خان کی "حقیقی آزادی" کی جدوجہد میں بھی پختون ہی اہم کردار ادا کر رہے ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سمجھ سے باہر ہے کہ لاکھوں لوگوں کے شکریہ کا حق کیسے ادا ہو. آپ سب کی دعاؤں اور محبتوں کا بہت شکریہ. میں اپنے والدین، بھائیوں علی شیر کھوسہ اور ڈاکٹر حسن علی کھوسہ، تمام فینز، پوری پی-ٹی-آئی، صحافیوں خصوصاً عمران ریاض خان، حامد میر، ہارون رشید، طارق متین،
خود ہی دیکھ لیں گوادر جانے والوں کو کون روک رہا ہے اور کیسے روک رہا ہے؟ پھر کہتے ہیں ہم نے تو کچھ نہیں کیا وہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کو گولیاں مارتے ہیں
گھٹیا ترین،، غلیظ ترین،،شرمناک ترین حرکت۔۔
سوشل میڈیا سے منسلک افراد کے اب خواتین کے مبینہ اغواء کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے،، تحریک انصاف ذرائع کے مطابق عروبہ کومل کو اغوا کرلیا گیا عروبہ کومل تحریک انصاف کا فیس بک پیج چلاتی تھیں
میرا اکاؤنٹ جعلی وزیراعلٰی کی طرف سے مسلسل رپورٹ کروایا جا رہا ہے..
اگر آپ چاہتے ہیں میرے ٹویٹ آپ تک پہنچتے رہیں، تو لائق، ریٹویٹ اور کمنٹس کرتے جائیں...