خود ترسی ایک بیماری ہے اسکا شکار افراد خود اصلاحی کیطرف مائل نہیں ہوتے انہیں دوسروں پر غصہ اور اپنے آپ پر ترس آتا ہے وہ اپنی زندگی میں جاری ناآسودگی کا ذمہ دار ہمیشہ دوسروں کو تصور کرتے ہیں اسی خودترسی کو قوم پرست راہنماؤں نے فروغ دیا ہے انہیں ووٹوں سے غرض ہے ناں کہ عوام کی اصلاح سے، اسکے برعکس وہ لوگ جو دوسروں کا مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنے اصلاح کیطرف مائل ہوتے ہیں وہ دن بدن بہتری کیطرف مائل ہوتے ہیں اور وہی لوگ ترقی کرتے ہیں
افغانستان میں روپوش مراد سعید 9 مئی کے واقعات کا ماسٹر مائنڈ ہے ۔
جس نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر اس گھناؤنے اور ناپاک منصوبے پر عملدرآمد کرایا ۔
مراد سعید کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور پاکستان کے قانون کے مطابق مقدمات چلائے جائیں گے ۔
اکثر مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ ہماری تبصروں میں دنیا کی سب برائیاں پاکستان میں اور سب اچھائیاں باقی ممالک میں بتائی جاتی ہیں کئی لوگ تو افغانستان کو پاکستان سے بہتر سمجھتے ہیں بھارت بارے خیال کیا جاتا ہے گویا ادھر دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں درحقیقت ایسا نہیں ہے ہم باقی ممالک بارے جانتے کم ہیں یا موازنہ درست نہیں کرتے، بھارت میں آج کل کیا ہو رہا ہے؟ اس بارے جاننے کیلئے وہاں کی خبروں پر نظر رکھیں،
کوئی بھی ملک آئیڈیل نہیں جن ممالک کی ہم مثالیں دیتے ہیں یا وہاں جا کر رہنا چاہتے ہیں وہاں بھی حالات اتنے اچھے نہیں، اکثر سمندر پار پاکستانیوں بالخصوص والدین سے بات ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کی تربیت اور وہاں انتہا پسند جماعتوں سے خوفزدہ ہیں وہ اپنے آپکو دائیں بازو (جو دیگر قومیتوں کے لوگوں کو نکالنا چاہتے ہیں) اور بائیں بازو (جو ہم جنس پرستی کو فروغ دے رہے ہیں) کے درمیان پھنسا ہوا محسوس کرتے ہیں، اس وجہ سے کئی والدین عرب ممالک منتقل ہونا چاہتے تھے اب وہ بھی محفوظ نہیں رہے، لہذا آپ جدھر بھی ہیں اس وجہ سے پریشان نہ ہوں کہ آپکے علاوہ باقی لوگ خوش ہیں یا بیرون ملک جانے والے بہت سکون میں ہیں، مسائل ہر جگہ پر ہیں محض انکی نوعیت میں فرق ہے اور مسئلہ کوئی بھی چھوٹا نہیں ہوتا چاہے سر میں درد ہی کیوں نہ ہو
خیبر پختونخوا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں فیصلہ سازوں کی طرف سے کل تک اہم فیصلے ہونے جارہے ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا کے حالات کو اس نہج تک پہنچا دیا گیا ہے کہ ریاست اور حکومت کے پاس اور کوئی آپشنز نہیں رہے ہیں ۔امن وامان کی صورتحال بدتر ہوچکی آئے روز پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کی جانیں جا رہی ہیں صوبے کا وزیر اعلی صرف ایک شخص کو ایشو بنا کر دھرنوں احتجاج اور لانگ مارچ پر نکلا ہوا ہے اس کے نزدیک عوام کے جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں حالانکہ ساڑھے تین سال میں اس فتنے نے جو کچھ ملک کے ساتھ کیا اس کا خمیازہ اج عوام بھگت رہے ہیں۔ صوبہ اس وقت دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی انتظامی مشینری کو ناکارہ کردیا گیا ہے اور حالات اس حد تک خراب ہوچکے ہیں کہ فیصلہ سازوں کے پاس اور کوئی چوائس نہیں بچی اور کل تک خیبر پختون خواہ کے حوالے سے اہم فیصلوں کا اعلان ہو جائے گا جس کی آئین اور قانون اجازت دیتا ہے۔۔۔
خیبر پختونخواہ میں سویلینز اور سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوتے ہیں ۔
لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ شہداء کے جنازوں میں نہیں شریک ہوتے ۔
زخمیوں کی عیادت کرنے نہیں جاتے ۔ اور یہ باقاعدہ ان کی روایت بن چکی ہے۔
دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں انہوں نے ہمیشہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس سے لاتعلقی اختیار کی ہے ۔
آج بھی ان کو صوبے کی عوام کی کوئی فکر لاحق نہیں ہے ۔
خیبر پختونخواہ اس سفاکانہ طرز حکمرانی کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا ۔
مارخور کی اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں ٹی ٹی پی کے مسلح عناصر شامل ہوچکے ہیں ۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا جاری مارچ آج رات کرک کے مقام پر پڑاؤ ڈالے گا، جہاں پسِ پردہ ایک انتہائی خطرناک منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
مارخور کے پاس مستند اطلاعات ہیں کہ لکی مروت، وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) سے مبینہ طور پر کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے انتہائی تربیت یافتہ اور مسلح کارندے اس مارچ میں شامل ہیں۔ اس گٹھ جوڑ کا مقصد مارچ کی آڑ میں ملک کے امن و امان کو شدید خطرے میں ڈالنا ہے۔
مارخور کی اطلاعات کے مطابق مارچ میں شامل ہونے والے یہ شرپسند عناصر کوہاٹ اور دیگر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر براہِ راست حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جبکہ ان کا اصل ہدف حساس سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانا اور ملک میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلانا ہے۔
خیبر پختونخواہ میں حالیہ دہشتگردی کا زمہ دار عمران خان ہے ۔
عمران خان نے ان خارجیوں سے مزاکرات کئے ۔ آج بھی پی ٹی آئی خوارج کی مذمت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔
عمران خان کی پالیسی کا ہی نتیجہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے ہزاروں خارجیوں کو خیبر پختونخواہ میں آباد کیا گیا ۔
سہیل آفریدی تم کہتے ہو کہ پالیسی عمران خان کی چلے گی ۔
کون سی پالیسی؟
وہ جس میں خارجیوں سے مذاکرات ہوئے؟
وہ جس میں ہتھیار ڈالنے والوں کیلئے معافی کی بات ہوئی؟
یا وہ جس میں ہزاروں خارجیوں اور ان کے خاندانوں کی واپسی ہوئی ؟
یکم اکتوبر 2021 کو وزیراعظم عمران خان کا دیا گیا بیان آن ریکارڈ ہے کہ ان کی حکومت خارجی گروہوں سے مزاکرات کررہی ہے ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے ساتھ کیا ہوگا تو ان کا جواب تھا کہ انہیں معاف کرکے عام شہری بننے دیا جاسکتا ہے۔
وہی معافی اس وقت خیبر پختونخواہ کے عوام بھگت رہے ہیں ۔
حکومت ختم ہونے کے بعد بھی عمران خان منصوبے کا دفاع کرتا رہا ۔
پی ٹی آئی حکومت ان خارجیوں کی سرپرستی کرتی آئی ہے ۔ اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں ۔
لانگ مارچ کا آغاز پرانی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کےساتھ ہوا چاہتا ہے اگر کسی کو تھوڑا سا بھی عزت کا خیال ہے تو اپلوڈ کرنے سے پہلے گروک سے ہی پوچھ لیا کریں کہ آج کی ویڈیو ہے یا پرانی
@AhsanJadooncxz غریب کا پیٹ کاٹ کر جب اتنی بڑی رقمیں جہاز کی خریداری پر لگی ہوں تو اس جہاز کو اب ایک جگہ پارک تو نہیں ناں کرنا میڈم وزیراعلی صاحبہ آپ چھوڑیں اس بُھوکی ننگی قوم کو آپ بس اس جہاز پر پوری دُنیا کا چکر لگائیں
دفعہ ماریں تنقید کرنے والوں کو
@Asadrchaudhry پُرانا جہاز ہی میڈم وزیراعلی کیلئے کافی تھا اُس میں بھی سفر کر کے اچھے کام سر انجام دئیے جا سکتے تھے آئی ایم ایف بھی آخر کار بول پڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی حکومت غریبوں پر سارا بوجھ ڈالنے کی بجائے اپنے خرچے کم کرے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے عالمی سطح پر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ انڈین میڈیا پاک فوج کے جس ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو دہشت گرد بتا رہا تھا اور جن کی مقبوضہ کشمیر میں شہادت کا بار بار جھوٹا دعویٰ کیا گیا، وہ آج پریس کانفرنس میں زندہ سلامت سب کے سامنے آگئے۔
@CSMR786 شکل مومناں کرتُوت کافراں
کیسے کیسے غلیظ گندگی کے ڈھیر سرعام دندناتے مُنہ پر داڑھی رکھے گُھوم رہے ہیں یہ کوئی پاگل کتے کابچہ ہے قانون کو اسے پٹہ ڈال کر عبرت کا نشان بنانا چاہیے
@mustafataqvi40 اسطرح کی اگر کوئی نشان دہی کرے اور آواز اُٹھائے تو اُس پر سیدھا سیدھا الزام لگا دیا جاتا ہے کہ یہ کسی ذاتی ایجینڈے پر عمل پیرا ہے بندہ ان چاپلوسُوں پیرا شُوٹروں سے پُوچھے کہ کب ہم نے پارٹی سے کوئی نوکری کی درخواست کی التجا کی؟پارٹی اقتدارکے دنوں میں ورکرز کوپہچانتی کب ہے
@Asadrchaudhry@INSTANewsTv7 ہمارا تو کوئی ذاتی ایجینڈا نہیں نہ ہی ہمیں کوئی اپنی ذات کیلئے نوکری درکار ہے ہماری شکایت صرف اتنی ہے کہ کیا وجہ ہے جو بندہ ہماری قیادت کے خلاف لمبی لمبی زبان نکال کرپھکڑ دیتا رہا ہو چاہے پاکستان کے کسی شہر یا حلقہ سے ہو اور آپ جب اقتدار میں آئیں تو اُسی کو کارکنوں پر ترجیع دیں ؟
جناب مطیع اللّٰہ صاحب ! کسی بھی قیدی کی ملاقات پر پابندی نہیں ھونی چاھئیے ، جیل مینول پر عملدرآمد کیا جانا چاھئیے ، ایک سیاسی راھنما کو اپنے ساتھیوں سے ملتے رھنا چاھئیے بھلے وہ جیل میں ھو ،
خواجہ سعد رفیق جو کچھ لکھتے یاکہتے ھیں ھیں وہ محض اس وال پر نہیں کہا جاتا بلکہ جماعت اور حکومت کے اعلٰی حلقوں کے سامنے بار بار کہا جاتا ھے ، کوئ سُنے سمجھے نہ سمجھے اسکی مرضی ۔۔ وہ آواز بلند کر سکتے ھیں سو نتائج یا کسی منفعت کی پروا کے بغیر ھمیشہ اے صدا لگاتے رھتے ھیں
رہ گىئ بات (تھوڑی سی ھمت ) کی !
تو اصولوں اور جمہوری رویوں کی بالادستی کیلئے بارھا اقتدار ٹھکرانے ، بار بار جیلیں بھگتنے ، ماریں کھانے اور جانیں دینے والوں کو آپکا یہ طعنہ دینا نہیں بنتا ، الحمد للّٰہ ابھی تک تو کوئ ایسا پیدا نہیں ھوا جو سعد رفیق کو اپنی مرضی سے چلا سکے یا رکھ سکے
طنز ، دشنام اور الزام کے نشتر چلانا اور اپنے تئیں خبط ِ عظمت میں مبتلا ھو کر حقائق کے منافی باتیں کرنا بطور sadist آپکی فطرت ھے ۔آپ زیر بحث رھنے اور توجہ حاصل کرنے کیلئے ایسی حرکتیں عموماً کرتے رھتے ھیں سو آپ اسی کام پہ لگے رھیں ، ھم نے جو کہنا تھا کہ دیا ۔۔شاباش ۔۔۔ Admin
@kabeerraja786 راجہ کبیر صاحب کو ٹارگٹ نہ کریں ذرا ادھر بھی اپنی اداؤں پر غور فرمائیں
یہ مسلم لیگ ن کی خدمت نہیں اس کی آنکھوں میں دھول جھونک پر ذاتی نمبر بنائے جا رہے ہیں ہم کوونٹری کے ورکرز نہیں جانتے یہ لوگ آپ کہاں سے اُٹھا کر لے آئے ہیں
@SyedKousarKazmi@MaryamNSharif@NawazSharifMNS@CMShehbaz@Marriyum_A@alimdar82 مسلم لیگ ن کی بد بختی یہ ہے کہ جسے بھی کوئی عُہدہ دیتے ہیں وہی بندہ غلطی سے روکنے کی بجائے اُسے ڈیفنڈ کرنا شروع کر دیتا ہے اور قیادت کو دُرست مشورہ دینے کی بجائے اُن کی غلطیوں پر بھی واہ واہ شروع کر دیتا ہے
وہ اس لئے کہ کہیں حُکمران ناراض ہو کر مجھے نہ چلتا کر دیں