ایک انصاری صحابی سے روایت ہے کی میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز کے آخر میں یہ دعا ١٠٠ بار پڑھتے ہوئے سنا ہے
*اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ*
اے اللہ مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر ،یقیناً تو ہی توبہ قبول کرنے والا بخشنے والا ہے
👇
ح��رت ابوموسی رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللّٰهﷺ نے فرمایا:۔
۔’’جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے وہ زندہ کی طرح ہے اور وہ شخص جو ذکر نہیں کرتا مُردہ کی طرح ہے‘‘۔ متفق علیہ
اَو٘کَمَاقَالَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ
(مشکوٰة شریف: ۲۲۶۳)
اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑدے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۱۶۰﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں
آپ ﷺ نے فرم��یا جانتے ہو چغلی کیا ہے؟ صحابہ نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا کسی شخص کی بات دوسرے کے سامنے اس طرح بیان کرنا کہ ان کے درمیان فساد برپا کر دے
(السلسلۃ : 5)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں اسے لکھا، اس نے اپنی ذات کے متعلق بھی لکھا اور یہ اب بھی عرش پر لکھا ہوا موجود ہے «إن رحمتي تغلب غضبي» کہ ”میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“
(صحیح بخاری، ٧٤٠٤)
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُ��ا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾
اور اے ہمارے پروردگار!ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالئے جسے اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو۔ اور ہماری خطاؤں سے درگذر فرمائیے، ہمیں بخش دیجئے، اور ہم پر رحم فرمائیے۔ آپ ہی ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس لئے کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں نصرت عطا فرمائیے۔‘‘
﴿سورۃ البقرۃ، ۲۸۶﴾
وہ دن یاد رکھو جس دن کسی بھی شخص نے نیکی کا جو کام کیا ہوگااسے اپنے سامنے موجود پائے گا،اور بُرائی کا جو کام کیاہوگا اس کو بھی (اپنے سامنےدیکھ کر) یہ تمنا کرے گاکہ کاش اس کےاور اس کی بدی کے درمیان بہت دُور کا فاصلہ ہوتا! اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب)سےبچاتاہے،
﴿سورۃ آل عمران، ۳۰﴾