اس سے خوبصورت کوئی ٹویٹ نہیں
ﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺﷴﷺ
کیا عاصم منیر الوداع ہورہا ہے؟
سوتروں کے انوسار اس وقت دو thesis مارکیٹ میں گردش کررہے ہیں۔
عاصم منیر کو فوج کے اندر سے سخت مشکلات کا سامنا ہے
فوج اس قدر کمزور ہوچکی ہے کہ ان کا کنٹرول ختم ہوچکا ہے
ادارہ ہذا دونوں thesis کا مفصل جائزہ لے گا انکے antithesis بنائے گا اور پھر synthesis تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔
پہلا مفروضہ یہ ہے کہ فوج کے اندر گروپنگ موجود ہے۔ یعنی یہ کیسے ممکن ہے کہ چند ماہ پہلے تک فوج میں واضح تفریق تھی وہ یکایک ختم ہوگئی اور عاصم منیر جیسا شخص جو انتہائی کمزور ہوچکا ہے اسکے نیچے کوئی گروہ بندی موجود نہیں۔ سال ڈیڑھ ادھر ایک طرف فیض حمید تھا تو دوسری طرف عاصم منیر۔ فیض حمید کو شکست ہوئی اور عاصم منیر آرمی چیف بنا۔ فیض حمید اور اظہر عباس نے مدت ملازمت سے پہلے ہی استعفے دے دیے کہ وہ عاصم منیر کے نیچے کام نہیں کرنا چاہتے تھے۔
اب شاید فوج کے اندر نئی صف بندی ہوچکی ہے۔ عاصم منیر کا زیادہ وقت گزر چکا تھوڑا باقی ہے۔ عاصم منیر ایکسٹینشن لینے کی کوشش کرے گا اور دوسرا گروپ اسکی ایکسٹینشن روکنے کی کوشش کرے گا۔ کوئی دو چار چھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ کی صورت میں آرمی چیف بن سکتے ہیں۔ وہ لوگ کیوں اپنی بھرپور کوشش نہیں کریں گے؟ بالکل ویسے ہی جیسے عاصم منیر نے خفیہ ملاقاتوں کی بدولت اور مبینہ طور پر مریم نواز کو ججز کی گندی ویڈیوز مہیا کرکے اپنی ڈیل بنائی تھی ویسے ہی کچھ جرنیل یہی واردات دوہرا رہے ہوں گے۔
کیا یہی وجہ ہے کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود عاصم منیر کی گرفت ڈھیلی پڑرہی ہے۔ تنقید کا طوفان رک نہیں پارہا۔ پاوں لگ نہیں رہے کہ فوج کے اندر سے کچھ لوگ عاصم منیر کے احکامات پر عمل در آمد نہیں کررہے۔ ورنہ حنیف عباسی کی کیا جرات کہ وہ محسن نقوی سے مطالبہ کرے کہ وہ ایک عہدہ چھوڑ دے ایک رکھ لے۔ ایسے تمام عناصر کو ممکنہ طور پر عاصم منیر مخالف گروپ کی خاموش پشت پناہی ہوسکتی ہے۔
دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ فوج یکجا ہے لیکن از کے باوجود اب انتظامیہ اور ججز سر اٹھا رہے ہیں۔ عوام کی absolute اکثریت اس وقت عمران خان کے ساتھ ہے۔ اسی کے اثرات عدالتوں میں ، میڈیا پر اور سوشل میڈیا پر دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جن ٹی وی چینلز پر عمران خان کا نام لینا منع تھا وہاں لوگ اپنے اغواء اور تشدد کی کہانیاں سنا رہے ہیں ۔جس سوشل میڈیا کے دس فالورز والے اکاونٹ والے بھی فوج کے خلاف ٹویٹ کرنے پر اٹھائے جاتے تھے اسی سوشل میڈیا پر نو مئی کے بعد مشکلات کا شکار رہنے والے انٹرویوز دے رہے ہیں۔ ضلعی سطح کے ججز اور انکے اسسٹنٹ تک سرعام خط لکھ لکھ کر دہائیاں دے رہے ہیں۔
یعنی ایک چیز تو طے شد ہے کہ فوج شاید نو اپریل 2022 سے لیکر آج کے دن تک اس وقت سب سے کمزور حالت میں ہے۔ فوج سزائیں دینا چاہتی ہے۔ عدالتیں بری کررہی ہیں۔ فوج نے محض ایک ویڈیو ڈیلیٹ کروانی تھی جو نہ کروائی جاسکی۔ فوج اپنے اوپر تنقید بند کروانا چاہتی ہے لیکن یہ سیلاب ہے کہ رکتا ہی نہیں ۔اسکی وجہ یقیننا ان دونوں میں سے کوئی ایک ہوسکتی ہے کہ
عاصم منیر کو فوج کے اندر سے سخت مشکلات کا سامنا ہے
فوج اس قدر کمزور ہوچکی ہے کہ ان کا کنٹرول ختم ہوچکا ہے
ادارہ ہذا synthesis نہیں بنائے گا۔ ادارہ ہذا synthesis آپ پر چھوڑتا ہے کہ آپ کیا سمجھتے ہیں۔ آپ کو کیا دکھائی دیتا ہے۔ کیا آپ کو ان دو وجوہات کے علاوہ کوئی تیسری وجہ نظر آتی ہے؟
نوٹ ؛ پہلی صورت باشعور پاکستانیوں کو قبول نہ ہے ۔ یہ حقیقی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے کہ فوج کا ایک گروہ عاصم منیر کو گرائے اور دوسرا عمران خان کے اقتدار میں آنے کا رستہ ہموار کرے۔ دوسری صورت عین جمہوریت ہے کہ پاکستانی عوام ، ججز ، صحافیوں ، سیاستدانوں کی مزاحمت کی بدولت فوج کمزور ہوجائے اور پھر یہ عوام سے ایک نیا عمرانی معاہدہ لیں۔ واپس بیرکوں میں چلے جائیں اور کار سیاست و کار سرکار میں مداخلت بند کردیں۔
نا تو تحریک انصاف کی قیادت کو کوئی شرم ہے نا حیا
اور نا ہی عوام کی غیرت جاگ رہی ہے
خان صاحب ہمارے لئے کتنی اذیت برداشت کر رہے ہیں وہ جس نے شہزادوں جیسی زندگی گزاری ہے 💔
ابھی خان باہر نہیں ا سکتا ۔جب انے والا ہو گا بتا دیا جائے گا ،مراد سعید فٹ ہے ٹھیک ہے ۔
کمپنی کے بڑے یعنی عالمی غنڈے اس تلاش میں ہے قاضی اور مسٹر منیر سے بڑا نوکر میسر ا جائے ،اگر فوج کو حافظ سے بڑا نیچےلگ کر کام کرنے والا مل گیا تو حافظ کی ایکٹینشن نہیں ہو گی ،اگر نہ ملا تو ایکٹینشن ہو جائے گی ،اسی طرح قاضی سے بڑا گھٹیا نہ مل سکا تو اس کی بھی ایکٹینشن ہو جائے گی ابھی تک دونوں کی ایکٹیشن نظر نہیں ا رہی ۔
پی پی اور ن لیگ فوج کے کہنے پر ہی لڑائی لڑائی کرتے ہیں وقت پر مطالبات منوانا کا فوج کا پچاس سالہ تجربہ ہے
پی ٹی آئی ساری قیادت ڈری ہوئی اور زیادہ کمپرومائز ہو چکی ہے جس کی تفصیلات اگلے ٹوئٹ میںُ
چھ ماہ سے لوگ سوال کر رہے تھے عادل راجہ کا بتائیں کمپنی بھی چاہتی ہے عادل کے خلاف لکھا جائے تو سچ حق ہے وہی لکھا جا رہا ہے ۔ بہت سے لوگوں نے انباکس میں کہا کیا عادل راجہ ملک دشمن غدار ہے؟
✍️تو اس کا جواب ہے عادل راجہ ہماری نظروں میں غدار نہیں ہے نہیں ہے ۔اس کو زبردستی غدار بنایا جا رہا ہے ،غداری ہوتی کیا ہے ؟کیا اس نے آئین توڑا ہے ؟ نہیں ۔کیا اس نے راز بیچے ہیں ؟نہیں ۔کیا اس نے اہم شخصیت کا قتل کیا ہے ؟نہیں ۔کیا اس نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا ہے ؟نہیں ۔کیا اس نے پاکستان مخالف بیان دیا ہے ؟نہیں ۔کیا اس نے ملک توڑنے کا بیان دیا ہے ؟کیا وہ انڈیا کے ساتھ مل کر نقصان پہنچا رہا ہے ؟نہیں ۔کیا اس نے پاکستان کا پیسہ لوٹ کر باہر کے ممالک میں جائدادیں بنائی ہے ؟نہیں
پھر وہ غدار کیسے ہے ؟
اگر اس کے چند غدار جرنیلوں کے خلاف بیان دیے ہیں تو اس طرح تو لاکھوں عوام فوج کے خلاف بیان دے رہی ہے تو کیا ساری عوام غدار ہے ؟ نہیں ۔
غداری کیا ہے ۔باجوہ کی طرح آئین توڑ کر حکومت پر قبضہ کرنا غداری ہے ۔
باجوہ کی طرح دوسری اقوم کے لیے کام کرنا غداری ہے ۔
باجوہ اور کمپنی کی طرح رجیم چینج پر عمل کرانا غداری ہے ۔مسٹر منیر کی طرح دوسری طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے اپنی عوام پر گولیاں چلانا غداری ہے ۔
مسٹر منیر کی طرح ایک لیڈر پر جھوٹے کیس بنا کر جیل رکھنا غداری ہے ۔
پاکستان کی معیشت تباہ کر غداری ہے ۔لوگوں پر جھوٹے کیس کرنا غداری ہے ۔پردے پیچھے انڈیا ،اسرائیل ،یوکرائن کی مدد کرنا کھلی غداری ہے ۔پردے پیچھے اسرائیل میں تجارت کرنا ڈاکڑ کمانا غداری ہے ۔
پریس کانفرنس میں فوج کی طرف سے کوئی عوامی سوال کا جواب نہ دینا غداری ہے ۔
اپنی عوام کو غربت ،معاشی تباہی ،بے روزگاری کی دلدل میں دھکیل کر خود آرام کی زندگی بسر کرنا غداری ہے ۔دوسرے ملکوں کے لیے کام کر کے نیشلٹی لینا غداری ہے ۔
سوال یہ ہے جب عادل پاکستان میں تھا ،اگر وہ کرپٹ تھا تو آج تک اس پر اس کی موجودگی میں کیس کیوں نہیں بنے ؟جب وہ جان بچا کر نکل گیا اب وہ غدار بھی ہے ،باغی بھی ہے ،مجرم بھی ہے اشتہاری بھی ہے جو چاہو اپنی پسند کا ٹائٹل دے دو لیکن وہ غدار نہیں ہے ۔کمپنی کے بندے اور پیسوں پر بکنے والے جتنے چاہیے احتجاج کرا لو پاکستان میں فارغ لوگ ہر قسم کا احتجاج کرنے کے لیے اپنا ریٹ لگواتے ہیں ،اس کے بعد کبھی مت پوچھے گا عادل غدار نہیں ہے
کمپنی عادل کے مطلق کیا سوچ رہی ہے اگلے ٹوئٹ میں
دوبئی میں جن عہداروں نے کمپنی اور دوبئی کے آقاؤں سے ملاقات کی اس میں الٹا دوبئی اور پاکستان کے لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیوُنکہ روس نے وہی ثبوت چین کو دے دیے ہیں جن کو دوبئی اور پاکستان کے حکام نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا چین نے شہاز اور منیر کو بلا کر وہ بے عزتی کی ہے جو صدیوں کمپنی کو یاد رہے گی ،اچھے معیاری برینڈ کپڑے پہن کر بھی بے عزتی چھپائی نہ گی ،روس نے یوکرائن کی لڑائی میں ایسے لوگ پکڑے گے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے ہے ،تفتیش کے بعد پتہ چلا پاکستان دوبئی کی رضامندی اور طالبان کی فرضی مخالفت کے باوجود لوگ روس کے خلاف یوکرائن لڑنے بھیجے گے ،دنیا کو دیکھایا جا رہا ہے طالبان پاکستان کی فوج کے خلاف ہے ایسا کچھ نہیں ہے ۔روس نے جہاز بھر کر چین کے حوالے کیے ہیں ،جلد پاکستان کے فضل الرحمن اس ڈیل میں پوری طرح شامل پایا گیا ۔پوری اسلامی دنیا روس کے اس اقدامات سے اپنی عوام کی نظروں میں بدنامی کے ڈر سے میڈیا خاموش کرا دیا گیا ،لیکن وقت انے پر روس ضرور اس چیز کو میڈیا پر لائے گا ،اس وقت کمپنی اور پاکستان کی حکومت کہآں کھڑے ہوں گے ؟ کیونکہ پوری اسلامی دنیا امریکہ کی مدد سے پردے کے پیچھے یوکرائن اور اسرائیل کی مدد میں لگے ہوئے ہیں اور اسلامی دنیا کی عوام کو ڈرا دھمکا کر خاموش کیا جا رہا ہے
خان نہ پہلے مانا تھا نہ اب مانے گا ،شاہ محمود یا پرویز الٰہیptiنہیں ہے صرف خان ہی پی ٹی آئی ہے ،کسی قسم کی کوشش نہ پہلے کامیاب ہوئی تھی نہ آئندہ ہونے دیں گے ۔نہ عوام قبول کرے گی ،خان کی رہائی جلد سے جلد ممکن بنائی جائے 🥷🏼👁️
نامعلوم مسلح افراد گھر سے پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر مشوانی کو اغواء کر کہ لیجاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔۔
رہنما تحریک انصاف کے بھائیوں کے اغواء کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔۔۔
سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس 24 ، 25 جون کو سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 13 رکنی لارجر بنچ صبح 9:30 منٹ پر سماعت کرےگا۔
_*🚨عمران خان صاحب آج بڑے خوشگوار اور بہت اچھے موڈ میں تھے*_🥰💚
_*خان صاحب آج کافی دیر تک مُسکراتے بھی رہے ہیں خان صاحب نے آج قیدیوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق کی ہے*_🫣
_*جیل حکام کا بیان*_