یہ بچہ کسی اور ملک کا رہائشی نہیں تھا ۔۔۔اس کے پاس کسی بڑے ملک کی شہریت نہیں تھی ۔۔۔۔لیکن اس کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی اسٹریلیا سے ائی ہوئی بچی ہانیہ کی ۔۔۔ لیکن ہم پاکستانیوں کی جان و مال کو بہت ارزاں سمجھ لیا گیا ہے 💔
اسلام آباد (عاطف شیرازی) پیٹرول کی قیمت میں حالیہ ردوبدل کے باوجود صارفین عوام پربھاری لیویز، مارجنز اور دیگر چارجز کا بوجھ برقرار، فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 151 روپے 88 پیسے مختلف لیویز، ٹیکسز، ایڈجسٹمنٹس اور مارجنز کی مد میں وصولی جاری ہے۔
"ہماری کیمرہ گردی " (وہ ناسور جو ہمیں کپڑوں میں بھی بے لباس اور کمروں میں بھی بے حجاب کررہا ہے )
پچھلے دس دنوں میں پاکستان میں یہ تین مختلف واقعات ہویے -
- میاں چنوں میں ہسپتال کی ایمرجنسی میں جب ایک ڈاکٹر ایک نیم بیہوش لڑکی کو "سٹرنل رب " (Sternal rub) کر رہا تھا جو کہ ایسے کیسیز میں ایک سٹینڈرڈ پروسیجر ہے تو اس کی لواحقین نے وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالدی اور پورا معاشرہ ایم بی بی ایس نہ ہوتے ہویے بھی ڈاکٹر بن گیا اور اس کو کیپشن کیا "لڑکی کے ساتھ ڈاکٹر کی نازیبا حرکات " - اس ڈاکٹر پر پرچہ ہوا اور اس کا کیرئیر داؤ پر لگ گیا -
- دوسرا واقعہ کراچی میں ہوا جہاں ایک چپل فروش چونسٹھ سال کے بابا جی نے اپنی بیگم کا قتل کردیا - وڈیو بنی جس میں بابا جی پولیس کو گھر لے کر جاتے ہیں اور خون میں لت پت اپنی بیوی کی لاش دکھاتے ہیں اور پھر وڈیو میں وجہ بتاتے ہیں کہ اس نے سیکس سے انکار پر بیوی ماردی - یہ وڈیو بھی وائرل ہوتی ہے اور بابا جی مشھور ہوجاتے ہیں - اتنے کہ یو ٹیوبر جیل میں جا جا کر بابا جی کے انٹرویو کر رہے ہوتے ہیں - معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے - معاشرے کا ایک حصہ فورا سے عالم اور مفتی بن جاتا ہے اور دوسری تیسری شادی کی حکمت پر تبصرے شروع ہوجاتے ہیں اور دوسرا حصہ جگتی اور بھانڈ بن جاتا ہے اور "لینے دینے " لے الفاظ پر گندے لطیفے سنانا اپنا حق سمجھتا ہے - کیا کہا ڈومسٹک واؤلینس " پر بات ؟ اس پر بات وہ کرتا ہے جو کوئی معاشرہ ہوتا ہے ' لوگوں کا بےہنگم ہجوم اس پر کیا بات کرتا -
- تیسرا واقعہ کوئٹہ کا ہے جہاں ہسپتال کی لفٹ میں ڈاکٹر ماہنور نامی ایک ڈاکٹر کے چہرے پر ایک آدمی تیزاب پھینک کر بھاگ جاتا ہے - اس کی بھی وڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں وہ ڈاکٹر لڑکی اپنا تیزاب سے جھلسا چہرہ تھامے تڑپتی چیخیں مارتی نظر آتی ہے - معاشرہ یہاں بھی فورا جج اور یو ٹیوبر بن جاتا ہے اور اس تیزاب گرد کو موت کی سزا سنا کر وہ وڈیوز شیئر کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو اگر میرے لئے اتنی تکلیف دے تھی تو اس لڑکی کے گھر والوں کیلئے کیا قہر ڈھاتی ہوگی -
یہ تین واقعات بظاہر الگ الگ نوعیت کے ہیں لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے " ہماری کیمرہ گردی" ---- وہ رجحان جس کے تحت وائرل ہونے والی وڈیو بنائی گئی اور لگائی گئی ' وائرل ہوئی اور اس پر تبصرے اور پروگرام ہویے - لیکن میں نے ایک بھی تحریر اس وڈیو گردی کے خلاف نہی دیکھی جو نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ کسی کے دکھ پر پیسے بنانے کا گھٹیا دھندہ بھی ہے -
چلیں اب ان تینوں واقعات کی وڈیو کی الگ الگ ڈائسیکشن کرتے ہیں :
کیا پہلے کیس میں وڈیو بننا چاہیےتھی ؟ ہر گز نہی - ہسپتالوں کی ایمر جنسی جہاں مریض ہوتے ہیں وہاں لواحقین کا کسی ڈاکٹر کی ایک پروفیشنل مینوور جس کو "سٹرنل رب " کہتے ہیں ' کرتے ہویے وڈیو بنا کر لگانا ایک جرم تھا جس میں وہاں موجود مریضوں کی پرائیویسی بھی بریچ ہوئی اور اس وڈیو کو دیکھ کر میڈیکل کی دنیا سے انجان لوگوں نے ایک ڈاکٹر پر گھٹیا الزام بھی لگایا جو نہ ہوتا اگر وہاں وڈیو نہ بنتی - اس وڈیو کے بعد اس ڈاکٹر اور اس کے خاندان پر کیا گزری ہوگی ' اس کا اندازہ لگانا اس معاشرے کیلئے بہت مشکل ہے -
دوسرے کیس میں پولیس نے وڈیو بنائی - ایک خون میں لت پت لاش کی اور ایک مجرم کے اقبال جرم کی - ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ وڈیو کرائم ڈیپارٹمنٹ تک محدود رہتی لیکن یہاں بھی پولیس نے اس کو لیک کیا اور اس وڈیو میں موجود چٹخارے دار الفاظ نے اس معاشرے کے اندر سویے ہویے بھانڈ کو انگڑائی لینے پر مجبور کیا - اس وڈیو گردی کے بعد اس خاندان کے باقی افراد جن کی ماں یا بہن قتل ہوئی ہوگی ان پر کیا بیتی ہوگی ؛ اس کی اس پولیس اور اس جگتی معاشرے کو ٹھینگے کی بھی پرواہ نہی کیوں کہ یہ عورت عاصمہ بیگم نہ ان کی ماں تھی نہ ان کی بہن یا بیٹی- ایک مجرم جس نے قتل جیسا جرم کیا اس کیلئے بھی اگر ہلکی سی بھی ہمدردی کے جذبات جاگے وٹو بھی اس وڈیو گردی کے ناسور کا نتیجہ تھا جو ہرگز نہی جاگتے اگر یہ وڈیو یوں وائرل نہ کی جاتی -
تیسرے واقعہ میں بھی وڈیو ہسپتال میں موجود لفٹ کے سی سی کیمروں میں بنی - ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ وڈیو بس ہسپتال کے ایم ایس یا ڈی ایم ایس اور تفتیشی عملے کے پاس رہتی یا پولیس کو دکھائی جاتی تاکہ مجرم کا تعاقب کیا جاسکے پر یہاں بھی کسی ایم ایس ' کسی ٹیکنیکل سٹاف کسی کلرک بادشاہ نے وہ وڈیو ویوز کے چکر میں لیک کردی - لوگوں کو ویوز کی کرنسی مل گئی اور معاشرے کو ایک تڑپتی چیختی لڑکی اپنا جھلسا چہرہ تھامے زمین پر لوٹتی پوٹتی نظر آگئی - کسی نے ہمدردی کی کسی نے غصہ کیا پر کیا اس وڈیو کے یوں وائرل کرنے سے کیس میں کوئی فرق پڑا؟
بس یہی میرا سوال ہے - اس نظام سے ؛ یہاں کے قانون نافذ کرنے والوں سے اور اس معاشرے سے کہ
اس وڈیو گردی کے خلاف کب کوئی تحریک چلے گی -
کب کوئی تحریر لکھی جائیگی -
کب کوئی نظم پڑھی جائیگی -
کب کوئی مقدمہ ہوگا کوئی قانون بنے گا -
کوئی تو اس مسلے کو مسلہ سمجھے -
کوئی تو اس موبائل فون کے کیمرے کو وہ کلاشنکوف وہ پسٹل سمجھے جس کی گولیوں سے نہ کوئی پروفیشنل ڈاکٹر محفوظ ہے ' نہ کوئی مقتولہ عورت محفوظ ہے اور نہ کسی مریض کی پرائویسی محفوظ ہے -
کوئی تو ان پولیس والوں کو ایس او پی سکھاے کہ وڈیوز کو سکرین کرنا ہوتا ہے ' وائرل نہی -
کوئی تو اس معاشرے کو یہ تمیز سکھاۓ کہ ایسی وڈیوز کو بار بار شیئر کرکے جگتی ' بغیر ڈگری کا ڈاکٹر اور بغیر علم کے عالم نہی بننا ہوتا بلکہ کسی کی ماں ' بہن بیٹی کا پردہ رکھنا ہوتا ہے -
کوئی تو اس غلیظ بزنس کی روک تھام پر بات کرے جس میں کرنسی ویوز ہیں ' مصنوعات انسان کی عزت اور تکریم ہے اور کاروباری مال انسانی خون اور کسی مریض کا مرض ہے -
مجھے اس معاشرے سے بس یہ جاننا ہے کہ اگر یہ عاصمہ بیگم ان کی ماں ہوتی ' ڈاکٹر ماہنور ان کی بیٹی ہوتی تو کیا تب بھی وہ اپنی وال سے ان کی وڈیوز یوں وائرل کرتے ؟
خدا را ! اس وڈیو گردی کو بند کریں - زندگی کسی ٹک ٹاک کسی فیس بک کسی یو ٹیوب سے زیادہ سنجیدہ اور اہم ہے - اس کو اپنے کیمرے کی گولیوں سے یوں چھلنی نہ کریں کہ وہ دم گھٹ کر مر جائے - ادارے ان باتوں پر توجہ دیں کہ ان کے ڈیپارٹمنٹس میں سے کس طرح ویڈیوز لیک ہو رہی ہیں اور ایسا کرنے والوں کو جاب سے برخواست کریں - اپنے پولیس والوں اور سرکاری ہسپتال کے عملوں کو پروفیشنلزم سکھائیں تاکہ وہ جرم کی تشہیر' مقتول کی تضحیک اور مریض کے مرض کی اشاعت کرنے کی بجاے مجرم کی حوصلہ شکنی ' مقتول اور لواحقین کی دلجوئی اور مریض کی مرہم پٹی کرتے نظر آئیں -
یاد رکھیں کہ اگر آج ہم نے وڈیو گردی کے اس ناسور کو نہ روکا تو کل یہ معاشرہ اس قدر اس کی زد میں آجائیگا کہ ہر کوئی لباس زیب تن کیے ہویے بھی خود کو عریاں اور کپڑوں میں لپٹا ہوا بھی خود کو ننگا محسوس کریگا -
کیوں کہ
"چراغ سب کے بجھیں گے ' یہ ہوا کسی کی نہی "
قلم کی جسارت وقاص نواز
آئینی ترمیم کے لئے PP کو GB میں حکومت دینے کی کوشش کی جائے گی
عوام ن لیگ کے ہارنے پر خوش نہ ہو یہ پہلے سے پتا تھا کہ ن لیگ کا ووٹ بینک زیرو ہے
بس اپنے ووٹ کی حفاظت کرو تاکہ اس بار منیرا مستری اسے PP کے حق میں تبدیل نہ کردے
مستری بہت بیغیرت ہے
گلگت بلتستان الیکشن میں آج ووٹر ٹرن اوور بہت ہائی جا رہا ہے۔ یہ چیز الیکشن کے نتائج بدلنے والوں کو مشکل میں ڈالے ہوئے ہے۔
کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں اور اس جوش و جذبے سے ووٹر صرف پی ٹی آئی کے نکلتے ہیں
رات جب جعلی نتائج آنا شروع ہونگے تو یہ عوامی مزاحمت کو دعوت دی۔ گے جس سے نمٹنے کیلئے 7000 پنجاب پولیس اور باقی سیکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔
پنجاب پولیس کی تعیناتی سے واضح ہے کہ اکثریت کا اعلان ن لیگ کے حق میں کیا جائے گا دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی کو سیٹیں دی جائیں گی۔
اور پی ٹی آئی کو حسب سابق انکی جیتی ہوئی سیٹیں بھی نہیں دی جائیں گی
ٹی وی چینلز تفصیلی الیکشن ٹراسمیشن کیوں نہیں کر رہے؟
ٹی وی چینلز اب تک کی پارٹی پوزیشن کیوں نہیں دکھا رہے؟؟
ُٹی وی چینلز پی ٹی آئی کا نام اور ان کے آزاد امیدواروں کی جیت کیوں نہیں چلا رہے؟
کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے
کل لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب حملے کےحوالے سے ایک بہت ضروری اور سمجھنے والی بات یاد رکھیں
اگر خدانخواستہ آپ کے سامنے کسی پر تیزاب یا کوئی تیز کیمیکل پھینکا جائے، تو سب سے پہلے ویڈیو نہ بنائیں، مدد کریں۔
تیزاب کے زخم میں چند منٹ بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ درست فوری مدد چہرہ، آنکھ، جلد اور جان بچا سکتی ہے۔
سب سے پہلے متاثرہ شخص کو حملہ آور اور خطرے والی جگہ سے دور کریں۔
فوراً ایمرجنسی سروس کو کال کریں اور مریض کو اسپتال لے جانے کا انتظام کریں۔
اگر کپڑے، دوپٹہ، زیور، گھڑی، جوتے یا کوئی چیز تیزاب سے آلودہ ہو تو احتیاط سے ہٹا دیں، لیکن جو کپڑا جلد سے چپک گیا ہو اسے زبردستی نہ کھینچیں۔
متاثرہ حصے پر فوراً صاف بہتا ہوا پانی ڈالنا شروع کریں۔
کم از کم 20 منٹ تک مسلسل پانی ڈالتے رہیں۔
جتنا جلدی پانی شروع ہو گا، نقصان کم ہونے کا امکان اتنا زیادہ ہو گا۔
اگر آنکھ متاثر ہو تو آنکھ کو فوراً پانی سے دھوئیں۔ پانی اس طرح بہائیں کہ کیمیکل دوسری آنکھ یا جسم کے دوسرے حصے پر نہ جائے۔
کسی قسم کا ٹوٹکا نہ لگائیں۔
دودھ، دہی، ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، آٹا، برف، مرہم یا تیل ہرگز نہ لگائیں۔
تیزاب کو کسی دوسرے کیمیکل سے “ختم” کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس سے زخم مزید خراب ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیں:
تیزاب کے زخم میں اصل علاج اسپتال میں ہو گا، لیکن ابتدائی چند منٹ میں بہتا ہوا پانی زندگی بدل سکتا ہے۔
ویڈیو نہیں، پانی۔
تماشا نہیں، مدد۔
تبصرہ نہیں، ایمرجنسی کال۔
یہ بات خود بھی یاد رکھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں
اس وقت جشن ضروری نہیں
اس وقت رزلٹ حاصل کرنا اور وکٹری سپیچ کرنا ضروری ہے
مگر بیرسٹر گوہر وہاں 8 فروری کی ظرح سوائے روں روں کرنے کے کچھ کرنے کے موڈ میں نہیں
اور اس کا نقصان صبح سب کو نظر آ جائیگا
حامد میر کا اہم ترین تجزیہ 🔥🔥🔥
آج سارا دن گلگت بلتستان میں پی آئی آئی ووٹر کا راج رہا، شاندار مناظر دیکھنے کو ملے ہیں۔ بہت بڑا ٹرن آؤٹ دیکھنے کو ملا ہے آج سے پہلے میں نے کبھی گلگت بلتستان میں نوجوانوں کو اتنی بڑی تعداد میں الیکشن کے دن نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اسکی بنیادی وجہ اسٹبلیشمنٹ کی پی ٹی آئی پر کی گئی زیادتیاں ہیں، ظلم ہے جسکی بنا کر لوگ پی پی اور ن لیگ کو مسترد کر چکے ہیں۔ یہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کا مقابلہ ہے جسے پی ٹی آئی بھاری مارجن سے جیت رہی ہے۔
نواز لیگ ، انتخابی تاریخ میں پہل سیاسی جماعت بننے جارہی ہے جو مرکز میں حکومت ہونے کے باوجود گلگت بلتستان کا انتخاب ہار چکی ہے
اسے کہتے ہیں عمران خان
نوجوانوں اور خواتین نے یہ نہیں دیکھا کہ ہمارے کام کیسے ہونگے
صرف یہ دیکھا کہ کپتان کا امیدوار کون ہے
ہور چوپو😂
ابصار عالم نے الزام لگایا ہے کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 370 لگایا تو ایکشن کمیٹی نے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا
370 بھارت نے 2019 میں لگایا تھا اور ایکشن کمیٹی 2023 میں بنی یہ تو ایسا ہی ہے کہ میں کہوں ابصار عالم نے پیدا ہونے سے پہلے میٹرک پاس کیوں نہیں کیا
شہباز گل
بریکنگ نیوز🚨الجزیرہ اور دیگر بین الاقوامی میڈیا کی ٹاپ سٹوری 🔥🔥
عمران خان نے نیلسن منڈیلا کا ریکارڈ توڑ دیا۔ مسلسل دوسری مرتبہ قید میں رہے کر دوسرے الیکشن میں کلین سویپ کرلیا ہے۔
الحمدللہ
سیالکوٹ کے گاؤں پتیسر میں آج قوت سماعت و گویائی سے محروم محمد صدام کو چوبیس سال بعد اسکے خاندان سے ملایا۔
سارا گاؤں استقبال کے لئے اکھٹا تھا پھولوں کے ہار اور پتیوں سے استقبال کیا گیا۔ بھائی اور ماں جب صدام سے ملے تو پھوٹ پھوٹ کر روئے۔سارے بزرگ گلے لگ کر روئے۔ غم اور خوشی کے ملے جلے چہرے جمع تھے۔
بہت خوبصورت اور شاندار پروگرام رہا ۔ ان شاء اللہ مکمل تفصیلی مناظر آپ ہمارے چینل پر بہت جلد دیکھ سکیں گے۔
سیالکوٹ پتیسر کی عوام نے بہت پیار دیا بہت خدمت کی آپ سب کا بہت شکریہ ❤️
#waliullahmaroof
جھنگ میں 50 میگاواٹ کا ایک آئی پی پی کئی سالوں سے بند پڑا ہے لیکن 10 کروڑ ماہانہ اسے دیا جا رہا ہے آئی پی پی کے مسئلے نے پورے ملک کو دیوالیہ بنا دیا ہے یہ کون لوگ ہیں یہ میاں منشا کون ہے ؟ حنیف عباسی ۔۔
پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں فتح مبارک۔ خصوصی مبارکباد خالد خورشید اور انکی ٹیم کو۔
تمام فسطائیت کے باوجود گلگت بلتستان کی عوام کا شاندار کام۔ کیا شاندار اور دلیر قوم ہے۔ گلگت بلتستان آپکا شکریہ۔
تحریک انصاف کی آفیشل سوشل میڈیا ٹیم رہنمائی کرے ، آپ لوگوں میں سے کوئی علم رکھتا ہے تو اکاونٹس مینشن کردے یا اگر آپ خود گلگت بلتستان سے ہیں تو رپلائی کردیں تاکہ جی بی سے تحریک انصاف کے متحرک سوشل میڈیا ورکرز کو پروموٹ کیا جائے جس کی مدد سے رئیل ٹائم ڈیٹا سوشل میڈیا پر پھیلایا جاسکے۔
کام وہی ہے جس میں یوتھیوں کو ملکہ حاصل ہے۔ آٹھ فروری دوہرانا ہے اور نسبتا کم حلقوں میں دوہرانا ہے۔ تحریک انصاف کے امیدواران اور انکے نشانات کو ریپیٹ موڈ پر ڈال دیں۔