۔ نظام کی واردات اور سیاہ کارنامے پکڑے گئے!
۔ کپتان کے مضبوط اعصاب نے کیسے حیران کیا؟
۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کون؟ سزا کی اصل تہلکہ خیز کہانی
ایرانی صدر پاکستان کیوں آئے؟ نیویارک ٹائمز نے کیا بھانڈا پھوڑا؟
مکمل ویڈیو لنک: https://t.co/1O9SHUKGyX
اسلام اباد
سنیٹر حافظ حمد اللہ کی گاڑی بیٹے کے زیر استعمال۔۔ گاڑی کی موٹر سائیکل سے جی ایٹ میں ٹکر ۔ کیا سرکاری گاڑی سینئر صاحب کو بیٹا استعمال کرنے کا مجاز ہے ؟؟؟
🚨🚨تیرے نام سے شروع ۔۔ تیرے نام پہ ختم ۔۔۔
پنجاب میں ہونے والے سارے منصوبے نواز شریف سے شروع اور مریم نواز پر ختم ۔۔۔ دیکھئے تفصیلی رپورٹ منصور خان کی اس ویڈیو میں ۔۔۔
میں وہ بد قسمت شخص ہوں جو مسلم لیگ ن کا حامی رہا ہوں،
میری حامی جماعت کی حکومت بنی، اور اس حامی جماعت نے ایک ایسا ادارہ بنا دیا جو بغیر ٹرائل کے پنجاب میں قتل عام کر رہا ہے، اور عدالتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، عدالت قانون کے مطابق فیصلہ ہی نہیں دے رہی سی سی ڈی کے خلاف، ایڈووکیٹ میاں داؤد
آپ نے تنخواہ دار کی تنخواہ 39 ہزار سے بڑھا کر 41 ہزار کر دی ہے تو ملازمین کو ایک ایک تجوری بھی فراہم کریں وہ یہ خزانہ رکھیں گے کہاں؟
رہنما پیپلز پارٹی قادر پٹیل
جی بی کا ایک بھی آزاد امیدوار جیتنے کے بعد ن لیگ میں شامل نہ ہوا بلکہ چار آئی پی پی کو پیارے ہو گئے ، میاں نوازشریف کے ساتھ دوسری بار دھوکہ ہو گیا ، پہلی بات مینار پاکستان پر لا کر کندھے پر کبوتر بٹھا کر صرف ایک ایم این اے کی سیٹ دلوا کر سائیڈ لائن کر دیا گیا
یہ 'تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان' کا باضابطہ (Official) موقف ہے۔ ہم نے دو تین دن انتظار کیا، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم مختلف فورمز پر پچھلے جمعے کو پیش کیے گئے بجٹ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ پرسوں 'عوام پاکستان پارٹی' کی جانب سے ہمیں بلایا گیا تھا، جس میں اسد قیصر صاحب سمیت ہم سب موجود تھے؛ وہاں بھی ہم نے اپنی رائے کا اظہار کیا، لیکن 'تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان' کی جانب سے ٹی وی چینلز اور دیگر پلیٹ فارمز پر ہم پہلے ہی تفصیلی بات کر چکے ہیں۔"
"سب سے پہلے اصولی بات یہ ہے کہ اس بجٹ میں جو سب سے اہم پہلو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کس قدر آسانی سے آئین کی خلاف ورزی کی گئی۔ گزشتہ دو سالوں میں 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا تھا، لیکن اس بار آپ کو معلوم ہے کہ بجٹ سے دو تین ماہ قبل ہی یہ بحث شروع ہوگئی تھی کہ این ایف سی (NFC) ایوارڈ میں تبدیلی کی جانی چاہیے کیونکہ مرکز صوبوں کو کم فنڈز دینا چاہتا ہے۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ مرکز کے پاس زیادہ وسائل رہیں۔ اس کے لیے ایک آئینی ترمیم لانے پر غور ہو رہا تھا اور 28 ویں ترمیم کی باتیں بھی چل رہی تھیں۔"
"تاہم، اس عمل میں کچھ مشکلات درپیش تھیں۔ پیپلز پارٹی کے لیے سندھ میں سیاسی طور پر اس کا دفاع کرنا مشکل تھا، اور وہ گلگت بلتستان میں الیکشن سے قبل ناراضی بھی مول نہیں لینا چاہتے تھے۔ چنانچہ، ایک غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے این ایف سی ایوارڈ کو تبدیل کر دیا گیا۔ اٹھارویں ترمیم، جو کہ دو تہائی اکثریت سے منظور ہوئی تھی اور جس میں مرکز اور صوبوں کے درمیان مالیاتی و اقتصادی تعلقات کا طریقہ کار طے کیا گیا تھا، اسے یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔"
"پہلے تو یہ خبر آئی تھی کہ یہ اقدام صرف اس بجٹ تک محدود ہے، لیکن پھر وزیر خزانہ نے اعلان کر دیا کہ یہ تبدیلی تین سال کے لیے ہے۔ یعنی جو طریقہ کار پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر طے کیا تھا کہ صوبوں کو فنڈز کیسے ملیں گے، اب مرکز نے اپنی مرضی سے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کتنے پیسے رکھے گا۔ آپ اندازہ لگائیں کہ کلیکشن کے ہدف میں سے تقریباً 2.7 ٹریلین روپے صوبوں کو کم ملیں گے اور مرکز انہیں اپنے پاس رکھے گا۔"
"اب یہ کون سا اصول ہے؟ یہ کب طے ہوا تھا کہ مرکز صوبوں سے زیادہ بہتر اور شفاف طریقے سے پیسے خرچ کرتا ہے یا زیادہ کارکردگی کا حامل ہے؟ یہ وہی مرکز ہے جو ریلوے اور پی آئی اے جیسے اداروں کو چلاتا رہا ہے، جن کے نقصانات ہر سال ایک ہزار ارب روپے سے زائد ہیں۔ اب انہوں نے خود ہی طے کر لیا ہے کہ صوبے درست طریقے سے فنڈز خرچ نہیں کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ صوبوں کی کارکردگی پر، بالخصوص سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کے حوالے سے ہمارے بھی تحفظات ہیں کہ انہیں جو فنڈز ملے، انہوں نے ایجوکیشن اور ہیلتھ جیسی بنیادی ذمہ داریوں پر ان کا درست استعمال کیوں نہیں کیا۔"
معاشی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر عمر
جعلی ریجیم میں موٹروے پولیس بھی ناکام !!
موٹروے پولیس, جو ڈیسپلن اور کام سے جانے جاتے تھے, اِس ریجیم میں ہر ادارہ تباہ ہوچکا ہے!!
اگر بات ٹول ٹیکس کی ہو, جعلی ریجیم میں ٹول ٹیکس کو بطور بھتہ سمجھ کر عوام کو لوٹا جارہا ہے,
لیکن عوام کی جان ومال غیر محفوظ
اگر یہی منظر تحریکِ انصاف کے پلیٹ فارم سے سامنے آتا، تو شاید اسے فوری طور پر قانون و امن کا مسئلہ قرار دے کر سخت کارروائی کا جواز بنایا جاتا۔ لیکن جب معاملہ پسندیدہ سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کا ہو تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔۔!!
سوال یہ ہے کہ قانون اور ریاستی اداروں کا معیار سب کے لیے یکساں کب ہوگا؟؟
دوہرے معیار اور منتخب احتساب سے عوام کے اعتماد کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔۔!!
#FascismUnderAsimLaw
ن لیگ اور پیپل پارٹی کا فکس میچ
خان نے انکے بارے میں صحیح کہا تھا کہ یہ سب ملے ہوئی ہیں اور انہوں نے امپائر کو بھی ساتھ ملایا ہوا ہے
نواز شریف پیپل پارٹی کے بارے میں کیا کہتے تھے پٹواریوں اور جيالو سنتے جائیں اور شرماتے جائیں
#EndKhansIsolationNow@TeamiPians