عمران خان کو اخبار نہیں مل رہا، ٹی وی نہیں، سیل میں بجلی نہیں تھی، 2 ہفتہ تک کوئی ایکسرسائز نہیں کی، عمران خان کا پیغام ہے میں قوم کی آزادی سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، بیرسٹر گوہر خان
ایڈووکیٹ انتظار حسین پنجوتھہ کو اغوا کیا گیا ہے ،تمام وکلاء کے لیے لمحہ فکر ہے ،11 دن ہق گئے بازیاب نہیں کیا گیا، فی الفور اس کی رہائی یقینی بنائی جاۓ ،بیرسٹر ابو زر سلمان نیازی.
عمران خان پر جیل میں سختیوں کی داستان پر انتہائ افسوس ہے، پاکستان کے عوام کے لیڈر کو یہ سزائیں عوام کی توہین ہے ، عدالتیں قانون کی عملداری پر مکمل ناکام ہو رہی ہیں، اللہ عمران خان کا اور عوام کا حافظ و ناصر ہو۔۔ #PTI
میرا خدشہ ٹھیک ثابت ہوا۔ عمران خان تک رسائی محدود کر کے اور ایس سی او کا بہانہ بنا کر اس گھٹیا حکومت نے عمران خان کے سیل کی پانچ دن تک بجلی بند رکھی اور انھیں کئی دنوں تک اپنے انتہائی چھوٹے سیل سے باہر نہی آنے دیا۔ مسلط ٹولہ بددیانت اور احمق ہی نہیں بلکہ چھوٹے لوگ ہیں۔
قبلہ @MoulanaOfficial یہ زرداری آپکے calibre کا بالکل بھی نہیں ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ آپ کو لُبھا لے گا اپنی بات منوا لے گا
آپ ایک مرتبہ اپنے دستار و جُبہ کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے اس کو بھی انکار کریں تو یہ myth بھی ختم ہو
خیر اندیش
فضل الرحمان تاریخ کے اس اہم ترین موڑ پہ سرنڈر کرگئے تو اپنا بہت بڑا نقصان کربیٹھیں گے عمران خان تو آئینی ترمیم کے بعد بھی اس نظام کو سجدہ نہیں کرے گا لیکن عصر کے وقت روزہ توڑنا بلکل دانشمندی نہیں ہوگی اللہ کرے فضل الرحمان قائم رہ سکیں!!
سابق وزیراعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان کا پاکستان کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والا آرٹیکل:
آج پاکستان پر وفاقی اور صوبائی سطح پر نگران حکومتوں کا راج ہے. یہ انتظامیہ آئینی طور پر غیر قانونی ہے کیونکہ پارلیمانی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے 90 دنوں کے اندر انتخابات نہیں ہوئے تھے.
عوام کے سننے میں آ رہا یے کہ انتخابات 8 فروری کو ہوں گے مگر گزشتہ مارچ میں سپریم کورٹ کے ایک حکم کے باوجود کہ انتخابات تین ماہ کے اندر ہونے چاہئیں دو صوبوں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پہلے یہ اعلان تو کیا گیا مگر پھر انتخابات سے انکار کر دیا گیا۔ لہذا عوام اب بھی اس بارے میں شکوک شبہات رکھنے پر بر حق ہیں کہ آیا انتخابات ہو بھی پائیں گے یا نہیں
.
ملک کا الیکشن کمیشن اپنے عجیب و غریب اقدامات کی وجہ سے داغدار ہے. اس نے نہ صرف اعلیٰ عدالت کی مخالفت کی ہے بلکہ اس نے میری پارٹی تحریک انصاف کے ترجیحی امیدواروں کی نامزدگیوں کو بھی مسترد کر دیا ہے, پارٹی کے اندرونی انتخابات میں رکاوٹ ڈالی اور الیکشن کمیشن پر تنقید کرنے کی وجہ سے میرے اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات شروع کردیئے
انتخابات ہوں یا نہیں، اپریل 2022 میں عدم اعتماد کے مضحکہ خیز ووٹ کے بعد سے جس انداز میں مجھے اور میری پارٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے اس نے ایک بات واضح کر دی ہے: اسٹیبلشمنٹ یعنی فوج، سیکورٹی ایجنسیاں اور سول بیوروکریسی پی ٹی آئی کے لیے لیول تو دور کھیل کا کوئی میدان فراہم کرنے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہیں .
بہر حال یہی وہ اسٹیبلشمنٹ تھی جس نے امریکہ کے دباؤ میں آ کر حکومت سے ہماری برط��فی کو انجینئر کیا, جو ایک آزاد خارجہ پالیسی کے لیے میرے مسلسل اصرار اور امریکا کی مسلح افواج کے لیے اڈے فراہم کرنے سے انکار سے پر مشتعل ہے ۔ میں واضح تھا کہ ہم سب کے دوست ہوں گے لیکن جنگوں کے لئے کسی کے proxy کے طور پر پیش نہیں ہوں گے. میرا یہ فیصلہ بغیر سوچے سمجھے نہیں بلکہ اس فیصلے کی بنیاد پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں ہونے والے بھاری نقصانات ہیں کم از کم 80،000 پاکستانی جانیں اس جنگ میں ضائع ہوئیں.
مارچ 2022 میں امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کے اس وقت کے سفیر سے ملاقات کی. اس ملاقات کے بعد سفیر نے میری حکومت کو ایک سائفر پیغام بھیجا تھا. میں نے بعد میں اس پیغام کو اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ذریعے دیکھا اور بعد میں اسے کابینہ میں پڑھ کر سنایا گیا.
سائفر پیغام میں کہا گیا، عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عمران خان کی وزارت عظمیٰ کو قابو کریں ورنہ!!
چند ہفتوں کے اندر اندر ہماری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور میں نے دریافت کیا کہ یہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعے کیا تھا,جو ہمارے اتحادیوں اور پارلیمانی بیک بینچرز کو کئی مہینے سے ہمارے خلاف کرنے کے لیے کام کر رہ�� تھے.
.حکومت کی اس تبدیلی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے لوگ سڑکوں پر نکل آئے، اور اگلے چند مہینوں میں پی ٹی آئی نے 37 میں سے 28 ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ملک بھر میں زبردست ریلیاں نکالیں, جو ایک واضح پیغام بھیج تھا کہ عوام کس جانب کھڑے ہیں. ان ریلیوں میں خواتین کی غیر معمولی شرکت نے سب کو متوجہ کیا جس کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ بے مثال تھا. اس امر نے ان ارباب اختیار کو بے چین کر دیا جنہوں نے ہماری حکومت کو ہٹانے کا کام شروع کیا تھا.
ان کی گھبراہٹ میں اضافہ تب ہوا جب ہماری جگہ لینے والی حکومت نے معیشت کو تباہ کر دیا، جس سے 18 ماہ کے اندر اف��اط زر اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی واقع ہوئی. اس کے برعکس سب کے لیے واضح تھا: پی ٹی آئی حکومت نے نہ صرف پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا تھا بلکہ کوویڈ 19 وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعریف بھی حاصل کی تھی. اس کے علاوہ، اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود، ہم معیشت کو 2021 میں 5.8% اور 2022 میں 6.1% کی حقیقی gdp نمو کی طرف لے کر گئے.
بدقسمتی سے، اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ مجھے اقتدار میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس لیے مجھے سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کے تمام ذرائع استعمال کیے گئے. میری زندگی پر دو قاتلانہ حملے ہوئے. میری پارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور سوشل میڈیا کارکنوں، معاون صحافیوں کے ساتھ، اغوا، قید، تشدد سب کچھ ہوا اور انھیں پی ٹی آئی چھوڑنے کے لئے دباؤ میں ڈالا گیا ۔ ان میں سے بہت سے لوگ قید ہیں ، جب بھی عدالتیں انہیں ضمانت دیتی ہیں یا انہیں رہا کرتی ہیں تو ان پر نئے الزامات عائد کیے جاتے ہیں. 1/2