بُجھنے لگ جائیں تو پھر شمعیں جَلا دی جائیں
میری آنکھیں ، مِرے دُشمن کو لگا دی جائیں
بے ہُنر لوگ کہاں، حرف کی سچّائی کہاں
اب کتابیں کِسی دریا میں بہا دی جائیں
اب بچھڑنے کا سلیقہ ہے نہ مِلنے کا ہُنر
عِشق میں تُہمتیں آئیں تو بُھلا دی جائیں
تجھ سے بچھڑے ہیں مگر عشق کہاں ختم ھوا
یہ وہ جیتی ھوئ بازی ھے جو ہاری نہ گئی
تو ھے وہ خواب جو آنکھوں سے اتارا نہ گیا
تو وہ خواہش ھے جو ہم سے کبھی ماری نہ گئی
🙃✨
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں
تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا
ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں
ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں
پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں
ہم اگر منزلیں نہ بن پائے
منزلوں تک کا راستا ہو جائیں
دیر سے سوچ میں ہیں پروانے
راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں
عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا
خاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں
اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے
ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ
کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں
احمد فراز
واسطہ حسن سے کیا، شدتِ جذبات سے کیا
عشق کو تیرے قبیلے یا میری ذات سے کیا
مری مصروف طبعیت بھی کہاں روک سکی
وہ تو یاد آتا ہے اس کو مرے دن رات سے کیا
محسن نقوی
دوست کیا خوب وفاؤں کا صلہ دیتے ہیں
ہر نئے موڑ پر اِک زخم نیا دیتے ہیں
تم سے تو خیر گھڑی بھر کی ملاقات رہی
لوگ صدیوں کی رفاقت کو بُھلا دیتے ہیں
کیسے ممکن ہے کہ دھواں بھی نہ ہو اور دل بھی جلے
چوٹ پڑتی ہے تو پتھر بھی صدا دیتے ہیں
کون ہوتا ہے مصیبت میں کسی کا اے دوست
آگ لگتی ہے تو پتے بھی ہوا دیتے ہیں
جن پہ ہوتا ہے بہت دل کو بھروسہ تابش
وقت پڑنے پہ وہی لوگ دغا دیتے ہیں
تابش دہلوی