جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔
تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔
👇
"ہر انسان کے اپنے اپنے دکھ ہیں اور اپنی ایک الگ کہانی ہے۔ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں جان سکتا کہ سامنے والا مسکرا کر زندگی جی رہا ہے یا خاموشی سے زندگی جھیل رہا ہے۔