To the women of Punjab: if you ever find yourself in an emergency, stay as calm as you can and immediately press the panic button or call 15. Our emergency response teams are ready to assist you.
رات کو سونے سے پہلے ایک چھوٹی سی عادت ڈال لو جو بہت سے لوگ بھول جاتے ہیں۔
کوئی بھی تیل لے لو، سرسوں ہو یا زیتون، تھوڑا سا پاؤں کے تلووں پر لگاؤ اور ہلکے ہاتھ سے تین چار منٹ مساج کر لو۔ دونوں پاؤں باری باری۔ بچوں کے بھی کر دو، انہیں بھی یہ معمول بن جائے۔
پاؤں کے نیچے بہت سے پوائنٹس ہوتے ہیں جو پورے جسم سے جڑے ہوتے ہیں۔ مساج کرنے سے نیند اچھی آتی ہے، جسم ہلکا محسوس ہوتا ہے اور روزمرہ کی تھکن کچھ کم لگتی ہے۔
بالوں میں تیل لگانا یا جوتے صاف کرنا تو یاد رہتا ہے، پاؤں کے تلوے کیوں بھول جاتے ہیں؟ بس رات کو بستر پر لیٹتے وقت کر لو، کوئی مشکل کام نہیں۔
جانتے ہو ...
ہم اپنے ماں باپ پے سب سے بڑا ظلم کیا کرتے ہیں۔..؟
ہم ان کے سامنے"بڑے" بن جاتے ہیں ...
"سیانے" ہو جاتے ہیں ...
اپنے تحت بڑے "پارسا نیک اور پرہیزگار" بن جاتے ہیں ...
وہی ماں باپ جنہوں نے ہمیں سبق پڑھایا ہوتا ہے ۔.
انھیں "سبق" پڑھانے لگتے ہیں ...
ابا جی یہ نہ کرو یہ غلط ہے ۔.
آماں جی یہ آپ نے کیا کیا ..
آپ کو نہیں پتا ایسے نہیں کرتے ...
ابا جی آپ یہاں کیوں گیے۔.
اماں جی پھر گڑبڑ کر دی آپ نے ..
سارے کام خراب کر دیتی ہیں آپ ..
اب کیسے سمجھاؤں آپ کو ...
جانتے ہو ...
ہمارا یہ "بڑا پن یہ سیانا پن" ہمارے اندر کے "احساس" کو مار دیتا ہے ...
وہ احساس جس سے ہم یہ محسوس کر سکیں ...
کہ ہمارے ماں باپ اب بالکل بچے بن گئے ہیں۔..
وہ عمر کے ساتھ ساتھ بے شمار ذہنی گنجلگوں سے آزاد ہوتے جا رہے ہیں ...
چھوٹی سی خوشی ...
تھوڑا سا پیار...
ہلکی سی مسکراہٹ ...
انھیں نہال کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے ...
انھیں "اختیار" سے محروم نہ کریں ....
"سننے" کا اختیار ...
"کہنے" کا اختیار ...
"ڈانٹنے" کا اختیار ...
"پیار" کرنے کا اختیار ...
یہی سب انکی خوشی ہے ..
چھوٹی سی دنیا ہے ...
ہمارے تلخ رویوں سے وہ اور کچھ سمجھیں یا نہ سمجھیں ...
یہ ضرور سمجھ جاتے ہیں ک اب وقت انکا نہیں رہا ...
وہ اپنے ہی خول میں قید ہونے لگتے ہیں ...
اور بالآخر رنگ برنگی ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہونے لگتے ہیں ...
اس لئے ...
اگر ماں باپ کو خوش رکھنا ہے ..
تو ان کے سامنے زیادہ "سیانے" نہ بنیں ...
"بچے" بن کے رہیں ..
تا کے آپ خود بھی "بچے" رہیں ...
کینیڈا امریکہ میں گھروں کی چھتوں پر پانی کی ٹینکیاں کیوں نہیں ہوتیں؟
#قومی_زبان
کینیڈا آنے کے چند دن بعد ایک پاکستانی نے اپنے دوست سے بڑی حیرت سے پوچھا:
"یار، ایک بات سمجھ نہیں آئی۔ یہاں کسی گھر کی چھت پر پانی کی ٹینکی نظر نہیں آتی، نہ موٹر چلتی دکھائی دیتی ہے۔ پھر پانی آتا کہاں سے ہے؟"
دوست مسکرایا اور بولا:
"یہی تو اصل فرق ہے۔ یہاں ہر گھر اپنا پانی نہیں سنبھالتا، بلکہ شہر یہ ذمہ داری اٹھاتا ہے۔"
پاکستان میں اکثر گھروں کی اپنی ٹینکی، موٹر اور پانی ذخیرہ کرنے کا الگ انتظام ہوتا ہے۔ لیکن کینیڈا میں یہ کام شہری حکومت کرتی ہے۔ پانی جھیلوں، دریاؤں یا زیرِ زمین ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے، جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں اسے انتہائی سخت معیار کے مطابق صاف کیا جاتا ہے، پھر طاقتور پمپوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر طویل زیرِ زمین پائپ لائنوں کے جال سے ہر گھر، اسکول، اسپتال، دفتر اور پارک تک پہنچایا جاتا ہے۔
وہ حیران ہو کر بولا:
"یعنی مجھے موٹر چلانے کی بھی ضرورت نہیں؟"
دوست ہنس کر بولا:
"نہ موٹر، نہ ٹینکی، نہ پانی ختم ہونے کی فکر۔ بس نل کھولو... پانی حاضر!"
لیکن اس کے ذہن میں ایک اور سوال آیا۔
"اچھا، جب سردیوں میں درجہ حرارت منفی 30 یا 40 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو پانی جم کیوں نہیں جاتا؟"
دوست نے جواب دیا:
"کیونکہ پانی کی لائنیں زمین کے کافی نیچے بچھائی جاتی ہیں، فراسٹ لائن سے بھی نیچے، جہاں مٹی مکمل طور پر نہیں جمتی۔ گھروں کے اندر پائپ بھی گرم حصوں سے گزارے جاتے ہیں، اس لیے عام حالات میں پانی مسلسل بہتا رہتا ہے۔"
وہ ابھی بھی متاثر تھا۔
"اتنا بڑا نظام آخر سنبھالتا کون ہے؟"
دوست نے کہا:
"شہر کی میونسپل حکومت۔"
مثال کے طور پر صرف ٹورانٹو واٹر تقریباً 36 لاکھ افراد اور کاروباروں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ ہر سال تقریباً 435 ارب لیٹر صاف پانی سپلائی کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 400 ارب لیٹر استعمال شدہ پانی کو دوبارہ صاف کرکے ماحول میں واپس چھوڑا جاتا ہے۔
یہ کوئی معمولی منصوبہ نہیں۔ صرف ٹورانٹو نے اپنے پانی، سیوریج اور اسٹورم واٹر کے نظام کی بہتری کے لیے آئندہ برسوں میں 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ اس پورے انفراسٹرکچر کی مالیت 90 ارب ڈالر سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
پھر اس نے پوچھا:
"کیا پورے کینیڈا میں یہی نظام ہے؟"
دوست نے جواب دیا:
"اصول تقریباً ایک ہی ہے، صرف پانی کا ذریعہ بدل جاتا ہے۔"
ٹورانٹو اپنا زیادہ تر پانی لیک اونٹاریو سے لیتا ہے۔
وینکوور پہاڑوں کے قدرتی ذخائر سے پانی حاصل کرتا ہے۔
کیلگری میں باؤ اور ایلبو ریور بنیادی ذریعہ ہیں۔
جبکہ مونٹریال زیادہ تر سینٹ لارنس ریور پر انحصار کرتا ہے۔
یعنی شہر بدل جاتا ہے، لیکن نظام وہی رہتا ہے: صاف پانی، جدید ٹریٹمنٹ پلانٹس، زیرِ زمین پائپ لائنیں اور چوبیس گھنٹے مسلسل سپلائی۔
لیکن اس کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ ابھی باقی تھا۔
پاکستان میں ہم اکثر نلکے کا پانی پینے سے گھبراتے ہیں، فلٹر، کولر یا بوتل والا پانی استعمال کرتے ہیں۔ مگر کینیڈا میں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔
یہاں گھروں، اسکولوں، کالجوں، دفاتر، اسپتالوں، پارکوں اور عوامی مقامات کے نلکوں سے آنے والا یہی پانی براہِ راست پینے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ روزانہ یہی پانی پیتے ہیں، اپنی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتل ساتھ رکھتے ہیں اور جہاں نل نظر آئے، وہیں بھر لیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹورانٹو میں پانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار لیبارٹری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ پانی کو پلانٹ سے نکلنے کے بعد بھی مختلف مقامات پر مسلسل چیک کیا جاتا ہے تاکہ ہر نل تک محفوظ پانی پہنچے۔
اسی لیے بوتل والا پانی یہاں ضرورت نہیں بلکہ زیادہ تر سہولت، سفر یا ذاتی پسند کی چیز ہے۔ روزمرہ زندگی میں لوگوں کی اکثریت نلکے کا پانی ہی استعمال کرتی ہے۔
یہ سب دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ملک صرف اونچی عمارتوں، خوبصورت سڑکوں یا بڑی گاڑیوں سے نہیں بنتا۔
اصل ترقی وہ نظام ہوتے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو سوچنا ہی نہ پڑے۔
جب پانی وقت پر آئے، صاف ہو، محفوظ ہو، ہر موسم میں دستیاب ہو، اور ہر شہری کو برابر ملے، تو لوگ اپنی توانائی زندگی، تعلیم، کاروبار اور ترقی پر صرف کرتے ہیں، پانی جمع کرنے پر نہیں۔
ہم صرف نل کھولتے ہیں... مگر اس ایک گلاس پانی کے پیچھے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، ہزاروں کلومیٹر پائپ لائنیں، جدید ٹیکنالوجی، مسلسل نگرانی اور ہزاروں انجینئرز، سائنس دانوں اور ماہرین کی محنت کام کر رہی ہوتی ہے۔
کبھی کبھی ترقی کا راز اونچی عمارتوں میں نہیں، بلکہ زمین کے نیچے چھپے ہوئے ان مضبوط نظاموں میں ہوتا ہے، جنہیں ہم دیکھ بھی نہیں پاتے
@shumailbutt804 Dr nabeeha ye kesi mussebat AP n galay m dali hy h js m husband k bray pan wali koi bat hi ni h.just muqabla bazi h is m to. Jan hi chhura len is se to AP k Haq m bht better h plz
بوری بند لاشیں متعارف کروانے والا
انکار پر سزائے موت سنانے والا ، کراچی کو منٹوں میں بند کروا سکنے والا یہ شخص
آج بستر مرگ پہ پڑا ہے
پارٹی قطع تعلقی کرچکی ،متعدد بار جیل جاچکا
کیسز ہیں ، مالی حالات تنگ ہیں
لہذا دماغ مفلوج ہوچکا ۔
دنیا میں کسی کا احتساب ہمارے لیئے سوچنے کا موقع ہے
الطاف حسین بننے سے پہلے سوچ ضرور لینا۔
"منگ پناہ محمد بخشا بے پرواہ جنابوں۔۔"
الطاف حسین مالی مشکلات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر ہسپتال داخل۔۔۔
اللہ اکبر۔
"گردش دوراں تو دیکھیے"
کیا دور تھا کہ کراچی کا میئر صرف الطاف بھائی کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کے حلیم کھا لیتا تو فخر سے پھولے نہ سماتا۔۔
پورا کراچی آن واحد میں شہر خموشاں بن جاتا۔
کسی چوہدری، وڈیرے کی جرات نہ تھی کہ الطاف بھائی کی کال پہ ’’نہ’’ بھی کہہ سکتا۔
کتنے لاشے الطاف بھائی کی ہاں میں ہاں نہ ملانے پہ اٹھے،
کتنے سہاگ الطاف بھائی کی مرضی کے خلاف قدم اٹھانے پہ لٹے،
کتنی ماؤں کے لخت جگر زیر زمین جامکین ہوئے وجہ الطاف بھائی کے خلاف زبان سے لفظ نکل گیا،
نہ معافی نہ تلافی سیدھا ٹھاہ۔۔۔
آج الطاف بھائی ہیں
مالی مشکلات کا شکار بھی اور ذہنی دباؤ بھی۔
اللہ اکبر۔۔
آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہے
بھول جاتا ہے زمین سے ہی نظر آتا ہے
عرصہ قبل ایسی ہی ایک ویڈیو جناب شیخ رشید کی نظر آئی تھی
جس میں وہ زمانے کا شکوہ کرتے نظر آئے اور بہت کرب سے روتے دکھائی دیے ۔ وہ شیخ رشید جن کے تکبر کا عالم یہ ہوتا کہ وہ قرآن خوانی پہ ہاتھ سے سگار نہ نکالتے۔
تاریخی بات ہے ایک اداکارہ کو فیملی سمیت لاہور سے اسلام آباد بلا کر صرف اس لیے ایوارڈ کی دوڑ سے باہر نکال پھینکا کہ وہ شب میں شیخ صاحب کے روم میں نہ جا سکی۔ مگر وہی شیخ رشید جیسے کرب کے ساتھ رویا تو پتھر دل بھی ہل گئے ۔۔۔۔
یہی شیخ رشید تھے کہ سوال کیا گیا کہ
"شادی کیوں نہیں کرتے ؟"
تو جواب ملا کہ
" جس کو صبح شام تازہ دودھ میسر ہو اسے بھینس پالنے کی کیا ضرورت"
آج وہ بلک بلک کر روتے پھرتے ہیں کہ
تین دن ہو گئے ہیں کوئی ملنے نہیں آیا ۔
تو ثابت ہوا کہ صرف دودھ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ،
کچھ کٹے وچھے بھی ضروری ہوتے ہیں
جو کمزور لمحے میں آپ کے لئے توانائی کا سورس ہوتے ہیں ۔
ورنہ بندے کو گلہ کرنے کے لئے بھی کوئی دستیاب نہیں ہوتا ۔
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
”اَلْمُسْتَطْرَف فِیْ کُلِّ فَنٍّ مُسْتَظْرَف“
“حضرت شہاب الدین محمدبن احمدشافعی علیہ الرحمۃ (مُتَوَفّٰی۸۵۰ھ)کی عظیم اور اپنی نوعیت کی عجائبات دنیا پر منفرد اور انوکھی تصنیف ہے۔
لکھتے ہیں
"ایک امیر شخص اپنی اہلیہ کے ساتھ بیٹھ کر عمدہ قسم کے کھانے کھا رہا تھا کہ فقیر نے خیرات کی صدا لگائی۔
فقیر کی ندا کی آواز اسے بہت بری لگی ۔
اسے جھڑک کر دروازے سے دھتکار دیا۔
بے چارہ سائل فقیرانہ آیا تھا اور صدا کر کر چلا
گردش دوراں دیکھیے ،
قدرت نے انگڑائی لی یا کہیے فطرت نے پلٹا کھایا
یہ شخص خود فقیر ہو گیا ،
مال و دولت جاتا رہا، حسن جوانی سب خاک ہوگیا،
وزیر مشیر سب رفو ہو گئے۔ ہم نشیں بیگانے اور اپنے ، اجنبی بن گئے ۔
بیوی کو طلاق دے دی اور منظر سے غائب ہو گیا۔
بیوی نے کسی اور بندے سے نکاح کر لیا
یہ دونوں میاں بیوی ایک دن اسی طرح عمدہ کھانا کھا رہے تھے ایک فقیر نے صدا لگائی ،
شوہر نے کہا "یہ کھانا اسے دے آؤ، وہ کھانا دے کر واپس لوٹی تو رونے لگی،"
میاں نے وجہ پوچھی تو گویا ہوئی ۔
"سرتاج!! یہ فقیر میرا سابق شوہر تھا۔ اس حالت میں اسے دیکھ کر رونا آگیا۔ اور سائل کو جھڑکنے کا پورا واقعہ بھی کہہ سنایا۔
اتنا سننا تھاکہ شوہر پھوٹ پھوٹ رویا
عورت سہم گئی کہ مبادا کوئی غلطی ہوگئی ہو۔ رونے کی وجہ پوچھی تو اس کے شوہر نے نے بخدا وہ فقیر میں تھا۔
پژمردگئ گل پہ ہنسی جب کوئی کلی
آواز دی خزاں نے، کہ تو بھی نظر میں ہے
یہ سب یہاں رہ جائے گا،
یہ فراٹے بھرتی گاڑیاں،
یہ پروٹوکول،
یہ اقتدار،دولت ،حرص ہوس سب۔۔۔۔
فاعتبروا یا اولی الابصار۔۔۔
"اللہ کریم ہمیں ہمہ قسمی تکبر سے محفوظ رکھے۔ اور ہر اس عمل کی توفیق بخشے جس سے وہ راضی ہو۔