The rights of political prisoners are universal, beyond Geography Government or political affiliation. Be it in India ,Pakistan or anywhere in the world, those incarcerated must be treated with dignity and humanity, with access to proper medical care, family and legal counsel, and due process.
Court orders must be respected and rule of law upheld. Political differences can never justify denying a prisoner his or her fundamental rights.
https://t.co/U2iNA8nMdG
The state has withdrawn its review petition from the SC after objections were placed on it by the SC filing branch. There is no excuse whatsoever for not complying with the SC order of 18 August. Imran Khan Sb must be transferred to Shifa International Hospital forthwith. Today is the day.
Breaking 🚨:
I have received confirmation from multiple sources that Punjab govt VIP Gulfstream is in Vienna because it was loaned by Maryam Safdar to her son Junaid Safdar for his honeymoon in Europe.
This is the real reason. Now you know.
Austerity for everyone else.
Urgent appeal to international media, UN Human Rights Council, EU, US, UK & all democracies:
Today’s DG ISPR press conference by Pakistan military spokesman Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry contained open threats against imprisoned former PM Imran Khan & hundreds of PTI political workers already in illegal detention.
These were not veiled warnings — they were explicit threats of further abuse, fabricated cases & physical harm issued on record by the official military spokesman.
This is a direct assault on democracy, free speech & human rights.
The world cannot stay silent while a serving military officer publicly terrorizes elected leaders & citizens.
We urge the international community to:
•Immediately condemn these threats
•Demand safety & due process for Imran Khan & all political prisoners
Pakistan deserves democracy, not dictatorship in uniform.
ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام ممالک کے سفیروں کو خط لکھیں گے، ان سے ملاقاتیں کریں گے اور انہیں صاف بتائیں گے یہ آپ نے جو بھی معاہدے اس غیر نمائندہ حکومت کے ساتھ کئے ہیں، پاکستان کے عوام کو وہ قبول نہیں۔
آپ اپنے ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں اور یہاں مینڈیٹ چوروں کو سپورٹ کرتے ہیں
Happy Birthday, Imran Khan. Given your unjust, politically motivated incarceration and the inexcusable treatment meted out to you by the establishment and its corrupt partners, it may not feel like a happy moment. But remember that millions of people admire your patriotism and noble effort to serve your people. So let us wish a Happy Birthday to your struggle and the struggle for a better #Pakistan. With sincere best wishes from your friend and from all those who want you to be free and Pakistan to succeed.
اپنے 73ویں یومِ پیدائش پر، ہمارے والد عمران خان اب بھی ایک ڈیتھ سیل میں قید ہیں - 790 دن اپنے خاندان، اپنے ڈاکٹروں اور اپنے وکلاء کے بغیر۔ مگر ان کا حوصلہ آج بھی قائم ہے۔
ہمیں ہار نہیں ماننی چاہیے، کیونکہ وہ کبھی ہار نہیں مانیں گے
On his 73rd birthday, our father Imran Khan remains locked in a death cell - 790 days without his family, without his doctors, without his lawyers.
Yet his courage endures. We must not give up, because he never will.
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔
اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔
تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔
توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خلافِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جارہے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔
میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025:
"There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system.
The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest.
Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for.
I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir.
I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable.
Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her.
In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now.
Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development.
At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail.
I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible.
The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."