صرف چند قدم، بہترین ہم آہنگی، اور نتیجہ حیران کن! طلبہ نے 1 سے 9 تک کے اعداد ایسی مہارت سے بنائے کہ ہر منظر فن اور نظم و ضبط کا شاہکار لگتا ہے۔ کوریوگرافر کی ذہانت واقعی کمال ہے۔
عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔
چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔
اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔
اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔
اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔
کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے پیرس میں رہنا۔ شرمیلا فاروقی
سکھر کو روم اور کراچی کو پیرس بنا دیا ہے۔ بلاول زبردستی بھٹو
کراچی کی سڑکوں پر پیپلز پارٹی کے کام بول رہے ہیں۔ سعدیہ جاوید
کراچی کا موازنہ پاکستان کے شہروں سے نہیں، یورپ کے شہروں سے کیا جانا چاہئیے۔ ناصر حسین شاہ
کچھ بھی بولو جس ڈھٹائی اور بےشرمی سے یہ جھوٹ بولتے ہیں، ان چور، کرپٹ، بیغرتوں کو کانفیڈنس کے پورے نمبر دینا چاہئیے۔