"Zindagi ma mojzay faqat istasnaae soorat ma barpa hoty hain,apni zaat say uth kar aik Buland maqsad k liye paihum eesaar or paihum jaddojehad.
Kis kis ko eska yaara hy ? Kon kon es ka muda'ee ha ?
#HaroonRasheed#BestQuote@haroon_natamam
عاصم منیر نے جو جال بچھایا تھا، اسی تارِ عنکبوت میں وہ خود، ن لیگ اور پیپلز پارٹی بری طرح پھس چکے ہیں۔ یہ جماعتیں اپنی حیثیت جانتی ہیں۔ صوبے بن گئے تو ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں رہے گا۔
عاصم منیر تم کس کس سے لڑو گے؟ پٹھانوں سے لڑو گے؟ بلوچوں سے لڑو گے؟ کشمیریوں سے لڑو گے؟ سندھیوں سے لڑو گے؟ پنجابیوں سے لڑو گے؟ لڑ لو! نہیں ہرا سکتے!
عظمیٰ خانم، نورین خانم اور علیمہ خانم، آپ کا بھائی عمران خان، عاصم منیر کے اس دامِ فریب میں نہیں آیا۔ آپ مبارک باد کی مستحق ہیں۔
اس میں اس کی اپنی جرأت تو تھی ہی، کچھ ہم فقیروں کی دعائیں بھی شامل ہیں۔
تاریخ اپنا ��وڑ مڑ چکی ہے۔
'ہمت مرداں مدد خدا'
51th Day of Internet Lockdown in Kashmir.
Koi tha jo Kashmir k nam k chooran bechta tha, Kashmir ki azaadi or Rights ka so Called Champion, Kashmir k nam pr siyasat krny wala khuda k raazo ma sy ek raaz, koi tou tha , Kahan gya usy dhoondo.
#kashmir
🔴 چین میں اسکول کے بچوں کو ایسی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں جن میں روزانہ کی سخت محنت جیسے تعمیراتی کام اور کھیتی باڑی شامل ہوتی ہے، تاکہ بچے اپنے والدین کی قربانیوں کو سمجھ سکیں۔
@SyedMuzammilOFL Tum ghattya shakhs ho bs, pakkay munh sy jo tum philosopher bantay ho uski kisi ko zarurt ni hai, js level ki munafqat tumhary andar hai. Munafiq
آج صدر راولپنڈی، GPO چوک پر ایک عجیب منظر دیکھا، جو ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے
میں بائیک پر کھڑا تھا کہ دو خواتین نے ر��شہ بُک کیا۔ کرایہ طے ہونے لگا۔
رکشہ والے نے کہا: 250 روپے لگیں گے باجی
خواتین: نہیں بھائی، 200 سے ایک روپیہ اوپر نہیں دیں گی، بس!
کافی بحث کے بعد غریب رکشے والا 200 پر مان گیا۔ پسینہ بہا کر، محنت سے کمانے والا 50 روپے ہار گیا۔
خواتین رکشے میں بیٹھیں ہی تھیں کہ ایک بھکاری آ گیا۔ ہاتھ پھیلایا۔
اور بنا ایک لمحہ سوچے، اُن میں سے ایک خاتون نے پرس سے 100 کا نوٹ نکال کر اُسے دے دیا۔
میں یہ سب دیکھ کر بس سوچتا رہ گیا...
جس رکشے والے نے دھوپ میں جل کر آپ کو منزل تک پہنچانا تھا، اُس سے 50 روپے کے لیے جھگڑا کر لیا۔
اور جس نے صرف ہاتھ پھیلایا، اُسے 100 روپے فوراً دے دیے؟
یہ کیسی سوچ بن گئی ہے ہماری؟
محنت کی قیمت کم اور بھیک کی قیمت زیادہ کیوں ہو گئی ہے؟
کیا وہ رکشہ ڈرائیور اُس 100 روپے کا زیادہ حقدار نہیں تھا جس نے پسینہ بہانا تھا؟
کبھی کبھی لگتا ہے ہم ہمدردی غلط جگہ دکھا رہے ہیں۔ محنت کش کو اُس کا حق دو، عزت دو۔ بھیک نہیں، روزگار کو فروغ دو۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
اسامہ خان۔۔۔۔