معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ قریشی اموی آپ کا تعلق قریش کے عظیم قبیلہ بنو امیہ سے تھا۔ قریش ایک قدیم قبیلہ ہے جو آج بھی سعودی عرب کے حجاز کے علاقے میں آباد ہے۔ قریش نے ایسے ہیرو پیدا کیے جنہوں نے تاریخ میں اپنا نام لکھا اور آج تک ہیرو پیدا کر رہے ہیں۔
ہم مانتے ہیں کہ انیس سو سینتالیس میں ہم آزاد ہوئے، اناسی سال گزر گئے، انگریز چلا گیا، لیکن ذرا تاریخ کو تو پڑھو۔ اٹھارہ سو تین سے لے کر انیس سو سینتالیس تک اس آزادی کے لیے قربانیاں دینا، کہیں بالاکوٹ میں شہداء کا خون بہہ رہا ہے، کہیں شاملی کے میدان میں علماء کا خون بہہ رہا ہے، دہلی اور گردونواح میں ہزاروں مسلمان شہید ہو رہے ہیں۔ اس آزادی کی خاطر یہ میرے اکابر کی تاریخ ہے، تمہاری تاریخ نہیں ہے۔ پھانسیوں کا اگر چُوما ہے اس آزادی کے لیے، میرے اکابر، اور میرے بزرگوں نے چُوما ہے۔
اور ایک انگریز خود کہتا ہے کہ جب ہم نے ان مجاہدین کو توپوں کے سامنے کھڑا کرکے اڑانے کا فیصلہ کیا تو ہزاروں لوگوں میں ایک ایک سے ہم نے پوچھا، تنہائی میں،، اتنا کہہ دو کہ میرا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں، آپ کی جان بچ جائے گی۔ ہزاروں کے لوگ اڑ گئے، لیکن کوئی بندہ ہمیں نہیں ملا جس نے کہا ہو کہ میرا اس تحریک سے تعلق نہیں۔
کس بات پر تم میرے ساتھ مقابلہ کر رہے ہو؟ پاکستان اگر بنا ہے تو میرے اکابر کی قربانیوں کے نتیجے میں بنا ہے۔ آپ اس کو نظرانداز نہیں کر سکتے، آپ اس کی بے توقیری نہیں کر سکتے، اور اپنا منہ کلی کرکے میرے اکابر کا نام لینا۔ شراب سے بدبودار تمہارا منہ میرے اکابر کے خلاف زبان کھولتا ہے۔ شرم نہیں آتی تم لوگوں کو؟ مذاق سمجھ رکھا ہے۔
یاد رکھو، یہ جو ہم بیٹھے ہیں، یہ ان اکابر و اسلاف کے وارث ہیں۔ یہ ان مشن کے وارث ہیں جنہوں نے اگر انگریز کے سامنے سر نہیں جھکایا تو انگریز کے پالشیوں کے سامنے بھی ہم سب جھکنے کے لیے تیار ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
📍🇷🇺🇵🇰 NEW:
Putin congratulates Pakistan on Independence Day.
President Putin has sent his congratulations to Pakistan's leadership on the country's Independence Day, praising the "successful" development of Russian-Pakistani relations.
ایک بنگلہ دیشی مزارِ قائد پر پہنچا تو آنکھیں نم ہوگئیں… 💔🇵🇰
کراچی آنے والا ایک بنگلہ دیشی ویلاگر جب مزارِ قائد پہنچا اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قبر کے سامنے کھڑا ہوا تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
وہ رو پڑا… اور روتے ہوئے اس نے وہ بات کہہ دی جس نے ہر سننے والے کے دل کو چھو لیا:
"قائداعظم! آپ کے بعد ہم یتیم ہوگئے۔
جس طرح یتیموں کو دنیا ٹھکرا دیتی ہے، اسی طرح ہمیں بھی ٹھکرا دیا گیا۔"
یہ صرف ایک بنگلہ دیشی نوجوان کے آنسو نہیں تھے، بلکہ شاید ایک پوری نسل کے دل میں موجود یادوں، شکووں اور محبت کا اظہار تھا۔
تاریخ کے صفحات پر سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے جڑی یادیں آج بھی پاکستان اور بنگلہ دیش کے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
کبھی کبھی آنکھوں سے بہنے والے آنسو وہ بات کہہ دیتے ہیں، جو الفاظ نہیں کہہ سکتے۔ 🇵🇰❤️🇧🇩
⭕️ایران کی طرف سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کو بیٹی کی پیدائش پر مبارکباد کا ایک مختلف پیغام
📝ارمینیا میں ایران کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کی بیٹی کی پیدائش پر ردعمل میں لکھا:
🔥"تمہیں مبارک ہو۔
💢بچے معصوم اور پیارے ہوتے ہیں۔ وہ 168 بچے جو تمہارے باس نے میناب کے ایک اسکول میں شہید کیے اور تم نے وجہ تراشی، وہ بھی بچے تھے۔
‼️جب تم اپنی بیٹی کو بوسہ دو تو ان بچوں کی ماؤں کے بارے میں بھی سوچنا۔"
شیخ ادریس رحمة اللہ علیہ کی شہادت پو وفاق کی،مذمت، صوبے،انکوائری، اور سہولت کاروں کی،خاموشی، بتاتی ہے کہ یہاں صرف قاتل آزاد ہے۔ باقی سب تو ڈیوٹی پر ہیں۔
ملک میں فحاشی و عریانی کے بڑھتے رجحانات باعثِ تشویش ہیں۔ آزادی کے نام پر اخلاقی حدود کو پامال کرنا معاشرتی بگاڑ کو جنم دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا، تعلیمی ادارے اور معاشرہ مل کر ایسی اقدار کو فروغ دیں جو حیا، وقار اور مثبت کردار سازی کو مضبوط کریں۔
اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو اس کے منفی اثرات آنے والی نسلوں پر مرتب ہوں گے
ایک سال میں 4 بڑی علمائے کرام شہید ان شہید علماء کا زمہ دار کون ہے ریاست سے سوال؟
جواب! پہلے دائش پھر بھارت اور اب ٹی ٹی پی یہ چورن کب تک ریاست سنائے گا؟
انڈیا میں سب سے بڑا دارلعلوم دیوبند موجود ہے کبھی سنا ہے کہ کوئی عالم ادھر شہید ہوا ہو؟
پختونخوا میں مفتی منیر شاکر ,مولانا حامد الحق مولانا خانزیب اور مولانا محمد ادریس صاحب جیسے کئ جید علماء شہید ہوئے
احر کب تک ہمارے پحتون لوگوں کا خون بےدردی سے بہایا جائے گا ؟
شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب پشتو زبان کے مفتی اعظم سمجھے جاتے تھے۔
جامعہ نعمانیہ اتمانزئی کے سالانہ جلسے میں اسٹیج پہ زیارت اور مصافحہ کا موقع ملا تھا، غالبا مہتمم ادارہ مولانا حسن کے بیٹے نے تعارف کروایا تو بہت خوش ہوئے پیار سے منہ پہ ہاتھ پھیرا اور دعائیں دی۔
میں اپنے پشتو بولنے والے دوستوں سے کہا کرتا تھا کہ انکے ساتھ زیادتی یہ ہے کہ انکو صرف پٹھانوں تک محدود رکھا ہوا ہے، اردو زبان میں بھی انکے بیانات ریکارڈ کروانے چاہیے تاکہ پاکستان کے دیگر لوگوں سے اتنی بڑی شخصیت کا تعارف ہونا چاہیے۔ کئی دفعہ نعمانیہ چارسدہ کا پروگرام بنا اور کینسل ہوا۔ وہاں جانے کی ایک بڑی وجہ مولانا ادریس تھے کہ ان سے انکی زندگی کے حوالے سے انٹرویو کروں گا لیکن ہم لیٹ ہو گئے اور مولانا اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔
خدا غرق کرے تباہ و برباد کرے ان دین دشمنوں کو جنہیں قرآن حدیث کا علمبردار ستر سالہ بزرگ چلتا پھرتا اچھا نہیں لگا اور اسے خون میں نہلا دیا ۔
اور میں علی ہلال سے اتفاق کرتا ہوں کہ شیخ ادریس کی شہادت ریاست کی ذمہ داریوں پر بہت بڑا سوال بنے گی۔ پشتون معاشرے میں جینے والے علماء کو ریاست کے ساتھ وفاداری اور صرف چند بول کی کس قدر بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ پھر بھی خیبر پختونخوا کے علماء اور مذہبی طبقے کو وہ توجہ، سہولیات اور پروٹوکول نہیں دیا جارہا جو کراچی اور اسلام آباد کے علماء کو میسر ہے۔
شیخ ادریس کے قتل کیس میں سب سے پہلے ان تمام پشتون یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو حراست میں لیا جائے جنہوں نے شیخ الحدیث کے پاکستانی فوج کی تعریف کرنے کے بعد محاذ کھولا تھا۔ یہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے وگرنہ کل کو خیبرپختونخوا کے کسی عالم دین سے شکوہ کرنے کا جواز باقی نہیں رہے گا۔
عمار خان یاسر
شیخ ادریس صاحب شہید رح نے ایک طالب علم کو فرمایا
کے مجھے ہر رات خواب میں جناب ابوبکر صدیق رضی کی دیدار ہوتی ہیں اور میرے خواب میں اکر فرماتا ہیں کے فلاں طالب علم کو بتاؤ کے جب بخاری شریف درس میں اتے ہو تو خوشبوں لگایا کرے
پچھلے ایک سال کے دوران کئی علماء کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ترلائی کلاں میں امام بارگاہ پر بھی حملہ ہوا صاف نظر آ رہا ہے کہ مکار دشمن پاکستان کے مسلمانوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر آپس میں لڑانے کی سازش کر رہا ہے پاکستانیوں کو فرقہ واریت پھیلانے والوں سے ہوشیار رہنا چاہیئے