پہلے مردوں سے دوستیاں کرو تعلقات بناؤ ان سے مہنگے مہنگے تحائف لو،ان کے اس پیسے پر عیاشیاں کرو جس پیسے پر فقط ان کی بیوی ان کے بچوں اور ان کے والدین کا حق ہوتا ہے،،جانتے ہووئے کہ وہ شادی شدہ ہے پھر جب دال نہ گلے تو کہ دو دھوکہ دے گیا مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کچھ۔۔۔عجیب عورتیں ہیں
پیرا فورس کو مزید ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے اور انہیں ٹک ٹاک سے نکل کر حقیقی دنیا میں آنا ہو گا، یہ ٹک ٹاک بنانے کی خاطر جو سٹور رولز فالو کر رہے ہیں انہیں بھی وارننگ دے رہے ہیں
اس پوری ویڈیو میں پیرا فورس آفیسر نے سر توڑ کوشش کی کہ کوئی قانون شکنی ڈھونڈے لیکن وہ مکمل ناکام رہی اور یہ کہہ کر وارننگ دے دی کہ DCایریا کو مزید بہتر کریں لیکن بہتر کیا کریں یہ نہیں پتا
پاکستان میں ہزاروں سٹور اور مارکیٹ ایسے ہیں جو قانون کو فالو نہیں کرتے انہیں سدھارنا چاہیے اور جو فالو کر رہے ہیں انہیں شاباش دینی چاہیے
یہ جو بھی سپر مارکیٹ یا سٹور تھا ان کے مینجرز بہترین کام کر رہے تھے اور آفیسر کے پاس کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ وارننگ دیتی
یہ وہ جدون خان ہے جس نے اپنی کرسی اور اپنے خلاف خواتین کو جنسی ہراساں کرنے پر یہ سارا ڈرامہ کروایا ہے کل اس لڑائی کے وقت یہ موقع پر موجود تھا اس کے لائے غنڈوں نے ڈاکٹر آئینہ کو یرغمال بنایا ہوا تھا اب سنا ہے یہ کہیں روپوش ہوا ہے
آج آزاد ڈیجیٹل کے صحافی شاہد قریشی سرحد یونیورسٹی کے باہر رپورٹ کر رہے تھے جب پروفیسر جدون نامی افغانی قوم پرست کے لوگوں نے انکو اغوا کیا اور چار گھنٹے یونیورسٹی میں قید رکھا
یہ سارا گند افغانی قوم پرستوں کا پھیلایا ہوا ہے، ریاست کو ان بیشرموں کے خلاف سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے
اگر وردی کے اندر کوئی دوسرے کی بیٹی بہن بچی بیوی کی عزت کی خاطر جان دے سکتا ہے تو کوئی وردی اپنی فیملی کی عزت کےلئے ہوائی فائر کر کے تمیز سکھا سکتا ہے کوئی فوجی، جج وکیل ڈاکٹر سیاستدان صحافی باپ شوہر اور بھائی بھی ہوتا ہے اگر مسلئہ عزت کا ہو تو تو ریکشن یکساں ہوتا ہے
اب جبکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ڈاکٹر آئینہ سنگین ہراسانی کی متاثرہ خاتون ہیں اور اپنے شوہر لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی کو انہوں نے فون کر کے یونیورسٹی نہیں بلوایا تھا (مکمل ثبوتوں کیساتھ تفصیل میرے گزشتہ ٹویٹ میں پڑھئیے جانئیے) اور یہ کہ غلطی کرنل اسفند کی نہیں بلکہ اس جھنڈ کی تھی جو جدون خان نے ڈاکٹر آئینہ کیخلاف پلاننگ کر کے اکٹھا کیا اور کرنل اسفند نے جو کیا اپنی اہلیہ کی جان عزت بچانے اور سیلف ڈیفنس میں کیا، سو کرنل اسفند کیخلاف کوئی کاروائی نہیں ہونی چاہئیے بلکہ جو اصل ملزمان ہیں ان کی سخت پکڑ ہونی چاہئیے۔ اس ملک میں پہلے ہی ہراسانی کا شکار خواتین کس ظلم اور اذیت کا سامنا نہیں کرتیں اور اب اگر ہراسانی سے بچانے والوں کیخلاف کاروائی ہوئی تو خواتین کی حفاظت کرنا ہی جرم بن جائے گا ۔۔۔۔۔۔
لیفٹینٹ کرنل اسفند کیس کا مرکزی مجرم جدون خان جس کا تعلق بنوں سے ہے تنخواہ پاکستان سے لیتا ہے اور جھنڈے افغانستان کے لگاتا ہے۔ ایسے حرامخوروں سے استاد کا منسب لے لینا چاہیے۔
جیسا یہ استاد تھا ویسے ہی اس نے طالب علم بنائے ہوں گے۔ بہت ہو گیا حرام خوروں کو پالنا، ان کی ب پر لات مار کر افغانستان بھیجو سب کو
ایک فوجی افسر اپنی اہلیہ کی عزت اور حفاظت کے لیے چند غنڈوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے—یہی ہے غیرت، حوصلہ اور فرض کی اصل مثال
اپ کس کے ساتھ ہیں اپشن تصویر میں موجود ہیں
I am deeply saddened by the tragic loss of lives at the Sorange coal mine in Balochistan. My sincerest condolences go to the families of the victims and I wish all the injured a quick recovery.
@MurtazaViews اس عورت کو چھتر کیوں نہیں ما رہی گورنمنٹ ۔ پوری دنیا کہے کہ انڈیا کی بج گئ مئ میں اور پی ٹی آئی والے یہ بکواس کریں۔ لعنت ہے ایسی سیاست پر