کافی سوچ بچار میں ہوں کہ بیرسٹر صاحب نے یہ والا ٹویٹ کیوں کیا؟
آج عملی سیاست میں سب کھیل بیانیے کا ہے. ریاست نے ویسے ۲۸ مئی کو کبھی ایسے اپنایا بھی نہیں اور ہر دفعہ ۲۸ مئی ن لیگ کے بیانیے کا حصہ رہا.
یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ایٹمی طاقت ہونا الگ بات ہے اور کسی اور کے سیاسی بیانیے کو پروان دینا کچھ اور.
آج آپ کی جماعت کے بانی اور راہنما ریاست کی ناحق قید میں ہیں، عدالتی نظام آبپارہ کی باندی بنا ہوا ہے بانی کی اہلیہ جنہیں محض ذاتی انتقام کی خاطر جیل میں بند کیا گیا اور اور اب گھنٹوں انکے سیل کی بجلی بند رکھی جاتی ہے ،
ایٹمی قوت بننے پہ ایسے ٹویٹ سے زیادہ اھم ضرورت اسوقت تسلسل کے ساتھ ان حالات کو اجاگر کرنے کی اور قوم کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ لیڈر اور اسکے اہل خانہ کی قید اور ان پہ جاری ”تشدد“ دراصل انکو توڑنے اور یزید کے آگ سر جھکانے پہ مجبور کرنے کے لیے ہے.
میری ذاتی راے میں تو ۲۸ مئی کے دن بھی قوم کو یاد دلانا بنتا ہے کہ ملک کے سابق وزیراعظم اسوقت ریاست کے بدترین انتقام اور ظلم کا نشانہ بنے ہوے ہیں اور جماعت کے ہر عہدیدار کو اسکے سوا کچھ بھی اور کہنے اور کرنے کی فرصت ہی نہیں ہونی چائیے
میری راے تو صرف اس حد تک ہی تھی آپ سب لوگ اپنی راے ضرور دیں ہمارے کومنٹس کھلے ہیں
اگر تم ہمارا پانی بند کرو گے ہم تمھارا سانس بند کر دیں گے- ڈی جی آئی ایس پی آر
میرے نزدیک مودی نے اگر ہمارا پانی بند کیا ہے تو کوئی بڑی بات نہیں احسن اقبال
قوم ناجائز حکمران مسلط کرنے والوں کو سلام پیش کرتی ہے🫡
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی گفتگو (۲۷ مئی ۲۰۲۵)
“جیل قوانین کے تحت میری اہلیہ بشریٰ بیگم سے ہفتے میں 30 منٹ کی ایک ملاقات طے ہے لیکن وہ بھی کئی روز سے نہیں کروائی جا رہی۔ آج بھی شیڈول کے مطابق ملاقات تھی جو نہیں کروائی گئی۔ بشریٰ بیگم کو 13 ماہ سے صرف مجھے اذیت دینے کے لیے قید میں رکھا گیا ہے حالانکہ ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوسکا۔
یہ کچھ بھی کر لیں میں ان کی فرعونیت کے سامنے نہ جھکوں گا نہ ہی کوئی ڈیل کروں گا۔
میری سلمان اکرم راجہ کے لیے خصوصی ہدایت ہے کہ ہائی کورٹ میں جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی جائے-
آپ تمام لوگ تیار رہیں، جلد ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔”
عمران خان کے کل مودی اور آر ایس ایس کے خلاف دو ٹوک بیان کے بعد پنجاب حکومت نے آج عمران خان @ImranKhanPTI کی بچوں سے وٹس ایپ کال کو معطل کرنے کی درخواست جمع کروا دی۔
وزیراعلی پنجاب اپنے والد کے عزیز دوست کیخلاف کوئی بات نہیں سن سکتی
Video : https://t.co/JRuqGUziDR
"تحریک انصاف سے سیز فائر نہیں ہوسکتا، جو کام مودی نہیں کر سکا وہ پی ٹی آئی نے کیا، مودی نے تو جی ایچ کیو پر حملہ نہیں کیا تھا، ہمارے شہدا کے مجسمے نہیں گرائے تھے، میں تو حالیہ بھارتی حملوں میں شہید ہونے والے جوانوں کا قرض نہیں اتار سکتا"۔ حنیف عباسی