پاکستانی قوم کے اخلاقی زوال کا بدترین لمحہ کون سا تھا؟
شاید وہ جب وزیراعظم شہباز شریف نے عصرحاضر کے فرعون ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے دور کا عظیم ترین لیڈر قرار دیا تھا۔اس کی درازی عمر کی دعا کی تھی۔
یہی نہیں فرعون کے لیے قیام امن کا سب سے بڑا اعزاز بھی تجویز کیا۔
پستی کی انتہا یہ کہ قوم اس پہ خاموش رہی۔ پورا عالم اسلام خاموش رہا۔ 😟
ہارون الرشید
انٹرنیشنل کمیونٹی، مسلسل عمران خان کے لیے آواز اٹھا رہا ہے!
انٹرنیشنل اسپورٹس مین اور انٹرنیشنل میڈیا بھی عمران خان کے ساتھ جاری غیر انسانی سلوک کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں! عمران خان کوئی نواز شریف نہیں، نہ ہی کوئی زرداری، وہ عمران خان ہیں، پوری دنیا عمران خان کو جانتی ہے,
بریکنگ نیوز 🚨نوجوان شایان علی چھا گیا، جرنیلوں کی رکھیل، وظیفہ خور، سفین�� گشتی کو دھو کر رکھ دیا 🔥🔥
سفینہ کا سوال : شایان علی آپ نے ڈگری مکمل کر لی ہے، تعلیم نے آپ کا کچھ نہیں بگاڑا، آپ پھر پروٹیسٹ کرنے آ گ��ے۔
شایان کا جواب : میں نے LLB کر لیا ہے آرٹیکل 10 اور 11 مجھے یہ حق دیتا ہے۔
سفینہ : آپ پاکستاں کیوں نہیں جاتے؟
شایان : کیونکہ میرا نام PCL میں ہے۔
سفینہ : آپ کی وجہ سے یہ تماشے لگتے ہیں۔
شایان کا کرارا جواب : یہ تماشے نہیں، یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ تم بس اپنا کام چلاتی رہو، وظیفہ انجوائے کرو۔ مزے لوٹو، حرام خور۔
عمران خان جمائمہ سے شادی کرنے لندن آئے تو میرے گھر ٹھہرے ان کے پاس 1 چھوٹا سا بریفکیس تھا جب کھولا تو اس میں بغیر استری کئے صرف 2 جوڑے نکلے میں نے خان صاحب سے کہا آپ ایک ارب پتی لڑکی سے شادی کرنے آئے ہیں تو یہ کیا ہے؟
عمران خان نے کہا چیکو تم بدلو گے نہیں انسان باہر سے نہیں اندر سے پہچانا جاتا...
جب انکے کپڑے لٹکا رہا تھا تو میر�� آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے...
عمران خان کا دوست :-
باقیوں کا پتہ نہیں لیکن یقین کرو سوشل میڈیا نے اپنے لیڈر عمران خان کے ساتھ وفا کی ہے۔
چاہے کسی کا اکاؤنٹ بڑا تھا یا چھوٹا سب نے اپنی جگہ وفا نبھائی ہے۔۔۔۔
شکریہ پاکستانیوں۔۔۔۔۔
❤️
کبھی سنا کرتے تھے کتابوں میں اور ڈراموں میں اور فلموں میں کہ ایک طوائف اچھے گھروں کو برباد کر دیتی ہے
یہاں تو ایک طوائف نے ملک کو برباد کر دیا اور اس کا ساتھی ہے برٹش جنرل اسرائیلی جنرل
جنرل عاصم منیر کی قید میں عمران خان کے تین سال👇🏽👇🏽
پہلےجنرل باجوہ اور ندیم انجم نے اور پھر ندیم انجم اور جنرل عاصم منیر کی جوڑی نے عمران خان کو فتح کرنیکی کوشش کی، ناکامی کے بعد انہیں توڑنے کی کوشش کی ہر حربہ ہر ظلم کیا گیا یہاں تک کہ خان کو توڑنے کیلیے اڑھائی سو جھوٹے مقدمات درج کیے گئے
جنرل باجوہ ندیم عاصم کو یقین تھا کہ نواز زرداری شہباز مریم محترمہ بینظیر کی طرح عمران خان بھی NRO مانگےگا سرنڈر کرےگا رہائی اور اقتدار کی فریاد کرے گا لیکن انکی یہ حسرت پوری نہ ہوئی
خان کو اٹک جیل کی کال کوٹھڑی میں میں کیڑے مکوڑے مٹی کیچڑ زدہ فرش پر لٹایا گیا دال روٹی دی گئی
جنرل عاصم منیر کو یقین دلایا گیا تھا کہ سر صرف سات دنوں میں یہ آپ کے قدموں میں ہوگا یہ نشہ کرتا ہے ہم انکا نشہ بند کردینگے وہ تڑپے گا اور پتا چلا کہ نشہ کرنے والی اطلاع غلط ہے اور خان نے جیل میں صرف ایکسرسائز والی سائیکل مانگی
اٹک سے اڈیالہ منتقل کیا گیا تین سالوں میں کم از کم تین سو مرتبہ خان کو توڑنے کی کوشش کی گئی امریکہ برطانیہ عرب ممالک سے لوگوں کو بلا��ر جیل بھیجا گیا خان کی فیملی کو توڑنے کی کوشش کی گئی
پارٹی راہنماؤں کو وکلا کے ذریعے کوشش کی گئی لیکن ندارد ۔۔ پھر فسطائی حربے قید تنہائی ، روشنی بند ، پانی بند، بجلی بند کرکے اور بچوں بہنوں سے ملاقاتیں بند کرکے بھی دیکھ لیا لیکن جنرل صاحب کی حسرت پوری نہ ہوسکی
عمران خان دشمنی میں جنرل صاحب کا تین سالہ ٹینور مٹی میں مل گیا
پھر آئین توڑا گیا عدلیہ توڑی گئی فوج کا انتظامی مشاورتی ڈھانچہ مسمار کیا گا فیلڈ مارشل سے سالار اعظم بنے پانچ ستارے سجائے تاحیات تاوفات استثنی لینا پڑا اور پانچ سالہ نئی ملازمت
اور تین سال آٹھ ماہ بعد سرعام اپنی شکست کا اعلان کرنا پڑا کہ سسٹم کولیپس کرگیا
اور عمران خان ختم شُد سے سسٹم تباہ شُد تک نوبت آچکی ہے
عوام عمران خاں کے ساتھ ہیں وہ قید میں بھی عزت شہرت استقامت سے مالامال ہے اور جنرل صاحب GHQ میں بیٹھ کر بھی خوفزدہ، انکے اب تک کے تمام منصوبے ناکام ہوچکے ہیں
بیشک سب سے بڑا منصوبہ ساز اللہ تعالیٰ ہے
چیف جسٹس تمہارا
آئینی عدالت کا سربراہ تمہارا
صدر تمہارا
وزیراعظم تمہارا
وزیر خزانہ تمہارا
وزیر داخلہ تمہارا
الیکٹرانک میڈیا تمہارا
منیب، غریدہ، منصور تمہارے
خود تم ٹرمپ کے فیورٹ فیلڈ مارشل
ہر ادارے میں ریٹائرڈ جرنیل بھی تمہارے
اور سسٹم پھر بھی بیٹھ گیا۔
اور پھر دشمنوں سے پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہورہی 🤣
سب کچھ تمہارا ہے اور خدا ہمارا ہے ۔۔۔۔۔
شوباز، عمران خان نے تو وزیراعظم بنتے ہی کہا تھا جو حلقہ کھولنا ہے، کھول لو اور الیکشن 2018 کی تحقیقات کرا لو، تب بھی تم بھگوڑے ہوئے۔ 2018 سے پہلے 1985 سے تح��یقات شروع کرو جب مارشل لاء کے گملے میں تمہاری پنیری لگائی گئی یا 1990 سے، جب پیسے تقسیم کرکے چھانگا مانگا متعارف کرایا تھا