Do not earn through falsehood;
come closer to Allah, O Lord.
May your prayers come from the heart,
may your love remain sincere and true.
Keep love alive within your heart,
and do not let silence become a burden.
Come to me in that way,
so that the path may become easier.
— Shah
“You are the one who satisfies the thirsty heart,
You are the beloved,
You are the beautiful Creator of all creation,
You are the seeker of this soul.
Shah
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
غالب کی فارسی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی غزل جس کا صوفی غلام مصطفٰی تبسم نے پنجابی میں ترجمہ کر کے اس غزل کو لازوال بنا کر کمال کر دیا اور استاد غلام علی خان نے اسے گا کر امر کر دیا۔
زمن گَرَت نہ بُوَد باور انتظار بیا
بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا
میرے شوق دا نہیں اعتبار تینوں ، آ جا ویکھ میرا انتظار آ جا
اینوں لڑن بہانڑے لبھنا ایں ، کیہ توں سوچنا ایں سِتمگار آ جا
وداع و وصل جداگانہ لذّتے دارَد
ہزار بار بَرَو ، صد ہزار بار بیا
بھانویں ہجر تے بھانویں وصال ہووے ، وکھو وکھ دوہاں دیاں لذتاں نیں
میرے سوہنیا جا ہزار واری ، آ جا پیاریا تے لکھ وار آجا
رواجِ صومعہ ہستیست ، زینہار مَرَو
متاعِ میکدہ مستیست ، ہوشیار بیا
ایہہ رواج اے مسجداں مندراں دا ، اوتھے ہستیاں تے خود پرستیاں نیں
میخانے وِچ مستیاں ای مستیاں نیں ، ہوش کر ، بن کے ہُشیار آ جا
تو طفل سادہ دل و ہمنشیں بد آموزست
جنازہ گر نہ تواں دید بر مزار بیا
تُوں سادہ تے تیرا دل سادہ تینوں اینویں رقیب کُراہ پایا
جے تُوں میرے جنازے تے نہیں آیا ، راہ تکدا تری مزار ، آ جا
حصار عافیَتے گر ہوس کُنی غالب
چو ما بہ حلقۂ رندانِ خاکسار بیا
سُکھیں وسنا جے تُوں چاہو نا ایں میرے غالبا ایس جہان اندر
آجا رنداں دی بزم وِچ آ بہہ جا ایتھے بیٹھ دے نیں خاکسار آ جا
یہ کلپ ہزاروں تولہ سونے سے بھی قیمتی ہے
اس کو سمجھیں اور سیریس ہوجائیں
ورنہ ہمارے بچے قیامت کے دن ہمیں جہنم کی طرف دھکیلنےکا سبب بن جائیں گے
بلکہ اس راستہ پے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
خاکپائے صحابہ و اہلبیت
یہ کلپ ہزاروں تولہ سونے سے بھی قیمتی ہے
اس کو سمجھیں اور سیریس ہوجائیں
ورنہ ہمارے بچے قیامت کے دن ہمیں جہنم کی طرف دھکیلنےکا سبب بن جائیں گے
بلکہ اس راستہ پے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
خاکپائے صحابہ و اہلبیت
💕❤️حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرامؓ *مکہ کی تپتی دھوپ میں طویل پیدل سفر کی وجہ سے شدید تھک گئے۔ انہوں نے اللہ کے رسول سے اس تھکن اور مشقت کی شکایت کی۔آپ نے آرام کرنے یا رکنے کا نہیں کہا، بلکہ ایک حیرت انگیز سائنسی اصول بتا دیا *💕❤️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں اُن کو خوشخبری سنادو.
سورۃ البقرۃ
اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں اُن کو خوشخبری سنادو.
سورۃ البقرۃ
Hazrat Aisha Siddiqah (my Allah be pleased with her) narrated that in Madinah, we would preserve the meat of the sacrifice by salting it and then present it to the service of the Massenger of Allah (peace and blessings).