Aashiq e Ehl e Bait AS❤Faqeer e Hussain Badshah SA💕Masters in English Literature📚Freelance's Student📒0ptimist💗One day, I am going to make the onions cry.
تصوف یہ نہیں کہ لوگ نہ بدلیں...
تصوف یہ ہے کہ
لوگ بدل جائیں،
اور تمہارا دل پھر بھی نفرت نہ سیکھے۔ ♥️🌸
Tasawwuf (Sochna) yeh nahi ke log na badlein...
Tasawwuf yeh hai ke
log badal jaayein,
aur tumhara dil phir bhi nafrat na seekhe. 🌸♥️
#UrduShayari#SufiThoughts#Poetry
ہم نے دل کھول کر چاہا تھا...🖤 🥀
قصور بس اتنا تھا،
جسے احساس کم تھا،
اُسے محبت زیادہ دے بیٹھے۔ ❤️🙃
Hum ne dil khol kar chaha tha... 🖤🥀
Qusoor bas itna tha,
jise ehsaas kam tha,
use mohabbat zyada de baithe. ❤️🙃
#UrduShayari#Mohabbat#Poetry
ہر آرزو کا پورا
ہونا ضروری تو نہیں،
کچھ حسرتیں بھی
انسان کو انسان رکھتی ہیں۔ 🌸🌷
Har aarzoo ka poora
hona zaroori to nahi,
Kuch hasratein bhi
insaan ko insaan rakhti hain. 🌸🌷
#UrduShayari#Hasrat#Life#Poetry
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اگر تم اللہ پر ایسا بھروسا کرو جیسا کہ اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے ہوئے واپس آتے ہیں۔
مجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ لوگ اس بات پر مکمل یقین کر چکے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کی زندگی میں محض چند لمحوں کے لیے ہیں، اور ہم ایک دوسرے کے لیے سبق کی مانند ہیں جس سے ہم سیکھتے ہیں، اب کوئی بھی دوسرے کی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے کوشش نہیں کرتا، ان کے پاس بس یہی کچھ ہے کہ وہ اپنے سامنے والے کو کھو دیں اور خود کو یہ یقین دلا دیں کہ وہ ان کی زندگی میں صرف اس لیے آئے تھے تاکہ وہ ان سے کچھ سیکھ سکیں، اور بس بات ختم۔
اہم ہونے کا وہم🥀
وہم کی بانہوں میں
ہم نے خود کو یوں سمیٹا
جیسے سرد رات میں کوئی بچہ
اپنے ہی بازوؤں کو ماں سمجھ لے۔
ہم نے نام دیے—
ضرورت، محبت، تقدیر—
اور ان ناموں کے نیچے
اپنی کمیوں کو دفن کرتے رہے۔
ہر دھڑکن کو دلیل بنایا،
ہر انتظار کو عبادت،
حالانکہ دل کے کسی خاموش گوشے میں
ایک سچ سانس لے رہا تھا—
مدھم… مگر ضدی۔
پھر ایک دن
خیال کی پیشانی سے پسینہ ٹپکا،
اور آنکھ نے پہلی بار
خود کو دیکھا۔
جو سب سے زیادہ درکار تھا
وہ کوئی شخص نہیں تھا،
نہ کوئی آغوش، نہ وعدہ—
وہ ایک اندرونی ٹھکانہ تھا
جہاں ہم نے کبھی قیام ہی نہ کیا۔
ہم باہر کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے،
اور اندر کا کمرہ
سالہا سال بند رہا۔
تب سمجھ آیا—
وہم کی سب سے نرم بانہیں بھی
آخرکار چھوڑ دیتی ہیں،
مگر جو خلا ہم اپنے اندر چھوڑ دیتے ہیں
وہی سب سے زیادہ آواز کرتا ہے۔