POTUS is absolutely right. Whoever provides secure and safe passage of commercial vessels through the Strait of Hormuz should be compensated for this service.
Iran has always been the GUARDIAN of the Strait and will remain so FOREVER.
20% is of course too much. We will be fair
یہ بات کہنا غلط ہے کہ آپ کو پاکستان میں رہنا ہے یا پاکستانی ہیں تو آپ کو دوسروں کے معاملات میں دخل نہیں دینا چاہیئے، اس ملک سے کسی کو اگر جانا ہے تو انہیں جانا ہے کہ جو پہلے امریکہ کا نعرہ لگا رہے ہیں، ہم پہلے پاکستانی ہیں اس سے پہلے مسلمان ہیں اور اس سے پہلے انسان ہیں۔
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کی انتہائی سلجھی اور سچی باتیں۔
#IranIsraelWar
#FascismUnderAsimLaw
@fawadchaudhry وہ بیسمنٹ میں رہتے ہوں یا کہیں اور، کم از کم آپ کی طرح بھاگنے والے نہیں ہیں
آپ نے واقعی حد پار کر دی تھی۔ ٹویٹ کرنے سے پہلے آپ کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے
بے شرم انسان
@fawadchaudhry خبیث، لعین انسان ان کے جسم مبارک میں تیرے جیسا ناپاک خون نہیں بہتا، بلکہ یہ استعماری قوتوں کے سامنے نہیں جھکتا- تم کیا جانو عزت کی موت اور عزت کی ذندگی، یہ صرف علی والے جانتے ہے بے غیرت انسان
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے روس فرار ہونے کی تیاری کی بے بنیاد خبریں دراصل مغربی میڈیا کی ایران مخالف نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں لیکن پاکستانی میڈیا بالخصوص اے آر وائی کا اس پروپیگنڈے کا حصہ بننا سمجھ سے بالاتر اور افسوس ناک ہے۔
حال ہی میں ایک اسرائیلی رائٹر کی جھوٹی، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی کہانیوں پر جس طرح پاکستانی میڈیا کے مختلف گروپس نے یک زبان ہو کر دنیائے اسلام کے عظیم رہبر، مظلومینِ جہاں کی امید اور کروڑوں مسلمانوں کے روحانی پیشوا، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ، کے خلاف ہرزہ سرائی کی، اس نے تمام نقاب نوچ ڈالے۔اب یہ حقیقت کسی پردے میں نہیں رہی کہ یہ ادارے صحافتی نہیں بلکہ مغرب اور اسرائیل کے پراکسی وار کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ حملہ کسی ایک شخصیت پر نہیں تھا، بلکہ مزاحمت، خودداری اور اسلامی شعور کے خلاف ایک منظم فکری یلغار تھی۔
اگر پاکستانی میڈیا کی اخلاقی پستی کا کوئی واضح ثبوت درکار ہو تو موجودہ حالات خود ایک زندہ دستاویز ہیں۔ اس ملک کے عوام مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور ناانصافی کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر نام نہاد قومی میڈیا پر ایک پراسرار اور مجرمانہ خاموشی طاری ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل، ان کی چیخیں، ان کی محرومیاں اور ان کی جدوجہد اس میڈیا کے طے شدہ ایجنڈے سے مکمل طور پر خارج ہو چکی ہیں۔
پاکستان کی مقبول ترین سیاسی شخصیت عمران خان کا نام لینا جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ عوامی رائے، جمہوری شعور اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کا قتل ہے۔ جس شخص کو کروڑوں عوام نے ووٹ دیا، جس کی سیاست سے اختلاف بھی ممکن ہے، مگر اس کے وجود ہی سے انکار یہ صحافت نہیں، یہ فکری پستی اور اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
دوسری جانب غزہ میں کھلی اور منظم نسل کشی جاری ہے۔ بچوں کی لاشیں، ماؤں کی آہیں، تباہ شدہ اسپتال اور ملبے میں تبدیل مساجد، مگر پاکستانی میڈیا کی زبان گنگ ہے۔ اسلامی مزاحمتی مجاہدین کا ذکر آتے ہی غیر جانبداری کا مصنوعی لبادہ اوڑھ لیا جاتا ہے، گویا مظلوم اور ظالم کے درمیان کوئی فرق ہی باقی نہیں رہا۔ یہ کیسی صحافت ہے جو ظلم کے سامنے غیر جانبداری کو اصول بنا لے؟
خطے میں کفر اور اسلام کی کشمکش ایک کھلی حقیقت ہے، مگر ہمارا میڈیا اس پر بات کرنے سے نہ صرف کتراتا ہے بلکہ جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے۔ فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کو لائیو دکھایا جاتا ہے، اس کے بیانات کو بغیر کسی سوال اور تنقید کے نشر کیا جاتا ہے، مگر مظلوم فلسطینی کی آواز سنانا میڈیا کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
یہ میڈیا اب نہ عوام کا ترجمان ہے، نہ مظلوم کی آواز، نہ حق کا علمبردار۔ یہ کارپوریٹ مفادات، عالمی طاقتوں کے مسلط کردہ بیانیے اور مقامی اسٹیٹس کو کا محافظ بن چکا ہے،صحافت کا وہ مقدس پیشہ، جس کا مقصد سچ بولنا، سوال اٹھانا اور طاقت کو جواب دہ بنانا تھا، آج منافع، خوف اور ایجنڈے کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔
سچ یہ ہے کہ جس دن میڈیا نے حق اور باطل کے درمیان فرق مٹا دیا، اسی دن اس نے خود کو صحافت کے دائرے سے خارج کر لیا۔ آج عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل جنگ صرف میدان میں نہیں، بلکہ بیانیے کی ہے، اور اس جنگ میں پاکستانی میڈیا کا بڑا حصہ بدقسمتی سے عوام کے ساتھ نہیں بلکہ طاقتور عالمی مفادات کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
My sympathies for the people of Pakhtunkhwa. Another cult worshipper is elected CM. This is his first address for the people of a province getting consumed by unemployment, t3rr0rism, illiteracy & T@L-b@nization. Choosing clowns as CM’s has been a permanent for Khan.