یہ ھیں مفتیان دین
تازہ فتوی:
یمنی حوثیوں کےخلاف جھادفرض ھے
ویسے
غزہ میں اسرائیلی صھیونی درندوں نے۸۰ ھزارمسلمانوں کوقتل اور۲۰ھزارمعصوم بچوں کےچیتھڑےفضامیں اڑادئے،لیکن نہ اسلام کوخطرہ تھا،نہ اسرائیل کےخلاف کسی مفتی کوایک لفظ بولنےکی توفیق ھوئی،پہلےروزسےیہ نسل ایسا ہی کرتی آئی ھے
🚨میں آپ کو ایران اور پاکستان کے عوام میں ایک بہت بڑا فرق بتاتا ہوں۔
ایران میں عوام جب کسی سرکاری عہدے دار (سولین یا عسکری) کے پاس کوئی بڑی گاڑی دیکھتے ہیں تو شدید نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس نے اپنی محدود تنخواہ میں یہ گاڑی کیسے لی۔ اس کا لائف اسٹائل عوام سے بہتر کیونکر ہوا؟
اس لئے اگر کوئی سرکاری عہدے دار یا سیاست دان کسی بھی طرح سے کوئی لینڈ کروزر، پیجارو، Nissan SUV، BMW لے بھی لے تو اس کی جرائت نہيں ہے کہ وہ اسے عوام کے سامنے لے کر آئے۔ وہ اسے پارکنگ میں چھپا کر ہی رکھے گا۔ اس کی آمد و رفت معمولی گاڑی میں ہوگی جو عوام کے پاس ہیں۔
ظاہر ہے جب مہنگی گاڑیاں استعمال نہيں ہوں گی تو پھر اس کے شوق بھی پیدا نہيں ہوں گے۔
پاکستان میں صورتحال برعکس ہے۔ اب سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ سرکاری افسروں، جرنیلوں، ججوں نے بھی مہنگی گاڑیوں کی نمائش شروع کر دی ہے۔ پروٹوکول کی ٹک ٹوک وڈیوز بن رہی ہیں۔ اور عوام لاکھوں میں ان وڈیوز کو دکھاتے ہیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک غیرت اور شعور سے عاری مری ہوئی قوم کا وطیرہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان پر مسلط کئے گئے حکمران گیارہ گیارہ ارب روپے کے خصوصی جہازوں میں نہ گھوم رہے ہوتے۔ اور سرکاری ملازم تو جہازوں کے قریب سے بھی نہ گزرتے۔ جب قوم مر جاتی ہے تو حکمرانوں کو یہ جسارت ہوتی ہے۔
آپ سے عرض کیا تھا
بلاسفیمی گینگ کا اصل سرغنہ طاہر اشرفی ہے
جو اپنے بھائی اور راؤ عبدالرحیم کو فرنٹ پہ رکھ کر گینگ چلا رہا ہے
ہنی ٹریپ کیلئے لڑکیاں راؤ عبدالرحیم بھرتی کرتا ہے
اور مالی لین دین کیلئے الگ سے لڑکے رکھے ہوئے ہیں
اس وقت چار سو بیگناہ نوجوان جیلوں میں پڑے ہیں اور سینکڑوں ایسے ہیں جن سے انہوں نے پیسے لے کر انہیں چھوڑ دیا
برطانوی اخبار نے بھی بہت کم لکھا ہے
اصل جرم بہت بڑا ہے
توہین مذہب کے قانون کا ایسا سنگین استعمال کرنے پر بلاشبہ طاہر اشرفی اور اس کا پورا گینگ سزائے موت کا مستحق ہے
#پاکستان
(مولانا طاہر اشرفی پر ڈیلی ٹیلی گراف کی تہلکہ خیز تحقیق — تفصیلی رپورٹ کا اردو ترجمہ)
دی ٹیلی گراف
آرچ بشپ سے اعزاز پانے والے عالمِ دین کا پاکستان میں ’بھتہ خور گینگ‘ سے تعلق ہونے کا الزام
دی ٹیلی گراف کی تحقیقات کے مطابق طاہر اشرفی کے بھائی پر ایسے گروہ کی قیادت کا الزام ہے جس نے درجنوں افراد کو اغوا، تشدد اور بلیک میل کیا
میمفس بارکر، سینئر فارن کوریسپونڈنٹ
پاکستانی عالمِ دین، جنہیں آرچ بشپ آف کینٹربری نے اعزاز دیا تھا، پر توہینِ مذہب کے نام پر بلیک میل کرنے والے ایک گروہ کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، دی ٹیلی گراف کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے طاہر اشرفی کو ڈیم سارہ ملّالی نے 11 ستمبر کے حملوں کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں ان کی “مذہبی رواداری” کے لیے “غیر متزلزل عزم” کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا تھا۔
تاہم گزشتہ ہفتے “ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ” عجلت میں واپس لے لیا گیا، جب یہ سامنے آیا کہ برطانوی دہری شہریت رکھنے والے مسٹر اشرفی ماضی میں اسامہ بن لادن کو خراجِ تحسین پیش کر چکے تھے۔
اب دی ٹیلی گراف کی تحقیقات میں یہ سامنے آیا ہے کہ:
• مسٹر اشرفی کے بھائی پر ایک ایسے “توہینِ مذہب گینگ” کی قیادت کا الزام ہے جو بدعنوان سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر درجنوں افراد کو اغوا، تشدد اور بلیک میل کرتا رہا ہے۔
• مسٹر اشرفی نے اپنے بھائی کا عوامی طور پر دفاع کیا اور متاثرین کے وکلا پر “توہینِ مذہب کرنے والوں کو تحفظ دینے” کا الزام لگایا۔ انہوں نے گینگ کی تحقیقات کرنے والے ایک جج کو “کتا” بھی کہا۔
• برطانوی شہریت حاصل ہونے کے باعث مسٹر اشرفی لندن آزادانہ طور پر آتے جاتے رہے ہیں۔
پاکستان میں توہینِ مذہب کی سزا موت ہو سکتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض گروہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر “ہنی ٹریپ” کے ذریعے پھانس کر توہینِ مذہب کے زمرے میں آنے والا مواد شیئر کرواتے ہیں اور پھر ان سے رقم بٹورتے ہیں۔
دی ٹیلی گراف نے اس مبینہ پاکستانی توہینِ مذہب گینگ کا نشانہ بننے والے کئی افراد کے اہلِ خانہ سے گفتگو کی۔ ان تمام افراد نے پرتشدد انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ توہینِ مذہب کے الزام میں جیل جانے والوں کی تعداد میں بہت بڑے اضافے کے پیچھے یہی گینگ ہے۔ پاکستان کے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے مطابق 2020 اور 2021 میں ایسے تقریباً 10 مقدمات سالانہ ہوتے تھے، لیکن صرف 2023 میں یہ تعداد 200 سے تجاوز کر گئی۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ ان کے ایک رشتہ دار نے فیس بک کے ایک گروپ میں شمولیت اختیار کی اور وہاں ایک نوجوان خاتون سے تعلق قائم ہوا۔ اس خاتون نے بالآخر اسے ایک عورت کے سینے کی تصویر بھیجنے پر آمادہ کیا جس پر قرآن کی ایک آیت درج تھی۔
بعد ازاں اس شخص کو گینگ نے اغوا کر لیا اور اس سے دس لاکھ پاکستانی روپے، یعنی تقریباً 2,700 پاؤنڈ، طلب کیے۔ اس کے بعد اس کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کرایا گیا جس کے نتیجے میں اسے جیل بھیج دیا گیا۔
جلاوطنی میں کام کرنے والے پاکستانی میڈیا ادارے “فیکٹ فوکس” کی تحقیقات کے مطابق، کم از کم چار متاثرین تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک شخص کو مبینہ طور پر لکڑی کے ڈنڈے سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک اور شخص کے جسم کے نچلے حصے، بالخصوص شرم گاہ کے اطراف، شدید زخم اور نیل پائے گئے۔ جیل میں کیے گئے پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ “پیشاب رک جانا” بتائی گئی۔
متاثرین کے اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ مسٹر اشرفی کو آرچ بشپ کی جانب سے اس قدر گرمجوشی سے خوش آمدید دیے جانے پر حیران رہ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر اشرفی اور ان کے بھائی نے ان کی زندگیاں برباد کر دی ہیں۔
لیمبتھ پیلس کی تصاویر میں مسٹر اشرفی اپنی اہلیہ، جنہوں نے نقاب پہن رکھا ہے، اور ڈیم سارہ کے ساتھ مسکراتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک ذریعے نے کہا: “ہم انہیں ایوارڈ ملتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔” ان کا کہنا تھا کہ مسٹر اشرفی نے “ہمیں ایسی کھائی میں دھکیل دیا ہے جس سے ہم نکل نہیں سکتے”، اور اپنے عزیز کو رہا کرانے کی کوشش میں پیش آنے والے خطرات، مشکلات اور مالی اخراجات کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا: “ہمارے پاس جو کچھ تھا، اس نے ہم سے لے لیا۔”
ذرائع کے مطابق، مسٹر اشرفی “اچھے پولیس والے” کا کردار ادا کرتے تھے، جبکہ ان کے بھائی حسین معاویہ اشرفی “برے پولیس والے” تھے جو لوگوں کو پھانستے اور سڑکوں سے اٹھواتے تھے۔
ایک ذریعے نے کہا: “معاویہ کے لیے یہ سب کچھ کرنا اسی صورت ممکن ہے جب اسے اپنے بھائی کی حمایت حاصل ہو، کیونکہ اس کے بھائی کے انٹیلی جنس اداروں، سیاست دانوں اور بیوروکریٹس سے روابط ہیں۔”
مسٹر اشرفی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یا ان کا بھائی کسی توہینِ مذہب گینگ کا حصہ ہیں، اور ناقدین کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ انہوں نے کبھی کسی سے رقم وصول کی۔
پاکستان میں توہینِ مذہب کے ملزمان کا دفاع کرنا انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ 30 برسوں میں وکلا، ججوں اور سینیٹرز سمیت 100 سے زیادہ افراد مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔
مغرب میں مسٹر اشرفی کو پاکستان کی مسیحی اقلیت کے دوست اور سخت گیر مسلم گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں سے بات چیت کرنے کے قابل ایک شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ماضی میں ایک شیعہ مخالف شدت پسند گروہ سے وابستہ رہنے والے یہ عالمِ دین پاکستانی حکومت کی طرف سے اکثر نسبتاً ترقی پسند پیغامات بھی نشر کرتے رہے ہیں۔ وہ پولیو ویکسینیشن کی حمایت کر چکے ہیں، داعش کو “دہشت گرد تنظیم” قرار دے چکے ہیں اور اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کی حمایت بھی کر چکے ہیں۔
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے، جو مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے علما کی نمائندگی کرتی ہے، ان کے فتووں اور بیانات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
لیمبتھ پیلس نے اپنے اصل ایوارڈ اعلامیے میں 2012 میں 14 سالہ مسیحی لڑکی رمشا مسیح کے معاملے میں مسٹر اشرفی کی مداخلت کا بھی ذکر کیا تھا، جسے غلط طور پر توہینِ مذہب کا ملزم بنایا گیا تھا۔
اردو میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی واقعے کے بعد برطانیہ نے انہیں شہریت دی۔ دی ٹیلی گراف کو معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ مسٹر اشرفی کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ مسٹر اشرفی نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے شکایت کی کہ “پروپیگنڈے” کی وجہ سے ان کا ایوارڈ واپس لیا گیا۔
ایوارڈ واپس لیے جانے کے فیصلے کے ردعمل میں پاکستان علما کونسل نے کہا کہ بن لادن کے بارے میں مسٹر اشرفی کے بیانات کو “سیاق و سباق سے ہٹ کر” پیش کیا گیا۔ کونسل نے مزید کہا کہ عالمِ دین نے “پاکستان کے توہینِ مذہب قوانین کے غلط استعمال کی ہمیشہ مخالفت کی ہے”، بالخصوص “بے گناہ افراد” کے خلاف “جھوٹے الزامات” کی۔
چرچ آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر آزاد مارشل، جنہوں نے ابتدا میں مسٹر اشرفی کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا تھا، نے کہا کہ مسٹر اشرفی نے “ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے سے پہلے متعدد افراد کو رہا کرانے میں اہم کردار ادا کیا”۔
تاہم مختلف مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد ذرائع نے دی ٹیلی گراف سے گفتگو میں اس دعوے سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چرچ آف پاکستان کے ریاست کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
جلاوطنی میں مسیحیوں کے خلاف ظلم و ستم کے معاملات پر کام کرنے والے انسانی حقوق کے کارکن سردار گل نے کہا: “وہ بہت کم مقدمات میں ملزمان کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں، اور صرف ان معاملات میں جو بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کر لیں۔” ان کے مطابق مسٹر اشرفی نے مسیحیوں کا دفاع صرف “بین الاقوامی دباؤ” کے باعث کیا۔
2022 میں امریکی محکمہ خارجہ نے بھی نوٹ کیا تھا کہ مسٹر اشرفی کے بھائی نے احمدی برادری کے کئی افراد کے خلاف توہینِ مذہب کی شکایات درج کرائی تھیں۔ احمدیوں کو پاکستان کے سخت گیر مذہبی حلقے مسلمان تسلیم نہیں کرتے۔
2020 میں مسٹر اشرفی نے سابق وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا تھا کہ انہوں نے احمدیوں کو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم ایک سرکاری کمیشن سے خارج رکھا۔ سردار گل نے کہا: “وہ احمدیوں کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں۔”
اور پاکستان میں تیرے جیسے حرامزادے مزہب کے دلے پیدا ہوگئے جنہوں نے فرقہ واریت کی آگ میں ملک کو جھونک دیا۔
ایران 50 سال سے معاشی پابندیاں بھگت رہا ہے اسرائیل سے مقابلہ کررہا ہے
اور جن ملکوں کے تم نام لے رہے وہ سب اسرائیل کی گود میں بیٹھے ہیں۔
حرامزادہ
اب ان سب حقائق کے سامنے کھڑے ہو کر سوچیے۔ ایک عالم جو خلیج کی تعریف میں قلم اٹھاتا ہے، ایران کو غربت کا مجرم ٹھہراتا ہے، اور مدرسوں کی سعودی فنڈنگ پر خاموش رہتا ہے، وہ کس تاریخ کا نمائندہ ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ خلیجی پیٹرو ڈالر نے پاکستان کو دوہری نقصان پہنچایا۔ ایک طرف سستے مزدوروں کی برآمد سے صنعت کاری کمزور ہوئی۔ دوسری طرف مدرسوں کی فنڈنگ سے مذہبی فضا بگڑی۔ ایران نے پابندیوں کے باوجود اپنی صلاحیتیں بڑھائیں۔ خلیج نے تیل بیچ کر دوسروں کو خرید لیا۔
یہ تحریر کسی کی ذاتی دشمنی نہیں۔ یہ تاریخ کے ان صفحات کا خلاصہ ہے جو اکثر چھپائے جاتے ہیں۔ جو چاہے انہیں پڑھے۔ جو چاہے نظر انداز کرے۔ مگر تاریخ خود کو نظر انداز نہیں کرتی۔ 2/2
سلام وعلیکم دوستو !
ان مولانا صاحب نے خلیج کے تیل کے کنووں کو خوشحالی کا چشمہ قرار دیا اور ایران کو چالیس سالہ غربت کا مجرم ٹھہرایا۔ یہ بیان اتنا صاف اور اتنا سادہ ہے کہ اسے پڑھ کر کوئی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ مگر حقیقت ہمیشہ سادہ نہیں ہوتی۔ حقیقت اکثر ان صفحات پر لکھی ہوتی ہے جنہیں ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔
خلیجی ریاستوں نے تیل نکالا۔ اس میں شک نہیں۔ سعودی عرب، امارات، قطر اور کویت نے زمین کے نیچے سے نکلنے والی دولت کو اوپر لایا اور اپنے شہریوں کو خوشحال بنایا۔ لاکھوں پاکستانی مزدور ان ممالک میں کام کرتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے۔ مگر یہ روزگار کس قسم کا ہے؟ وہ روزگار جس میں ایک پاکستانی مزدور معمولی سی بات پر دفتر کے کمرے میں کھڑا رہتا ہے اور اس کے چہرے پر تھپڑ پڑتے ہیں۔ یہ روزگار نہیں، سستے لیبر کی تجارت ہے۔ پاکستان کی صنعتیں مر رہی ہیں اور نوجوان نسل خلیج کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ یہ خوشحالی نہیں، ایک رینٹیئر نظام ہے جو خود کچھ پیدا نہیں کرتا، صرف بیچتا ہے۔
اب ایران کی طرف نگاہ اٹھائیں۔ ایران پر دنیا کی سخت ترین پابندیاں ہیں۔ تیل بیچنا مشکل، بینک اکاؤنٹ کھولنا ناممکن، ادویات تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اس کے باوجود اس نے اپنی عوام کو صحت کا نظام دیا۔ یونیورسل ہیلتھ کوریج نوے فیصد سے اوپر۔ عمر کی توقع پچپن سال سے بڑھ کر چوہتر، پچھتر سال۔ بچوں کی اموات عالمی اوسط سے کم۔ نوے فیصد ادویات خود بناتا ہے۔ میڈیکل یونیورسٹیز نو سے اڑسٹھ ہو گئیں۔ نینو ٹیکنالوجی میں دنیا کے پہلے پانچ ممالک میں شامل۔ بائیو ٹیکنالوجی میں اسلامی دنیا کا سربراہ۔ خواتین کی خواندگی اور اعلیٰ تعلیم میں اکثریت۔ یہ غربت نہیں۔ یہ پابندیوں کے جنگل میں خود انحصاری کی کہانی ہے۔
اب مدرسوں کی طرف آئیے۔ یہاں تاریخ اپنی سب سے تلخ حقیقت بتاتی ہے۔
پاکستان میں روایتی اسلام صوفیانہ، معتدل اور مقامی روایات سے جڑا ہوا تھا۔ دیوبندی اور بریلوی دونوں دھارے اپنی جگہ موجود تھے، مگر وہابی یا اہلِ حدیث اثر و رسوخ محدود تھا۔ پھر انیس سو ستر کی دہائی آئی۔ ایران میں انقلاب ہوا اور افغانستان میں سوویت حملہ۔ سعودی عرب نے دونوں محاذوں پر اپنا نظریہ پھیلانا شروع کیا۔ پیسہ آیا۔ بہت سا پیسہ۔
امریکی سفارتی کیبلز اور آزاد محققین کے مطابق جنوبی پنجاب میں سالانہ تقریباً ایک سو ملین ڈالر اہلِ حدیث اور دیوبندی مدرسوں تک پہنچتے رہے۔ بعض تخمینوں کے مطابق عالمی سطح پر سعودی فنڈنگ ستر سے سو ارب ڈالر تک پہنچی۔ پاکستان میں مدرسوں کی تعداد دو سو چوالیس سے بڑھ کر چوبیس ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ ان میں سے ہزاروں سعودی پیسے سے تعمیر یا چلائے گئے۔ اہلِ حدیث مدرسے خاص طور پر اس سے مستفید ہوئے۔
یہ پیسہ صرف عمارتوں کے لیے نہیں تھا۔ یہ نظریہ لے کر آیا۔ صوفی خانقاہوں کی جگہ سخت گیر تعبیرات نے لے لی۔ مقامی روایات کو بدعت قرار دیا گیا۔ ایران دشمنی کو ایمان کا حصہ بنا دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی مذہبی فضا بدل گئی۔ وہ معتدل اسلام جو صدیوں سے اس سرزمین پر پروان چڑھا تھا، آہستہ آہستہ پس پشت چلا گیا۔ مدرسے جو کبھی علم کے مراکز تھے، اب اکثر نظریاتی تربیت گاہیں بن گئے۔
یہ بربادی صرف تعلیمی نہیں تھی۔ یہ سماجی اور سیاسی بھی تھی۔ نوجوان نسل کو ایک ایسے اسلام کی تعلیم دی گئی جو دنیا سے الگ تھلگ، سخت گیر اور دشمنوں کی فہرست سے بھرا ہوا تھا۔ پاکستان کی داخلی شدت پسندی کی جڑیں اسی زمین میں پیوست ہیں۔
اور پھر یمن۔ مارچ انیس سو پندرہ سے سعودی قیادت والے اتحاد نے دو لاکھ چوہتر ہزار سے زیادہ فضائی حملے کیے۔ شہری ہلاکتیں دسیوں ہزار۔ بھوک اور قابلِ علاج بیماریوں سے دو لاکھ تئیس ہزار سے زیادہ اموات، جن میں اکثریت پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔ ہسپتال، اسکول، پانی کے ذخائر، بجلی کے گرڈ، بندرگاہیں سب تباہ۔ یہ خوشحالی کا دوسرا رخ ہے۔
سوڈان میں متحدہ عرب امارات نے ریپڈ سپورٹ فورسز کو ہتھیار، ڈرونز اور کولمبیائی مرسنریز فراہم کیے۔ ایل فاشر کا قتل عام، جسے متعدد رپورٹس میں جنو سائیڈ کے زمرے میں رکھا گیا۔ ابو ظہبی انکار کرتا رہا، مگر ثبوت جمع ہوتے رہے۔
آلِ سعود کی تاریخ بھی کوئی پوشیدہ نہیں۔ انیس سو چوبیس اور پچیس میں طائف کا قتل عام، مدینہ کا محاصرہ، جنت البقیع اور معلیٰ کی قبور مسمار۔ حرم کو فتح کا انعام بنایا گیا اور پھر “اصلاح” کا نام دے کر تاریخ مٹا دی گئی۔
اور حالیہ برسوں میں ایک اور حقیقت سامنے آئی۔ محمد بن سلمان کی تصویر جیفری ایپسٹین کے ساتھ۔ ایپسٹین کے مین ہٹن مینشن میں ایم بی ایس کی فریم شدہ تصویر۔ اور خانہ کعبہ کا کسوہ۔ وہ مقدس کپڑا جو لاکھوں مسلمانوں نے چھوا تھا، یو اے ای سے وابستہ رابطوں کے ذریعے ایپسٹین کے گھر بھیج دیا گیا۔ تین ٹکڑے۔ “آرٹ ورک” کے نام پر۔1/2
فریال تالپور ہو یا پوری پیپلز پارٹی یہ کوئی سندھ کے سگے نہیں ہیں کہ انھیں سندھ کی تقسیم کا دکھ ہو یہ وہ پارٹی ہے جو سندھ پر چالیس سال سے قابض ہے سارا دکھ سندھ کا بجٹ اکیلے ہڑپ کرنے کا ہے۔ اور دوسرا بڑا دکھ بھتہ وصول کرنے کا ہے۔جس میں کوئی شراکت دار نہیں چاہیے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کو موہنجوڈرو بنا دیاہے سندھ کھنڈرات کا منظر پیش کرتاہے کراچی جیسا بڑا شہر کسی قدیم کھنڈر کی باقیات لگتا ہے ۔ نہ پانی ہے نہ گیس نہ انفااسٹرکچر نہ سیکیورٹی ۔لیکن انھیں سندھ کی تقسیم پر اعتراض ہے کیونکہ یہ سندھ کی بجٹ کے نام پر سندھ کو ابھی مزید لوٹنا چاہتے ہیں ۔ ابھی تک بھی سندھ کی بندرگاہوں سے سندھ کا پیسہ کشیوں کے ذریعے باہر منتقل کرنا چاہتے ہیں ۔لعنت ہو سندھ کے ڈاکوں پر ۔
جیدے چنگڑ ظالم کو ظلم سے روکنا اخلاقیات کی تباہی نہیں ہوتا
بنگالی خواتین کا ریپ اخلاقیات کی تباہی تھا، قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح کے بہن بھائی جیسے مقدس رشتے پر انگلیاں اٹھانا اخلاقیات کی تباہی تھا
ڈی چوک مریدکے راولا کوٹ لوگوں کے سروں پر گولیاں مارنا اخلاقیات کی تباہی تھا اور پھر تیرے جیسے بد نسلے کا کیمرے کے سامنے بیٹھ کر ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم ثابت کرنا اخلاقیات کی تباہی کی بہترین مثال ہے
ہمارے جغادری مولویوں نے ساری زندگی یہی بتایا کہ جیسی عوام ویسے حکمران جبکہ مولانا اسحاق مرحوم اللہ غریق رحمت کرے بتا رہے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے
مدلل گفتگو اس موضوع پر ہر کسی کو سنوائیں اپنے گردونواح میں
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
جو لوگ اعتراض کرتے کہ امام حسین علیہ سلام اور آل پہ مسلمان آج تک روتے کیوں ہے۔۔
ان کے لیے شام غریبان کی ایک منطر کشی کی گئی جب کے یہ صرف کچھ لوگ ہے کربلا میں 9 لاکھ یزیدی فوج تھی جب کہ اہلبیت ع کئ صرف عورتیں اور بچے رہ گے تھے🥹
#عاشورہ#شام_غریبان
'میں ایک معقول سائز کا ٹیکس پیئر ہوں۔ اور ٹیکس چوری کا کبھی سوچا نہیں لیکن اس ٹیکس کے بدلے مجھے اور میرے بچوں پر حکومت پاکستان ایک پیسا خرچ نہیں کرتی
ہم پرائیویٹ سوسائٹی میں رہتے ہیں، مطلب ہماری گلیاں، ، سڑکیں، فٹ پاتھ، پارکس سب پرائیویٹ پیسے سے بنی ہیں۔ گھر میں سولر لگا ہوا ہے، بچے اور گرینڈ چلڈرن سب پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھے اور پڑھتے ہیں۔ کوئی بچہ سرکاری نوکری نہیں کرتا۔۔ کوئی سرکاری مفتا نہیں، سیکورٹی اور صاف صفائی کا بندوبست بھی پرائیویٹ ہے۔۔ ہر سروس کی ہم قیمت ادا کرتے ہیں۔ کبھی کسی سرکاری اسپتال ہم نہیں گے۔
یہ بھی یقین ہے اپنی جان، مال، عزت کی حفاظت خود اپنے ہاتھوں میں ہے ریاست کچھ مدد کرنے والی نہیں۔ ہاں ریاستی اداروں کی بدمعاشی اور جابجا پابندیاں البتہ روز خون ضرور جلاتی ہیں۔۔
میرے ٹیکس کے پیسے کہاں جاتے ہیں طاقت ور ایلیٹ کی سرکاری عیاشی پر۔۔۔ دس بیس تیس کروڑ کی گاڑیاں ان کے آگے پیچھے چلتی ہیں۔ محلات میں رہتے ہیں۔ ہر سہولت مفت ہے، نوکروں اور گن میوں کی فوج ساتھ ہوتی ہے۔ فائو سٹار بیرون دورے ہوتے ہیں۔۔۔' 7 سٹار مفتے میس ہیں، تمام صحت افزا اور حوبصورت تفریحی مقامات پر مفتے گیسٹ ہاوسز ہیں۔۔
تحریر سر ارشد محمود