پمز اسپتال کے معاملے پر سینیٹر پلوشہ خان نے نظام کی سنگین خامیوں پر سوال اٹھا دیے,
30 تاریخ کو شکایت کا نوٹس لینے کے باوجود اسی روز پیش کی گئی رپورٹ نے کئی سوالات کھڑے کر دیے, سینیٹر پلوشہ خان نے ریٹائرڈ افسران کی نام نہاد کمیٹیوں کو مسترد کرتے ہوئے شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
#PIMS
@PalwashaKhan18
سنگاپور اور چین ایک، دو یا پانچ سال میں ترقی یافتہ نہیں ہوئے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان کی قیادت نے پہلے یہ طے کیا کہ ملک کو جانا کہاں ہے، پھر اپنے وسائل، جغرافیہ، انسانی سرمائے اور حالات کے مطابق ایک معاشی ecosystem بنایا۔ سنگاپور میں Lee Kuan Yew نے یہی کیا اور چین میں Deng Xiaoping نے سوشلسٹ جمود سے نکلتے ہوئے معاشی pragmatism اختیار کیا۔ ان سے منسوب مشہور جملہ تھا کہ بلی کالی ہو یا سفید، فرق نہیں پڑتا، اصل بات یہ ہے کہ وہ چوہا پکڑتی ہے۔ یعنی نظریاتی نعروں سے زیادہ نتیجہ اہم ہے۔
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اداروں کی کمی نہیں، سمت کی کمی ہے۔ SMEDA ہے، EDB ہے، TDAP ہے، Board of Investment ہے، صوبائی investment boards ہیں، Small Industries Corporations ہیں، Special Economic Zones کے ادارے ہیں، Chambers of Commerce ہیں، وزارت صنعت اور وزارت تجارت ہیں اور ان کے نیچے مزید درجنوں ادارے، اتھارٹیز اور کمپنیاں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے اداروں، افسروں، دفاتر، گاڑیوں، تنخواہوں اور بجٹ کے مقابلے میں measurable economic output کیا ہے؟
میرے نزدیک ہمیں پورا model الٹنا ہوگا۔ ریاست جس نئی صنعت کو facilitate کرے، اسے بنیادی طور پر دو میں سے ایک مقصد پورا کرنا چاہیے: یا وہ Export Oriented ہو یا Import Substitution۔ یعنی یا ڈالر کمائے یا ڈالر بچائے۔ سرکاری زمین، سستی بجلی، financing، tax concessions اور دوسری مراعات بھی انہی industries کو ترجیحاً ملنی چاہئیں جو ان دونوں مقاصد میں سے کسی ایک کو پورا کریں۔
اس کے بعد پاکستان اور خصوصاً پنجاب کی district-by-district industrial mapping ہونی چاہیے۔ ہر ضلع اور division میں دیکھا جائے کہ وہاں کون سا raw material ہے، agricultural output کیا ہے، skill set کیا ہے، logistics، پانی اور توانائی کی صورتحال کیا ہے اور کون سی value-added industry وہاں عالمی منڈی میں competitive ہوسکتی ہے۔ صنعت وہاں لگنی چاہیے جہاں اس کا قدرتی ecosystem موجود ہو، نہ وہاں جہاں کسی بااثر شخص نے پہلے سے زمین خرید رکھی ہو۔
Energy policy کو بھی اسی industrial policy سے جوڑنا ہوگا۔ پنجاب پہاڑی دریاؤں کے اعتبار سے KP یا AJK جتنا خوش قسمت نہیں، مگر اس کے پاس دنیا کے بڑے irrigation networks میں سے ایک موجود ہے۔ سرکاری assessments میں پنجاب کے canals اور rivers پر سینکڑوں potential hydropower sites identify کی گئی ہیں۔ جہاں economically viable canal-based hydel، solar، biomass یا دوسری localized generation ممکن ہو، وہاں بجلی پیدا کریں، آس پاس دستیاب سرکاری زمین پر localized industrial clusters بنائیں اور export-oriented industries کو competitive اور predictable بجلی دیں، مگر بدلے میں واضح export، investment اور employment targets لیں۔
ہمارے entrepreneurs کا مسئلہ بھی صرف سرمائے کی کمی نہیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس سرمایہ موجود ہے مگر انہیں معلوم نہیں کہ اگلے دس سال میں دنیا کیا خریدے گی، پاکستان کہاں competitive ہوسکتا ہے، کون سی technology چاہیے اور کس ملک یا کمپنی کے ساتھ joint venture کرنا چاہیے۔ ریاست کا کام ایک feasibility bank بنانا ہونا چاہیے: فلاں ضلع میں فلاں product، اتنی investment، یہ technology، یہ raw material، یہ export market اور یہ projected return۔ Entrepreneur کو صرف قرض یا NOC نہ دیں، اسے investable opportunity تیار کرکے دیں۔
Foreign investment کے ساتھ بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔ کوئی foreign investor آئے تو ہم اس سے یہ نہ پوچھیں کہ آپ پاکستان میں کیا لگانا چاہتے ہیں؛ ہمارے پاس پہلے سے مکمل homework موجود ہو کہ ہمیں آپ سے کیا لگوانا ہے۔ خصوصاً چین کے حوالے سے یہ ایک غیر معمولی موقع ہے۔ Chinese manufacturing کو tariffs، trade barriers اور global overcapacity کے دباؤ کا سامنا ہے۔ EU کا چین کے ساتھ goods trade deficit 2025 میں تقریباً €360 billion، یعنی اوسطاً قریب ایک ارب یورو روزانہ تھا۔ پاکستان کو sector-by-sector proposals کے ساتھ Chinese manufacturers کو یہاں لانا چاہیے، ترجیحاً local partnerships اور joint ventures میں، تاکہ capital کے ساتھ technology اور skills بھی transfer ہوں اور پیداوار پاکستان سے export ہو۔
نئی صنعتیں لگنے سے power sector کو بھی فائدہ ہوگا۔ ہماری installed capacity اور fixed/capacity obligations موجود ہیں مگر industrial demand مطلوبہ سطح پر نہیں۔ productive industrial consumption بڑھے گی تو system کے fixed costs زیادہ units پر spread ہوں گے اور فی یونٹ burden کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔ یعنی competitive electricity سے industry ہی نہیں، electricity system کی economics بھی بہتر ہوسکتی 1/2
The deaths of 11 babies in Sahiwal’s hospital fire in 2024 and 14 newborns at PIMS Islamabad this week expose a deeply troubling failure of hospital safety standards in Punjab. When nurseries become death traps, accountability cannot wait. Hospitals of Islamabad & Punjab urgently need mandatory fire audits, functional emergency exits, trained staff and enforceable safety protocols. #PIMS
یہ نواز شریف کے ذاتی ملازم سیکرٹری کا پروٹوکول ہے۔۔۔
اس ذاتی ملازم کا واحد میرٹ لندن میں نوازشریف کی رہائش گاہ کے باہر PTI والوں سے گالیاں کھانا اور انہیں گالیاں نکالنا تھا۔ دھاندلی لیگ کو اندازہ ہی نہیں کہ انہی حرکتوں کی وجہ سے عوام میں ان کے خلاف نفرت کس قدر بڑھ چکی ہے۔
Every MNA and senator in the House on Friday raced to wail over the PIMS tragedy.Thunderous speeches..But almost no one said the quiet part: when they last went there themselves — or sent a parent, a child, a spouse — for treatment.Grief is easy. Using the same hospital as ordinary Pakistanis is not.
میڈم وزیراعلی جب خود بارہ ارب کا جہاز لے کر اُڑتی پھرے گی تو ذاتی ملازمین نے بھی سرکاری خزانے کو چوری دا مال سمجھ کر ڈانگاں دے گز ہی کرنے ہیں۔
یہ میڈم وزیراعلی کا معاون خصوصی ہے جو کسی سرکاری کام کے لئے پروٹوکول لئے نہیں پھر رہا بلکہ کسی پتلو نامی ٹک ٹاکر سے ملنے اس کے گھر گیا ہوا ہے۔
Sad story of current Pakistan:
Baluchistan
KP
Hospitals
Rape victims
HIV in children
Cricket Team
Vs. Free fuel for federal, provincial officials, protocols, sugar scandals+++++
SSP Fida Hussain should be suspended.
The woman assaulting another woman with an Iron dumbbell should be arrested and charged with assault, and grievous bodily harm.
All the police officers involved should be suspended.
The guy who broke the CCTV camera should be arrested.
McKinsey CEO Bob Sternfels says the firm now has 60,000 employees — including 25,000 AI agents.
That is remarkable.
But McKinsey’s own transformation research has long warned that around 70% of transformations fail.
So the lesson is not that AI agents will automatically transform organisations.
Technology can increase speed, scale and productivity. But real transformation still depends on people who can learn, adapt, exercise judgement and keep changing without breaking.
In the AI age, the real moat is not the algorithm alone.
It is human capacity.
https://t.co/fJlTtVIhog
گڈ گورنس کیسے ہو گی جب وزیراعظم نے
سیکرٹری ماحولیات کو سیکرٹری آبی ذخائر کا چارج بھی دیا ہوا ہے۔ سیکرٹری فوڈ سیکرٹری BISPہیں،سیکرٹری صحت سیکرٹری ہاوسنگ بھی ہیں، کیا قابلُ بیوروکریٹس ختم ہوچکے ،1سیکرٹری کے پاس زیادہ عہدے کیوں؟
ڈاکٹر مہیش کمار، چیئرمین قائمہ کمیٹی صحت
وفاقی وزارت صحت کا وزیر ہونا ہی نہیں چاہیے۔ سرکاری اسپتالوں کو سندھ کی طرح ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر جمال جیسے قابل ڈاکٹرز کے حوالے کریں۔۔ کیا پنجاب، کے پی، اسلام آباد میں ایسے قابل ڈاکٹرز نہیں ہیں۔ کل پارلیمنٹ میں پمز واقعے پر بحث ہو گی۔ کمیٹی رپورٹ آ جائے پھر قائمہ کمیٹی اجلاس لائیو کرنے کے بارے میں دیکھتے ہیں۔
#FaislaAapKa TEAM | Hum News
چیرمین بلاول بھٹو نے کشمیر الیکشن میں عوام کے حق حاکمیت کی بات کی تھی جبکہ دھاندلی لیگ کے نواز شریف نے ایک غیر منتخب اور عوام کے دھتکارے ہوئے شخص کو وزیراعظم نامزد کر کے عوام کے حق حاکمیت پر ڈاکہ ڈالا ہے۔۔۔
This is Sukkur Sindh’s children hospital and Urdu media must compare this with Islamabad PIMS, Sukkur hospital is state of the art & best in whole Pakistan.
Thanks to President Asif Zardari for 18th amendment & devolution of health dept to province.
Strict enforcement of axle-load limits is essential. For years, vested interests have lobbied to dilute or circumvent these limits. The result is increasingly visible—our motorways are deteriorating, causing serious damage to a valuable national asset. This must be addressed.
@PakPMO@NHMPofficial@nha_pakistan1