@KFAnimationz@qamberzaidii United Nations (UN) ke Charter aur international law ke tahat, agar koi mulk kisi doosre mulk par hamla karne ke liye apni zameen, resources, ya sahulat (facilitation) faraham karta hai, toh ise "Act of Aggression" ka hissa mana jata hai.
🚨🇵🇰🇱🇧🇮🇱 BREAKING: "Israel is evil and a curse for humanity, while peace talks are underway in Islamabad, genocide is being committed in Lebanon
I hope and pray people who created this cancerous state on Palestinian land to get rid of European jews burn in hell."
- Pakistani Defense Minister Khawaja M. Asif
@paglii_dewanii بلکہ یہ ہے کہ اس 'فیس سیونگ' کے بدلے پاکستان نے اپنے لیے طویل مدتی استحکام کتنا حاصل کیا؟ صرف توازن برقرار رکھنا کافی نہیں، اس توازن سے فائدہ اٹھانا اصل مہارت ہے
@paglii_dewanii تحریر میں پیش کیا گیا نکتہ دلچسپ ہے، لیکن کیا ہم صرف 'بڑی طاقتوں' کے کھیل کو ہی سب کچھ تسلیم کر لیں؟ عالمی سیاست اب یکطرفہ نہیں رہی۔ پاکستان کا کردار صرف ایک سہولت کار کا نہیں بلکہ ایک ایسے فریق کا تھا جس کے اپنے مفادات اس عمل سے جڑے تھے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ راستہ کس نے دیا،
1/2
@paglii_dewanii بلکہ یہ ہے کہ اس 'فیس سیونگ' کے بدلے پاکستان نے اپنے لیے طویل مدتی استحکام کتنا حاصل کیا؟ صرف توازن برقرار رکھنا کافی نہیں، اس توازن سے فائدہ اٹھانا اصل مہارت ہے۔
@paglii_dewanii علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے“
سنن ترمزی
https://t.co/MruXkJGIXO
@grok@maaya_sub@Ulame_Deoband علماء سے زیاہ گروک محترم بن گیا ہے آجکل، اس حدیث کا مسئلہ یہ ہے کہ خراسان کے مطعلق ہے جس کو ڈاکٹر اسرار صاحب نے بھی بیان فرمایا پر ہمارا دل قبول کرے تب نا
علامہ طالب جوہری اعلی اللہ مقامہ کی سنہ 2005 میں پی ٹی وی پر پڑھی مجلس شام غریباں کا یہ مختصر حصہ سوشل میڈیا پر لاتعداد بار شئیر ہوتا رہا اور دیکھا گیا۔ اس مختصر ویڈیو کی خاصیت یہ ہے کہ آپ اسے بار بار بھی دیکھیں تو آپ کا دل نہیں بھرے گا۔ علامہ صاحب نے جس قدر خوبصورت اور مدلل انداز میں قرآن کے الفاظ کن فیکون کو اعلان غدیر کے الفاظ فھذا علی ع مولا سے مربوط کرکے استدلال قائم کیا ہے، اسے سن کر ہر بار بے اختیار داد دینے کا دل چاہتا ہے۔
البتہ اس مختصر ویڈیو میں موجود علمی استدلال کے علاوہ جس پہلو نے مجھے ہر بار متاثر کیا وہ علامہ صاحب انداز کلام، چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کی حرکت، سامعین کے ساتھ ان کی کیمسٹری اور باڈی لینگویج یعنی بدن بولی ہے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ان کا پورا وجود اس "غدیری" نکتے کو بیان کرنے کیلئے ان کی زبان کے ساتھ مکمل synchronized ہے۔
علامہ صاحب جب درجہ بدرجہ آگے بڑھتے ہوئے، سامعین کے دماغوں کو منصف بنا کر سوال پوچھتے ہوئے اور "ف" کے حرف میں چھپا راز بیان کرتے ہوئے جب پنچ لائین تک پہنچتے ہیں تو سننے اور دیکھنے والا خود کو چشم تصور میں کسی ایسے عظیم ترین منظر کا منتظر پاتا یے جسے چودہ صدیاں قبل لاکھوں کے مجمعے نے دیکھا تھا۔ اگلے ہی لمحے علامہ صاحب کی آواز سنائی دیتی ہے کہ "بھئی یہی تو میرے نبی ص نے کہا تھا کہ من کنت مولا" اور پھر بغیر کسی وقفے اور فاصلے کے اگلا جملہ سنائی دیتا ہے "فھذا علی ع مولا"۔ سننے والے کے کانوں سے فھذا علی ع مولا کے الفاظ ٹکراتے ہیں اور آنکھیں علامہ صاحب کے ہاتھوں کا اشارہ دیکھتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انسان کا وجود صدیوں کا فاصلہ ہونے کے باجود میدان غدیر سے متصل ہوگیا ہے۔
۔
علامہ صاحب نے جو استدلال قائم کیا وہ ان کے علم کی دلیل تھا لیکن انہوں نے مجھ جیسوں کو چشم تصور میں میدان غدیر کا جو نظارہ دکھلایا، وہ ان کی بے مثل خطابت کا اور قادر الکلام ہونے کا اعلی ترین ثبوت تھا۔ عید غدیر کی ان با برکت ساعتوں میں علامہ طالب جوہری اعلی اللہ مقامہ کی یہ مختصر ویڈیو ان کے درجات میں مزید بلندی کی دعاوں کی درخواست کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں۔ آپ اسے علامہ صاحب کی جانب سے مولائے کائنات علیہ السلام کے چاہنے والوں کیلئے عیدی بھی سمجھ سکتے ہیں۔
۔
۔#نوردرویش