فورسز نے نہ ختم ہونے والی سٹریٹ فائرنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور عوام اپنے سینے پیش کر کہ جام شہادت نوش کر رہے ہیں، دنیا والو ہم رہے نہ رہے آ پ گواہ رہنا ہمارے کلمہ گو بھائیوں نے کشمیریوں کی نسل کشی کی تھی۔۔۔!
#RightsMovementAJK
ابھی تک شہداء اور زخمیوں کی درست تعداد معلوم نہیں، مگر یہ بات یقینی ہے کہ دونوں کی تعداد کم نہیں۔ مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ ابھی شروع ہی ہوا ہے اور فورسز نے مظاہرین پر جان لیوا طاقت کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ تشدد کی کوئی بھی سطح اس مارچ کو نہیں روک سکتی۔ آج یہ مارچ ہر صورت راولاکوٹ میں داخل ہوگا، چاہے اس کی قیمت کتنی ہی جانوں کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
مختصر یہ کہ ہم غلاموں کی طرح جینے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ خون کے پیاسے جرنیل خود کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ فیصلہ کریں گے ہم اپنی سڑکوں پر چل سکتے ہیں یا نہیں، اپنے گھروں کو جا سکتے ہیں یا نہیں، جلوس نکال سکتے ہیں یا نہیں۔
ہمیں یہ ہرگز قبول نہیں۔
خدا کی قسم، نہ ہمیں تم پر حیرت ہے اور نہ مایوسی۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم کس مٹی کے بنے ہوئے ہو۔
صرف اس لیے کہ لوگ مظفرآباد کی طرف مارچ نہ کر سکیں، ان پر اس قدر بے دریغ طاقت استعمال کی جا رہی ہے۔ ذرا ان لوگوں کی ڈھٹائی اور بے شرمی کا تصور کیجیے۔
بہرحال، مظفرآباد جانے والا راستہ اب کھل چکا ہے۔ اگر کسی مرحلے پر آپ محسوس کریں کہ حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو اپنے کیمپوں کی طرف واپس چلے جائیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، دونوں جانب کی جانوں کے تحفظ کے لیے فوج کو بھی اپنی بیرکوں میں واپس چلے جانا چاہیے۔
بنوں آپریشن / پی ٹی آئی حکومت کی قلابازیاں
شفیع جان صحافیوں پر کیوں برس پڑے؟
23 پارلیمانی سیکرٹریز لیکن جنتا اب بھی ناخوش
بھارتی جین زی اچھی ہمارے والی غدار
مکمل وی لاگ دیکھنے کے لئے لنک کلک کریں
https://t.co/lmGvTt4U7w
جو خود پروجیکٹ ہیں اور ہر حق کی آواز کو اپنی طرح پروجیکٹ سمجھتے ہیں، ان پروجیکٹ والوں کو خبر ہونی چاہیے کہ مولانا ایک حقیقی، عوامی اور روایتی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، کسی جنرل یا کرنل کے تیار کردہ سیاسی پروجیکٹ کے نہیں
#چوکیدار_وڑگیا#مولانا@iHafizHamdullah#مرد_آہن_مولانا
وزیراعلیٰ صاحب! جو شخص 2008 میں ق لیگ، 2013 میں مسلم لیگ (ن)، 2018 میں باپ پارٹی اور آج پیپلز پارٹی میں ہے، وہ آج ہمیں وطن سے وفاداری اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہا ہے۔ جو اقتدار کی خاطر بار بار جماعتیں بدلتے رہے، وہ قوم، اصول، امن اور اپنے وطن کی بات کرنے والوں پر انگلی اٹھانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔
ہم اپنے وطن کے وارث کسی حکومت یا ریاست کے بننے کے بعد نہیں بنے، بلکہ اس دھرتی سے ہمارا رشتہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ چمن سے لے کر پشتونخوا اور بلوچ وطن تک بسنے والے لوگ اپنی سرزمین کے اصل وارث ہیں اور اپنی شناخت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
پراکسیز بنانے اور انہیں پالنے کے بدلے کروڑوں ڈالر طاقتور طبقے کی جیبوں میں جائیں، دوبارہ آبادکاری سے پی ٹی آئی اور جنرل فیض/باجوہ فائدہ اٹھائیں، جبکہ کولیٹرل ڈیمیج غریب پشتونوں کا مقدر بنے، تو یہ کون سا انصاف ہے؟ ہم نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ ماضی میں ہونے والے درجنوں فوجی آپریشنز کی عدلیہ کی نگرانی میں ایک غیر جانبدار کمیشن کے ذریعے مکمل، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
احسان اللہ خان
مرکزی ترجمان، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #IhsanUllahKhan
پھر کہتے ہیں ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں
تیرے جوانوں نے پیٹی اسی لیے باندھی ہے
تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے
تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟
تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو
میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی
میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا
آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے
الیکشن میں حصہ لیجیے
پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں
مولانا فضل الرحمان
@fawadchaudhry پنجابی ایلیٹ کلاس لوگ کبھی بھی مظلوموں کے ساتھ ہم نے کھڑا نہیں دیکھا اور نہ کبھی دیکھنے گے 1948 میں سٹیٹ نے قلات پر زبردستی سے قبضہ نہیں کیا تھا کیا سردار نوروز خان اور ان کے بیٹوں شہید نہیں کیا تھا لیکن خیر ان ایلیٹ بغیرتو کو تو حقیقت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے